ٹڈی دل کی پیش قدمی اور متوقع غذائی بحران

ٹڈی دل کی پیش قدمی اور متوقع غذائی بحران
جام ایم ڈی گانگا
روہی وچ ھے گلابی
اتیتھل وچ ھے پیلی
اے گالھ نی سنڑدی
مکڑی ہیوڈی اکڑیلی
محترم قارئین کرام،، وطن عزیز میں ٹڈی دل مکڑی کی پیش قدمی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے. اگرچہ صوبائی اور وفاقی سطح پر انسداد ٹڈی دل کے لیے ذمہ دارویوں اور کارروائیوں کے لیے باقاعدہ ایک سسٹم گذشتہ سال کی آخری سہہ ماہی میں ہی تشکیل دیئے جا چکے تھے. 2019میں ایران، سعودی عرب اور انڈیا سے پرواز کر آنے والی ٹڈی دل فصلات کا زیادہ نقصان نہیں کر سکی تھی. حکومت نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے سپرے کے انتظامات کرکے مکمل طور پر تو نہیں البتہ کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا. قدرت کی طرف سے ہر جاندار کے انڈے بچے دینے اور ان کی افزائش کا بھی ایک مخصوص پریڈ اور سیزن ہوتا ہے. ٹڈی دل اس مرحلے میں چلی گئی اور ہر طرف بظاہر سکون ہو گیا. جن اضلاع کی انتظامیہ جاگتی اور سر ویلنس کرتی رہی ان اضلاع میں تو ٹڈی دل کی افزائش زیادہ دیکھنے کو نہ ملی لیکن جن صوبوں کے حکمران اور جن اضلاع کی انتظامیہ پی کر سکون کی دنیا میں چلے گئے وہاں ٹڈی دل کی بڑے پیمانے پر افزائش نسل ہوئی جو اب نہ صرف پل بڑھ کر جوان ہو چکی ہے بلکہ پرواز کرکے دوسرے علاقوں اور اضلاع کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے. ٹڈی دل کی سب سے زیادہ افزائش صوبہ بلوچستان کے صحرائی علاقوں میں ہوئی دوسرے نمبر پر سندھ صوبہ پنجاب کے اضلاع راجن پور ڈیرہ غازی خان بھی اس میں پیچھے نہ رہے.
قصہ مختصر سستی دیر اور لاپرواہی کے قومی مزاج کی وجہ سے ہم وباؤں اور بلاوں کے خلاف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب وہ شدت اختیار کر جاتی ہیں. تھوڑے پیسوں تھوڑے فنڈز کی بجائے جہاں زیادہ پیسوں اور زیادہ فنڈز کے ساتھ کام کرنے کی عادت پڑ جائے.عوام کی چیخیں اور آہ و فریاد سننے کر جاگنے کی بجائے جہاں حکمران عوام کے سڑکوں پر آنے، بڑا ہلہ گلہ کرنے کے بعد جاگنے اور اقدامات کرنے کے عادی بن جائیں وہاں ایسے ہی ہوتا ہے. جیسے پیارے دیس میں ہوتا آ رہا ہے یا ہو رہا ہے. پاکستان کسان اتحاد ضلع رحیم یار خان کی چیخ و پکار اور قومی درد و جذبے کے ساتھ دیئے جانے والے مشورے سوشل میڈیا اور میڈیا ریکارڈ پر موجود ہیں.ٹڈی دل کو بچوں کی افزائش کے وقت ہی تلف کرنے کی مشترکہ اور مربوط مہم شروع کر دی جاتی تو آج یہ ٹڈی دل اس طرح اڑانیں بھرتی نہ نظر آتی. خیر جو وقت گزر گیا. جو کمی و کوتاہی رہ گئی جو لاپرواہی سر زد ہو گئی. اس پر پچھتاوا کرنے کی بجائے ہم سب کو انفرادی اور اجتماعی سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی فکر کرنے اور عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے. ہاں فنڈز فراہمی کے باوجود بھی غلفت کے مرتکب ذمہ داروں کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئیے.کیونکہ یہ رویہ سلوک اور عادت ملک و قوم کے ساتھ سخت خفیہ زیادتی ہوتی ہے.یا د رکھیں ٹڈی دل کی انسدادی قومی مہم میں لغزش کی صورت میں ٹڈی دل غذائی بحران قلت اور قحط کے خطرات کی جانب لے جا سکتی ہے.ہم کھانے کے لے دالوں چاولوں کو تلاش کرتے پھریں گے.کپاس کی کاشت شروع ہے. کپاس پر حملے کی صورت میں تو پوری معیشت متاثر ہوگی.
