مودی بھارت کے لئے گورباچوف کی مانند

مودی بھارت کے لئے گورباچوف کی مانند
تحریر:مہر اقبال انجم
بھارت بھر میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،بھارتی حکومت نے توڑ پھوڑ کا الزام لگا کر مظاہرین کی پراپرٹیز ضبط کرنا شروع کر دیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران اب تک 26 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ریاست اتر پردیش میں صورتِ حال کشیدہ ہے، سکول اور کالج بند ہیں، جب کہ بیشتر حساس اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ پریشان مودی حکومت نے بھارتی ٹی وی چینلز کو مظاہروں کی کوریج سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے۔ او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا بھارت اقوام متحدہ کے وضع کردہ انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔ اقلیتوں کو ان کے حقوق بنا امتیازی سلوک کے دینا ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے برعکس اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارت میں کشیدگی سے خطے کے امن کو سنگین خطرات ہیں۔ بھارت میں مسلم اقلیت کو متاثر کرنے والے حالیہ اقدامات پر نظر ہے۔ بابری مسجد کیس اور مسلمان مخالف شہریت بل کے بعد کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ نے سخت انتباہ جمری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج کردہ اصولوں اور ذمہ داریوں اور بلاتفریق اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کرنے والے تمام متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز کی انتہائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان اصولوں کو بالادست رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں‘ ان اصولوں اور ذمہ داریوں کے برعکس کوئی بھی قدم مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پورے خطے کی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بھارتی میں متنازعہ ایکٹ 2019 کے خلاف دس سے زیادہ ہندوستان کی ریاستوں میں شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ ہندوستان کی پوری اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔ تمام اقلیتیں، بالخصوص مسلمان اس بل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اب اس ساری صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے ہندوستان کوئی فالس فلیگ آپریشن بھی کر سکتا ہے اور لائن آف کنٹرول پر انکی طرف سے اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو روز قبل بھی بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اگر بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو اسے مناسب اور بھرپور جواب ملے گا۔ گزشتہ روز جو بھارت نے اشتعال انگیزی کی اس پرافواج پاکستان نے اسکا الحمدللہ بھرپور جواب دیا ہے جس میںبھارتی فوج کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور انکی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ دنیا کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے کیونکہ مودی سرکار خطرناک کھیل، کھیل رہی ہے جس سے پورے خطے کا امن متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت میں مودی سرکار کے ہتھکنڈوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایسا ہوا لیکن ہندوستان نے کمیونیکیشن بلیک آوٹ سے اس آواز کو دبائے رکھا۔ آج آر ایس ایس کی ہندتوا سوچ نے بھارت کو تقسیم کر دیا ہے سیکولر بھارت کے حامی ایک طرف ہیں اور ہندوتوا سوچ کے حامی دوسری جانب دکھائی دے رہے ہیں۔5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد ہندوستان کے عزائم کھل کر سامنے آئے ،پاکستان نے عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانے کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان خود تشریف لے گئے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میںوزیر خارجہ شریک ہوئے۔ یورپی یونین میں، ہاوس آف کامنز سمیت ہر فورم پر حکومت نے اس مسئلے کو اٹھایا لیکن بدقسمتی سے دنیا کے بہت سے ممالک اس ساری صورتحال کو جاننے کے باوجود ہندوستان کے ساتھ اپنے کمرشل اور سٹرٹیجک مفادات کی وابستگی کے سبب خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ نجی محافل میں تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن باہر کھل کر اظہار نہیں کرتے۔ پاکستان او آئی سی کا بنیادی ممبر ہے اس کی یکجہتی کیلئے پاکستان نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے گزشتہ 5 سال کے دور حکومت میں نسلی بالادستی کے سفاک نظریے ہندوتوا کے سائے میں بھارت کا رخ ہندو راشٹرا کی جانب موڑا گیا۔ اب شہریت ترمیمی قانون کے بعد تکثیری اوصاف کے حامل ہندوستان کے خواہاں بھارتی بھی احتجاج کی راہ پرچل نکلے ہیں اور بھارت میں ایک بڑی تحریک ابھر رہی ہے۔ جب یہ محاصرہ ختم ہوگا تو قتل و غارت کا اندیشہ ہے۔ بھارت میں بڑھتے احتجاج کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے خطرہ بھی بڑھ رہا ہے اور بھارتی آرمی چیف کے بیان سے فالس فلیگ آپریشن سے متعلق ہمارے خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔ وہ ایک عرصے سے اقوام عالم کو اس صورتحال سے خبردار کررہے ہیں اور آج پھر اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ اگر بھارت کی جانب سے اپنے اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے اور ہندو قومیت کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے ایسی کسی بھی کارروائی کا سہارا لیا گیا تو پاکستان کے پاس ‘منہ توڑ’ جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
فاشسٹ مودی کے اقدامات کی وجہ سے پورے بھارت میں آگ لگ چکی ہے،بھارت میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے، تقسیم اب مذہب اور زبان تک نہیں بلکہ اب ایک نظریے کی تقسیم ہو چکی ہے، آر ایس ایس کی سوچ اور ہندوتوا کے عزائم سے بھارت تقسیم ہوچکا ہے، عالمی میڈیا میں ہندوتوا سے متعلق بحث جاری ہے، دنیا بھر کا میڈیا بھی اس وقت مودی کی اصل صورت دیکھ رہا ہے۔ مودی حکومت نے 5 اگست کے اقدامات اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کو قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے، دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہٹلر اور مودی سرکار کی آر ایس ایس کی سوچ میں مماثلت ہے، آسام میں نازی دور کی طرح کے حراستی مراکز آسام میں بنائے جا رہے ہیں، پہلے دنیا نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا لیکن اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں آگ لگ چکی ہے۔ ایک طرف لوگ سیکولر بھارت کا پرچار کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہنداتوا سوچ مسلط کر رہا ہے۔ پہلے یہ بات مقبوضہ کشمیر تک محدود تھی لیکن آسام، 5 اگست کے اقدامات، بابری مسجد کیس کا فیصلہ، شہریت کے متنازعہ قانون، جامعہ اسلامیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے واقعات نے نوجوان طبقہ کو چونکا دیا ہے جو اب باغی ہو کر سڑکوں پر آ گیا ہے۔ بھارتی حکومت پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ کانگریس ہوا دے رہی ہے ، کوئی ہوا نہیں دے رہا، مودی کے اقدامات کی وجہ سے سب ہوا، بی جے پی نے خود بھارت کو تقسیم کیا۔ بی جے پی نے الیکشن سے پہلے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا، جارکھنڈ میں بی جے پی کو عوام نے مسترد کیا ہے۔بھارت نے جنوری 2019 سے اب تک 3000 سے زیادہ مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کی ہیں، بھارت میں اس وقت کشیدگی عروج پر ہے اور یہ سب مودی سرکار کے اقدامات کی وجہ سے ہے، آج کوئی بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے 5 اگست کے اقدامات کا ساتھ نہیں دے رہا، متنازعہ ترمیمی شہریت ایکٹ 2019 کے خلاف بھی نہ صرف بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں بھارتی احتجاج کر رہے ہیں اور اس میں صرف مسلمان شامل نہیں ہیں بلکہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت سرکار نے سیکولر انڈیا کے نظریے کو دفن کردیا ہے اور ’’ہندو راشٹرا‘‘ اور ’’ہندتوا‘‘ کی سوچ کو مسلط کیا جارہا ہے۔جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں تو بات خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہت دور چلی جائے گی اور اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com