مولانا طارق جمیل کا رد عمل

مولانا طارق جمیل کا رد عمل
عمران امین
حکایت سعدی ؒکے مطابق ایک نیک اُور پرہیز گار بندے کے گھر چورگھس آیا۔ کافی تلاش کے باوجود بھی جب چور کوکچھ نہ ملا تووہ مایوس واپس لوٹنے لگا۔نیک انسان اُسی وقت بیدار ہوااُور اس چورکے راستے میں ایک تھیلی پھینک آیا تاکہ وہ مایوس واپس نہ جائے۔ یہ طرز عمل ہے اللہ کے نیک بندوں کا،اللہ سے ڈرنے والوں کا اُوراللہ کی مخلوق سے پیار کرنے والوں کا۔وہ ہر لمحہ اپنے رب کی حمد میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے ذمہ تبلیغ کے کام کو بھی سرنجام دیتے رہتے ہیں۔اس تبلیغ کے عمل میں رنگ و نسل و نسب وعہدہ کے فرق کے بغیر ہر فرد تک اپنے اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بُرے اُوراُوباش لوگوں میں بھی پاک باز ہوتے ہیں۔دنیا میں ہر سُو تاریکی ہے،جہالت کے اندھیرے ہیں،شیطان کے چیلے ہیں یہاں موتی اُور پتھر سبھی ملے ہوئے ہیں۔لہذا نیک بندے اپنے اسلاف کا سبق یاد رکھتے ہیں کہ دنیا میں موجود ہر جاہل کا بوجھ بھی عزت سے اُٹھاؤ کہ شائد کسی علم والے سے رابطہ ہو جائے،خُدا سے محبت کی خاطر بہت سے دشمنوں کو پالنا اُور اُن کے مظالم سہنے پڑتے ہیں کیونکہ پھول کو حاصل کرنے میں کانٹوں سے کپڑوں کے پھٹنے کا امکان رہتا ہے۔ چند دن پہلے انتہائی قابل عزت اُور پرہیزگار مولانا ظارق جمیل کی ذات مبارک کوچند قلم کے ساہوکاروں کی طرف سے ہدف تنقید بنانے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں چھوٹا سا دین دار طبقہ موجود ہے جو صحافت کے میناروں پر چڑھے ہوئے گمراہی کے شکارچند لوگوں کی زبان بندی کا خوب علاج کرتا ہے۔محترم طارق جمیل نے ایساکیا کہہ دیا کہ میڈیا کے بکاؤ مال اینکرز تلملا اُٹھے۔انہوں نے بس یہی کہا کہ میڈیا کا بڑا حصہ جھوٹ بولتا ہے اُور ایک چینل کے مالک نے کہا تھا کہ اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو کمائیں گے کہاں سے؟؟۔بس پھرجھوٹ،دروغ گوئی،بہتان تراشی اُور ریاکاری سے مزین چند پرہیزگار اُور انسانی حقوق کے علم برادار اینکرز اُور اُن کے ہمنواء اکٹھے ہو کر ایک ہی راگ الاپنے لگے کہ مولانا پہلے خود اپنا محاسبہ کریں پھر کسی کی بات کریں۔کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستانی میڈیا آزادی اظہار رائے کے نام پر سارا دن دُوسروں پر تنقید کرتا رہتا ہے۔سالوں سے جھوٹی خبریں دینے والے،کرپشن کا دفاع کرنے والے،لفافہ پکڑ کر PAIDپروگرام کرنے والے، بحریہ ٹاؤن میں مفت پلاٹ لینے والے،شریف فیملی اُور آل زرداری کے تلوے چاٹنے والے،دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو سپورٹ کرنے والے،پاک فوج پر الزامات لگانے والے،حکومتی اداروں سے ماہانہ منتھلی لینے والے چند مردہ ضمیر اُور بکاؤ اینکرز قندیل بلوچ کے قتل کے بھی ذمہ دار ہیں۔کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اُس کی نجی زندگی پر پروگرام کر کے وہ کون سا قومی فریضہ سرانجام دے رہے تھے؟؟۔حریم شاہ اُور صندل خٹک جیسی بازاری عورتوں کو ٹی وی ٹاک شوز میں بُلا کرہر اچھے اُور بُرے سیاست دان کی پگڑیاں اُچھالنے والوں،لوگوں کی نجی زندگیوں،بیڈ روم کہانیوں اُور بہتان تراشی کرنے والوں نے کیا آج تک قوم سے کبھی اپنے کئے کی معافی مانگی ہے؟؟۔