محی الدین ابن العربی کے متعلق چند گذارشات

محی الدین ابن العربی کے متعلق چند گذارشات
مسعود چوہدری
حمد باری تعالیٰ میں محمد فضولی بغدادی کا ایک شعر نظر سے گزرا کہ
یا من بسط الارض و اجری الافلاک
ادراک کمالہ کمال الادراک
فی الارض و فی السماء لا رب سواک
ما نعبد یا واحد، الا ایاک
ترجمہ: اے وہ کہ جس نے زمین بچھائی ہے اور جو افلاک کو حرکت میں لایا ہے؛ اے وہ کہ جس کے کمال کو درک کرنا ادراک کی تکمیل ہے؛ زمین و آسمان پر تیرے سوا کوئی خدا نہیں ہے،؛ تیرے سوا، اے ذاتِ یگانہ، ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے۔
ابن عربی ایک صوفی بزرگ گزرے ہیں۔دنیائے اسلام کے اکثر ممالک بشمول ہمارے ہاں، ابن عربی کے افکار و نظریات کو وحدت الوجود کے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کا رجحان اس قدر عام ہے کہ اس یکطرفہ نقدو نظر نے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی کہ اس عظیم صوفی اور فلسفی کے پاس کوئی اور قابلِ ذکر فکر موجود نہیں ہے۔ جبکہ جرمنی میں ابن عربی کے کثیرالابعاد افکار کا موازنہ ایکات فان ہوک ہائیم (Eckhart Von Hochheim,1260-1327) اور نکولس کیسانیئس (Nicolaus Cusanus,1401-1464)کے نظریات سے کیا جاتا ہے۔
جبکہ جدید ترین فرانسیسی تحقیق کے مطابق ابن عربی کی کل کتب کی تعداد 846 کتب اور رسائل گنوائی گئیں ہیں۔
فہرست الموئلفات میں شیخ الاکبر ابن العربی نے خوداپنی 250 کتب کا بیان فرمایا جبکہ 633 ھجری میں آپ نے دمشق کے ایوبی سلطان کو سند اور اجازت دیتے ہوئے 290 کتب بتائیں ہیں۔ولانا جامی نے 500 اور محمد رجب حلمی نے 284 بتاء، اسماعیل پاشا بغدادی نے 475 کتب اور رسائل کے نام لکھے ہیں۔ جورجیا عواد نے 527 کتب تک رساء پاء ہے۔
چونکہ عثمان یحییٰ کی فرانسیسی زبان میں تحقیق سب سے جدید ہے لہذا انہوں نے نہ صرف ہر کتاب کو الگ سیریئل نمبر دیا ہے بلکہ عوام کی رساء سے بھی دور رکھا گیا ہے۔انکی تحقیق کے مطابق 846 کتب اور رسائل کے خالق ابن عربی ہیں۔
محی الدین ابن عربی کے چند ایک اقوال پیش خدمت ہیں۔۔۔۔۔
ظالم اپنا نام چاہے سونے کے حروف سے لکھوا لے،تاریخ میں وہ ایک سیاہ تحریر ہی ہوتی ہے۔
ظلم روکنے کے لیے اور ظالموں کو عدل کی طاقت دکھانے کے لیے آپ کو حکمرانی نصیب ہو آمین۔ (یہ دعا ارطغل کو اس وقت دی جب ارتغل غازی صرف ایک معمولی جنگجو سپاہی تھا)
بڑی فتوحات چھوٹی شکست سے ہی ملتی ہے۔
تخت، طاقت کی لالچ، عہدوں نے بہت سے بہادروں کو سیدھے رستے سے بھٹکا دیا۔
کمال صبر کی کوکھ سے پھوٹتا ہے۔
کوئی شخص اگر اپنی زبان اور خواہش پر قابو نہیں رکھ سکتا ہو تو وہ کبھی لیڈر نہیں ہو سکتا۔
تقدیر ان سے پیار کرتی ہے جو جد جہد کرتے ہیں۔
انسانوں کا اپنا جوڑ توڑ ہے تو اللہ کا اپنا حساب و کتاب ہے اور کوئی شک نہیں کہ اللہ کا حساب و کتاب سب کے لیے یکساں ہے۔
اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے علاوہ اور کسی کی اندھی تقلید کی اجازت نہیں دی ہے۔ چاہے وہ کتنے ہی بڑے مفسر، محد ث اور فقیہہ کیوں نہ ہوں۔ جو شخص اللہ کے قوانین کی نافرمانی کرتا ہے اسے کبھی عزت حاصل نہیں ہوتی چاہئے
اُس کی شہرت آسمانوں کو چھوتی ہو۔ میں وہ شخص نہیں ہوں جو صرف یہ کہہ کر مطمئن ہو جائے کہ فلاں مصنّف نے یہ کہا ہے اور فلاں نے یہ نہیں کہا۔ انسان کا جہل اس سے زیادہ کیا ہو گا کہ وہ پتھروں (جواہرات) کو جمع کرتا ہے اور قیمتی اشیاء کو ضائع کردیتا ہے۔
ہر وہ فلاحی کام جس میں آپ اپنے آپ کو خیرات سمجھتے ہو، اس پر کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے۔
مملکت انسانی ایک بادشاہت
