ننجا کی فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا نے والے بشارت نور مغل

ننجا مارشل آرٹس کی تاریخی اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ خود انسانی تاریخ، یہ ایک قدیم جاپانی فن ہے۔ جو کہ ذاتی دفاع کے لئے بہت موثر ہتھیار ثابت ہوا۔ یہ آرٹ پاکستان میں بہت مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس فن کو بہت شوق سے سیکھ رہے ہیں۔ یہ فن اپنے اندر بہت پر اسرار یت لئے ہوئے ہیں۔ بہت ہی کم لو گ اس فن کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لئے ہم نے سیالکوٹ کے پہلے ننجا ماسٹر بشارت نور مغل سے ملا قات کی اور اس فن کے بارے معلومات حاصل کیں۔ جو نذر قارئین ہیں۔بشار ت نور مغل نے ننجا کھیل میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ چیمپیئن شپ کے علاوہ ننجا ماسٹر پنجاب کا ٹائیٹل جیتا ہے۔ اسکے علاوہ سیالکو ٹ کے پہلے ننجا ماسٹر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ انہوں نے 9 سال 11 میں ننجا کی مکمل ٹریننگ حاصل کی۔ 30 سال سے ننجا کی فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ بشارت نور مغل نے ننجا کے بارے میں بتایا کہ ”ننجا“ کا مطلب ”نائٹ وارئیر“ یا ”رات کا جنگجو“ہے۔ کیونکہ ننجا ماسٹر ہمیشہ رات کے وقت ہی حملہ کرتے ہیں۔ اس فن کی تاریخ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ فن اس دور میں ایجاد ہوا جب جا پان میں جاگیر دارانہ نظام رائج تھا۔ یہ جاگیردار اپنی رعایا پر بہت ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنی اپنی فورس بنا رکھی تھی۔ اس فورس میں شامل افراد کو سمورائی کہا جاتا تھا جو کہ ان کے اشارے پر غریب اور مظلوم لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیتے تھے۔ ظلم و ستم سے تنگ آکر کار یہ مغلوب اور آزادی پسند افراد بغاوت پر اتر آئے۔ مگر تعداد اور طاقت میں کم ہونے کی بناء پر وہ کچھ نہ کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ ذہین افراد نے کچھ مخصوص ہتھیار بنائے۔ خاص قسم کی مشقین ایجاد کی گئیں اور ایک ایک آدمی کو اس طرح تربیت دی گئی کہ وہ وقت آنے پر سینکڑوں افراد کا مقابلہ کر سکے۔ ان کو خالی ہتاھ بھی دفاع کرنا سکھایا گیا اور ہتھیاروں کی تربیت بھی دی گئی۔ سورڈ، سٹار، کاما، سٹک، سائی، خنجر، ننفہ، ننجا کے مخصوص ہتھیار ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ دھوئیں کے گولے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ ننجا کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ انتہائی خطرناک فن تھا جو کہ جاگیرداروں کے ظلم و ستم کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اس کے موجدوں نے اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے یہ فن اس قدر خفیہ رکھا کہا یہ سینہ بہ سینہ ان کے اولاد میں منتقل ہوتا رہا اور طویل عرصہ تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اب چونکہ جاپان میں جاگیردار نہ نظام تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ تو یہ فن بھی خفیہ نہ رہ سکا اور پھر فلموں کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچ گیا۔ فلموں نے اسے افسانوی حد تک مقبول بنا دیا۔ اس وقت جاپان، امریکہ اور پاکستان میں ننجا فیڈر یشنز قائم ہیں جو کہ اس کی ترویج و ترقی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ بشارت نور مغل نے بتایا کہ یہ ایک مشکل فن ہے اور مارشل آرٹ کی خطرناک شکلہے۔ جس کی مدد سے دشمن کو آسانی سے زیر کیا جا سکتا ہے۔ یوگا، باکسنگ، جمناسٹک، جوڈو، کراٹے اور ہپٹائزم اس کی اہم شاخیں ہیں۔ اس کے اٹھارہ کٹھن ترین لیول ہیں۔ جن سے گزرنے کے بعد ہی انسان ننجا ماسٹر بن سکتا ہے۔ بشارت نور مغل ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ننجا ماسٹر ہمیشہ رات کو حملہ کرتے تھے اور رات کی مناسبت سے ان کی وردی جسے ”گی“ کہا جاتا ہے سیاہ ہوتی تھی۔ جو آج بھی اسی رنگ میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ وردی ان کو دشمن کی نظروں سے اوجھل رہنے میں مدد دیتی تھی۔ یہ ہمیشہ حملہ کرتے وقت نقاب استعمال کرتے تھے۔ یہ نقاب دور و مالوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ایک سے وہ چہرہ چھپاتے اور دوسرے کو سر پر باندھتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے ان کا نقاب اتر جاتا تو وہ اپنے آپ کو ختم کر لیتے تھے تاکہ ان کے ذریعے دشمن ان کے دیگر ساتھیوں تک نہ پہنچ جائیں۔ آج کل بشارت نو رچوک دارہ ارائیاں میں FS ننجا کلب بھی چلا رہے ہیں۔ جہاں نوجوان لڑکوں ننجا ٹیم کی تربیت دے رہے ہیں۔
ٓآخر میں انہوں نے اپنے مرحوم استاد گریٹ ننجا ماسٹر عا مر خان 6 ڈان کے لئے خراج تحسین پیش کیااور کہا کہ آج میں ان کی وجہ سے اس مقام پر ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com