یہ جھوٹے اُور بے ایمان اینکرز ہمیشہ سے سرکاری پروٹوکول،سرکاری دوروں،سرکاری حج،سرکاری گاڑیوں،سرکاری مشینری اُور سرکاری سفری و رہائشی سہولتوں کے عادی اُور گاہک رہے ہیں۔مگر جب ایک دیانت دار حکمران نے پچھلی حکومتوں کی قباحتوں والی میڈیا پالیسی سے توبہ کی تو یہ مخصوص افراد کا ٹولہ ہر اُس بات میں کیڑے نکالنے لگا،جس پر پہلے میڈیاخاموش رہتا تھا۔ مولانا طارق جمیل جب ماضی میں نواز شریف سے ملتے اُور اُن کو ہدایت کی تلقین کرتے تو سب ٹھیک تھا،اب عمران خان سے ملاقات پر سب سیخ پاء ہیں کیونکہ عمران خان حکومت پیسوں کی رکھیلوں کے مزیدنخرے نہیں اُٹھا رہی دُوسری طرف مولانا تو ایک مبلغ اسلام ہیں جس نے ہر اچھے اُور بُرے انسان سے ملنا،سب کو ہدایت کا درس دینا اُور صراط مستقیم کے حصول کے لیے دُعا کرنا ہے۔ یہ چند ضمیر فروش کب برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی اُن کے اصل چہرے عوام کے سامنے ننگے کرے مگر اللہ کے دُوست نے کیا خُوب جہاد کیا۔سب چوروں اُور لٹیروں کو سامنے بٹھا کر بے نقاب بھی کیا اُور بعد میں ان جاہل صحافیوں سے بحث کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے معاملہ خوبصورتی سے حل بھی کر دیا۔ایک بارحضرت بایزید بسطامیؒ حمام سے غسل کر کے نکلے۔گلی میں جا رہے تھے کہ کسی گھر سے جانے یا انجانے میں اُن کے سر پر بہت سی راکھ گرگئی۔ حضرت بایزید بسطامی ؒکا لباس،چہرہ،ریش مبارک اُور سر کے بال راکھ آلودہ ہو گئے لیکن آپؒ کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی،بلکہ دونوں ہاتھ سر پر اُور چہرے پر پھیر کربار بار اللہ کا شکر ادا کرتے اُور فرماتے”اے نفس میں تو دوزخ کے قابل ہوں ذرا سی راکھ سے منہ کیوں بناؤں“۔پس ثابت یہ ہوا کہ خاکساری عظمت میں اضافہ کرے گی جبکہ تکبر خاک میں ملا دے گا اُور بد مزاج مغرور ایک دن سر کے بل ضرورگرتا ہے۔ رہی بات عوام کو چُوراُور بے ایمان کہنے کی تو اس دعویٰ میں شک کیا ہے؟؟۔رمضان کامبارک مہینہ شروع ہوگیا ہے اُورآغازمیں ہی چیزوں کے بازاری ریٹس کا چڑھاؤ بھی سب کے سامنے ہے۔ایک شخص کو اُس کا دُوست کسی شادی میں کافی عرصے بعد ملا۔کھانا کھاتے ہوئے حال احوال کے بعدفوراً مہنگائی اُور کاروباری مندے کارونا شروع ہو گیا۔ایک دوست بولا”آج کل کام کوئی نہیں چل رہا،اُوپر سے لوگوں کو مرنا بھی بھول گیا ہے۔پرسوں کی بات ہے ایک گاہک نے گاڑی کا کام کروایا اُور اُجرت دے کر چلا گیا۔بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک ہزار کا جعلی نوٹ دے گیا“۔دُوسرے نے افسوس کا اظہار کیا تو وہ بولا”اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اُس کی گاڑی میں آئل جعلی ڈالا تھا،ورنہ میں تو مارا جاتا“۔تم نے اُس جعلی ہزار کے نوٹ کا کیا کیا؟۔اس پر پہلا شخص ہنس کر بولا”کرنا کیا ہے،وہ نوٹ شادی میں دولہے کو سلامی دے دوں گا، شکر الحمد اللہ نقصان سے بچت ہو جائے گی“۔یہ کہہ کر اُس نے میز کے نیچے چھپائی ہوئی چار بوتلوں میں سے ایک نکال کردو گھونٹ میں خالی کر دی اُور للچائی نظروں سے اپنے دُوست کی بھری ہوئی پلیٹ کو دیکھنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com