فرض کے غداربمقابلہ ملک کے وفادار

فرض کے غداربمقابلہ ملک کے وفادار
تحریر اعجازبٹ
قارئین کرام روز مرہ کی زندگی میں ہم اشیائے ضروریہ کی خرید تے ہیں اور اپنے استعمال میں لاتے ہیں جس پر درج شد ہ ٹیکس جمع کرواتے ہیں جو کہ دوکاندار کے ذریعہ سے کمپنی مالکان کے خزانے میں جاتا ہے جس کو پوریایمانداری کے ساتھ جمع کروانا کمپنی مالکان کا فرض ہے اسی طر ح ہوٹل سے جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو وہاں بھی ہمارے بل پر ٹیکس درج کیا جاتا ہے جو کہ براہ راستہ ہوٹل مالکان کی جیب میں جاتا ہے اور اس ٹیکس کی رقم پوری امانتداری کے ساتھ حکومتی خزانے تک پہنچانا ہوٹل مالکان کی ذمہ داری ہے اسی طر ح ہر دوکاندار اور ہوٹل وغیرہ کے مالکان کے فرائض میں شامل ہے کہ شہری اور حکومت کے درمیان سے اکٹھی ہونے والی ٹیکس رقم امانت کے طور پر جمع کروائیں۔
قارئین کرام جس طر ح ہم مڈل کلاس کے لوگ ٹیکس دینے میں کسی عذرواعتراض سے کام نہیں لیتے اسی طرح تاجروں اور بڑے پیمانے پر کام کر نے والوں کا بھی فرض ہے کہ ٹیکس ادا کریں اور اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں نہ کہ وہ سمگلنگ کے ذریعہ سے حکو مت کا حق دبانے اور ٹیکس چوری کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہوں گزشتہ سال مجھے جون کے مہینے میں نیشنل بنک آف پاکستان کی مرکزی برانچ واقعہ مال روڈ لاہورجانے کا اتفاق ہو اتو میں نے دیکھا کہ ٹیکس چوروں کی ایک لمبی قطار ایمنسٹی سکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کالادھن سفید کرنے کے لئے اس طرح خاموشی سے قطار باندھے بغیرچوں چاں کے پاکستانی کرنسی کے سب سے بڑے یعنی پانچ ہزار والے نوٹو ں کی پیکٹ اٹھائے جمع کرنے کی استدعا والے چہروں کے ساتھ موجود تھی یہ دیکھ کر مجھے پنجابء کی ایک مثال ’’ ڈنڈ اپیر وگڑیا ں تگڑیاں دا‘‘ یا د آئی اور میں بغیر کسی کا م کے کافی دیر تک اس سلسلہ سے لطف اندوزہوتا رہا۔
اسی طر ح ایک ایسا ادارہ ہے جوکہ ٹیکس چوروں کو نکیل ڈالنے کے لئے ملک پاکستان میں اپنی خدمات انجام دے رہاہے جس میں ملک پاکستان کے بہادر ، نڈر اور ایماندار سپوت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اس محکمہ کا کام ملک میں سمگل ہوکر آنے والی اشیا ء کی روک تھام کرنا اور کسٹم چوروں کی اشیاء کو قبضہ میں لیکر اسکی نیلامی کرنا ودیگر قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک پاکستان میں وائٹ کالزمافیا کے چہروں کو بے نقاب کرنا شامل ہے اور اس محکمہ کے لوگ دن رات کی انتھک محنت کرکے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اس محکمہ میں بہت سے لوگ کی خدمت میں اپنی محنت کا لوہا منواچکے ہیں ہم بات کریں اگر ان کے لاہور دفتر سے تعلق رکھنے والے افسران کی جنہوں نے گزشتہ سال میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ماہ دسمبر میں 173ملین کی ٹیکس چوری کی روک تھام کی جو کہ ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے والوں کو قابو کرکے سمگل شدہ اشیا ء کو قبضہ میں لیا گیا اس تمام کارنامہ کو انجام دینے والوں میں شاہد نسیم جوئیہ سپر ینیڈنٹ کسٹمز ، سہیل مرتضیٰ ، ضیاء الرحمن بھٹی ،آغا سلطان حیدر ، شہزاد اسحاق انسپکٹران کسٹمز ان کی ٹیم کے سپاہی ودیگر عملہ شامل ہے جنہوں نے بلا افسران احمد رئوف کلکٹر کسٹمز ، اشفاق احمد خان ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز اور سلمان جاوید اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز کی خصوصی ہدایات کو برئوے کار لاتے ہوئے دن رات محنت کی اور نتیجہ خیز آپریشن کئے ۔
تمام ٹیم نے سمگل شدہ اشیائے غیر ملکی برآمد کیں ان میں گاڑیاں ، چھالیہ ، کپڑا ،ٹائرز ، ویلڈنگ راڈ ، سفید زیرہ ، بادام ، آٹوپاٹس ، پٹرولیم پر اڈکٹ اور سگریٹس وغیرہ شامل ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹیم زیادہ مضبوط ارادے کے ساتھ سال 2020ء میں مزید بہتر نتائج دینے کے لئے پرعزم ہے ۔
قارئین کرام تمام ٹیم میں سے میری ملاقات ایک انسپکٹر جن کا نام سہیل مرتضیٰ ہے سے ہوئی جوکہ ایک سادہ اور درویش طبیعت انسان ہیں ان کا کام کرنے کا اندازانتہائی ماہرانہ ہے ۔ اور ان کا لب لہجہ اور ایمانداری ان کے افسران کے ساتھ ساتھ صحافتی نمائندوں میں اچھی مقبولیت کا سبب ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بطور تاجر ہم اپنی تجارت کو قانوی بنائیں اور ٹیکس چوری سے دریغ کریں اور بطور شہری اپنے اردگرد ہونے والی ٹیکس چوری ودیگرجرائم کی اطلاع متعلقہ محکمہ جات کو دیکر اچھے پاکستانی ہونے کا ثبو ت پیش کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com