میرے والد مرحوم مولانا اللہ وسایا قاسم رحمہ اللہ

میرے والد مرحوم مولانا اللہ وسایا قاسم رحمہ اللہ، نواسہ امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد کفیل شاہ بخاری کے ہمراہ بیاد امیر شریعت رحمہ اللہ سیمینار21 اگست 1997ء پریس کلب راولپنڈی کی یادگار تصویر۔
آپ احباب میں سے بہت سے دوست مجھے جانتے ہیں لیکن میرے باباکو نہیں جانتےاور بہت سے معزز ومکرم حضرات میرے اباجان کے جاننے والے ہیں لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ ہم ان کے بیٹے ہیں۔
آج نواسہ امیرشریعت سیدمحمد کفیل بخاری صاحب نے یہ تصاویر واٹس ایپ کیں تو سوچا کہ آج کچھ پرانی یادوں کاتذکرہ کرتے ہیں
میرے والد مرحوم حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم استاد الصرف حضرت مولانا اشرف شاد علیہ الرحمت اور درس نظامی کی تکمیل حافظ الحدیث حضرت مولاناعبداللہ درخواستی علیہ الرحمت کے ہاں مخزن العلوم خانپور سے حاصل کی۔
تعلیم و تعلم کے بعد اباجان نے کچھ عرصہ ہمارے علاقے کی مرکزی مسجد “اللہ والی مسجد” میں بطور امام و خطیب فرائض سر انجام دیئے مگر انہیں خالق کائنات نے کسی بڑے مشن کیلئے پیدا کیا تھا
اس لیے انہوں نے اپنی زندگی دینی، فکری اور نظریاتی خدمات کیلئے وقف کردی۔
میرے والد مرحوم ،استاد محترم حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی زیرادارت شائع ہونے والے جمیعت علماء اسلام پاکستان کے ترجمان “ہفت روزہ ترجمان اسلام ” لاہور کے مدیر رہے۔
ملک پاکستان کی تمام تحریکوں، تنظیموں اور فکری فورمز کے تمام اجتماعات میں شرکت اور خطاب ان کاخاصہ تھا
آپ ایک اچھے خطیب ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک ادیب اور کالم نگار بھی تھے، آپ ایک عرصہ تک مختلف اخبارات اور رسائل میں لکھتے رہے ،جب روزنامہ اوصاف کا آغاز ہوا تو باقاعدہ طورپر ان کی بنیادی ٹیم میں شامل ہوئے اور طویل عرصہ تک روزنامہ اوصاف کے سنڈے میگزین میں درس حدیث کے عنوان سے لکھتے رہے۔
دینی فکری و نظریاتی خدمات کے سلسلہ میں آپ نے بہت سے ممالک کے اسفار بھی کیئے۔
ادبی و دینی اور سیاسی وصحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ
پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں اور شخصیات سے بہترین تعلقات قائم تھے،ہمیشہ تمام خانقاہوں کےبزرگ اکابرین سے دعا اور استفادہ حاصل کرتے رہے۔
لکھنے پڑھنے کا ذوق جنون کی حد تک تھا قلمی جہاد سے ہمیشہ آواز حق بلند کی۔
علمی و ادبی اور مذہبی شخصیات کی یاد میں تقاریب کا انعقاد و خطاب بھی اباجان کا خاصہ تھا۔
2003 میں ایک ٹریفک حادثے میں جان جان آفریں کے سپرد کر کے خالق حقیقی سے جاملے ۔
ہم بھی اپنے ابا جان کے قلمی و ادبی مشن کو لیے اکابرین کی سرپرستی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
میرے والد مرحوم کے بعد میرے محسن میرے داداجان، میری والدہ، بڑے چاچو قاری محمد زبیرقاسم اور بڑے بھائی حفیظ چوہدری صاحب ہیں.
اباجان کے لیے درجات کی بلندی،دادا جان اور والدہ کے لیے صحت و تندردستی کی دعاوں کی درخواست ہے
خدا ہمیں اباجان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے
چھوٹے بھائی محمد اسامہ قاسم کی وال سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com