آپ نے انسانی مملکت کو ایک بادشاہت سے تشبیہ دی ہے جس طرح ایک مملکت میں بادشاہ، وزیر، مشیر، محافظ، قاضی، سپاہ سالار، فوج اور رعایا ناگزیر ہے ویسے ہی اس جسم انسانی میں بھی یہ سب موجود ہیں۔ انسان اپنی زندگی کے مراحل ویسے ہی طے کرتا ہے جیسے کوئی پودا طے کرتا ہے، یہ جوان ہوتا ہے پھر اس سے بیج لیا جاتا ہے، کئی پودوں کی نسل چلتی ہے جبکہ کچھ کی رک جاتی ہے، پھر یہ پودا بوڑھا ہو کر ختم ہو جاتا ہے انسان کی مثال ایسی ہی ہے شیخ اکبر کے نزدیک اس انسان کا بھائی اور دوسرا پودا یہ کائنات ہے۔ کائنات کے بڑھنے کی مثال انسان میں ناخن اور بال ہیں، کائنات میں چار عناصر ہیں انسان کی تخلیق بھی انہی عناصر سے ہوئی ہے۔ کائنات میں درندے اور وحشی جانور ہیں انسان میں بھی قہر غضب کمینگی اور حسد ہے۔ جیسے کائنات میں نیک روحیں اور فرشتے ہیں ویسے ہی انسان میں اعمال صالحہ ہیں۔ زمین میں موجود پہاڑوں کی مثال انسان میں ہڈیاں ہیں۔ زمین میں بہتے دریاوں کی مثال اس کی رگوں میں گردش خون ہے۔ جیسے کائنات میں سورج ایک روشن چراغ ہے ویسے ہی جسم میں روح ایک روشنی ہے؛ جب یہ جسم سے جدا ہوتی ہے تو جسم اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ کائنات میں چاند ہے انسان میں اس کی مثال قوت عقل ہے جیسے چاند سورج سے روشنی اخذ کرتا ہے ویسے ہی عقل روح سے نور اخذکرتی ہے، جیسے چاند گھٹتا اور بڑھتا ہے ویسے ہی عقل عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہے اور پھر بڑھاپے میں کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ عالم علوی میں موجود عرش کی مثال جسم انسانی میں دل ہے اور اسی طرح کی دوسری مثالیں۔ (التدبیرات الإلہیۃ فی اصلاح المملکۃ الإنسانیۃ، انسانی مملکت کی اصلاح میں خدائی تدبیریں)
قونیا میں آپ کی آمد مشرقی تصوف میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ بنی۔ جس کا وسیلہ آپ کے شاگرد اور سوتیلے بیٹے صدر الدین قونوی بنے، جن کی ماں سے آپ کی شادی ہوئی۔ صدر الدین قونوی، جو آگے چل کر تصوف کے علائم میں شمار ہوئے، مولانا جلال الدین رومی کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ آپ نے ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم پر شرح لکھی، جو آج تک حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔ وہاں سے آپ بغداد تشریف لائے، وہاں پر یا جیسے دوسری روایات میں آتا ہے، مکہ میں آپ کی ملاقات شیخ شہاب الدین عمر بن محمدالسہروردی رسے ہوئی۔ دونوں دیر تک بغیر کچھ کہنے کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے رہے۔ پھر جدا ہو گئے۔ جب بعد میں شیخ شہاب الدین سے پوچھا گیا کہ آپ نے شیخ محی الدین کو کیسا پایا، تو انہوں نے کہا۔” میں نے انہیں ایک سمندر کی طرح پایا، جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے ”۔ ابن عربی کی رائے شیخ شہاب الدین کے بارہ میں یہ تھی۔ ” میں نے انہیں ایک عبد صالح پایا ”
محی الدین کے معنی ”دین کو زندہ کرنے والا” ہیں۔ آپ نے دلوں کو اسطرح سے زندہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کی ابتداء کے آباء سلیمان شاہ، ارطغل غازی کا قبیلہ قاء سے سلطان صلاح الدین ایوبی کی اولاد تک سب ہی آپ کیمعتمد خاص ہو گئے۔ اس اعتماد کے باوجود آپ کبھی انکے درباروں کے چکر لگاتے نہیں پائے گئے بلکہ جب بھی مسلم امہ کے حکمرانوں کو کوء مشکل پیش آئی آپ کے مشوروں اور ہدایات نے سینکڑوں مسائل کے حل بھی دیئے اور امت مسلمہ کے خلفشار و عناد کو بھی ختم کرنے کا باعث بنے۔
بلاشبہہ آپ پر تنقید اور ارتداد کے فتویٰ موجود ہیں اور ہمارے ہاں بھی انکے مخالفین کی کوء کمی نہیں۔ لیکن علمی ابحاث کو ایک طرف رکھ کہ یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ ایک صوفی باصفا کی حیثیت سے آپ نے امت مسلمہ کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرنے کا اہم ترین کام بہر حال سرانجام دیا۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکوں نے وہ عروج پایا کہ آج تک انسانی تاریخ اسکی مثالیں دیتی نہیں تھکتی۔۔۔ یہ میرا ماننا ہے کہ جہاں بھی آپ سلطنت دیکھیں گے اس کے بالکل ابتداء دور میں آپ کو راہنماء اور راہبری کرنے والے انتہاء زبردست دماغ نظر آئیں گے۔ کچھ صورتوں میں وہ صوفیاء ہیں اور کچھ میں میکاولی، چنکیہ، اقبال، رومی، ارسطو، ژو شن، سان ژو اور دیگر سینکڑوں ان جیسے فلسفی، مصلح اور سٹریٹجسٹ ہیں۔
اللہ رب العزت ہمیں اپنے اسلاف کی گمشدہ میراث کو حاصل کرتے ہوئے ایک تابناک مستقبل کی داغ بیل ڈالنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com