بلوچستان، سندھ اور خطہ سرائیکستان کے ضلع ڈیرہ غازی خان راجن پور میں پروان چڑھنے والے کالی گلابی وردی میں ملبوس ٹڈی دل کے لشکر، تھل کے اضلاع کے لیہ مظفر گڑھ بکھر میانوالی جھنگ خوشاب میں تیار ہونے والی پیلی رنگت کی ٹڈی دل کامیاب آزمائشی پروازوں کے بعد اپنے ٹھکانوں کے مضافاتی علاقوں اور اضلاع کی جانب گذشتہ چار روز سے پیش قدمی شروع کر رکھی ہے.صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے حرکت میں آ چکی ہے. وزیر اعلی پنجاب سردار محمد عثمان خان بزدار کے علاوہ سنا ہے کہ ٹڈی دل کے حوالے سے اسلام آباد میں بھی ایک اہم میٹنگ ہو چکی ہے. اللہ کرے کہ بند ائرکنڈیشنڈ کمروں میں ہونے والی ان اہم ترین میٹنگیز کے عملی نتائج بھی ملک و قوم کے حق میں بہتر اور مثبت نکلیں. وطن عزیز میں پراجیکٹس اور منصوبہ جات کے لیے منظور کیے جانے والے فنڈز کا استعمال کس طرح، کیسے اور کتنا ہوتا ہے.لش پش، تشہیر، خرد برد اور اصل منصوبے و ٹارگٹ پر کس شرح سے خرچ ہوتا ہے. فی الوقت مجھے اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے.وطن کے ایک ذمہ دار شہری، ذمہ دار کسان تنظیم پاکستان کسان اتحاد اور ایک لکھاری کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ بعض چیزیں، معاملات، آزمائشیں، بلائیں اور وبائیں ایسی ہوتی ہیں کہ اکیلے حکومت ان کا مقابلہ اور خاتمہ نہیں کر سکتی. اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری قوم اور ہر طبقہ فکر کو اپنی اپنی حد اور حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے. کرونا وائرس کی طرح ٹڈی دل بھی ملک و قوم کے لیے شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک اور نقصان کا باعث بن سکتی ہے. ٹڈی دل مختلف فصلات کا نقصان کرکے ہمارے لیے غذائی قلت اور بڑے معاشی بحران حتی کہ قحط تک کا باعث بن سکتی ہے. ٹڈی دل مکڑی کو عام لینے کی بجائے انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے. راجن پور رحیم یار خان سے مکڑی بہاول پور لودھراں ملتان خانیوال کی طرف، لیہ سے مکڑی اٹھارہ ہزاری جھنگ نور پور تھل خوشاب سے ایک طرف فصیل آباد سرگودھا کی جانب دوسری جانب خوشاب میانوالی والی سے تلہ گنگ چکوال جہلم کی جانب پیش قدمی کرنے جا رہی ہے. ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں. اگر اسے کنٹرول نہ کیا جا سکا تو آنے والے چند ہی دنوں میں ٹڈی دل میانچنوں چیچا وطنی اوکاڑہ ملیسی وہاڑی پاکپتن قصور سے ہوتی ہوئی تخت لاہور کے خوبصورت پارکوں سڑکوں پر سجے پھولوں کے ساتھ اٹکلیاں اور مستیاں کرتی نظر آئے گی. اگر حالات اور رپورٹوں کی جمع تفریق کا انداز یہی رہاتو کافی امید ہے کہ اس بار مکڑی ٹڈل دل عید الفظر لاہور اسلام آباد میں منائے گی. اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو.
محترم قارئین کرام. پاکستان کسان اتحاد کے ایک کارکن کی حیثیت سے میری ملک بھر کے کسان بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اپنے اپنے اضلاع میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹڈی دل کی انسدادی مہم کا حصہ بنیں. میرا مشورہ ہے کہ کسان سب سے پہ?لا کام تو یہ کریں کہ اپنی فصل پر آنے والی ٹڈی دل کو ٹین بجا کر اڑانے کی بجائے سپرے کرکے اس کا خاتمہ کریں.اس نقصان سے سب کو بچانے اور ملک کو بچانے کے لیے یہ سوچ اور جذبہ اپنانا ہوگا.آخری ہم اپنی فصلات کو بچانے کے لیے دوسری سنڈیوں اور کیڑوں کے خلاف بھی تو سپرے کرتے ہیں. مجھے پتہ ہے کہ کسانوں کے لیے سپرے کا یہ اضافی بوبھ اٹھانا اور برداشت کرنا خاصامشکل ہے.کیونکہ کسان پہلے ہی فصلات کے مناسب ریٹس نہ ملنے کی وجہ سے خسارے اور پریشانی کا شکار ہیں.محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ سے مفت دوائی حاصل کرکے سپرے کرنے کی معاونت تو بہرحال سب کو کھلے دل کے ساتھ ضرور کرنی چاہئیے. جہاں تک خالی کھلی جگہوں اور ٹڈی دل کی افزائش کے لیے مرغوب صحرائی علاقوں اور جنگلات کا تعلق ہے وہاں تو ہر حال میں ہی حکومت اور حکومتی اداروں کو ہی کام کرنے اور کروانا پڑے گا تب جا کر ٹڈی دل جو کنٹرول کیا جا سکتی ہے.
سید فخر امام کے وفاقی وزیر خوراک بننے سے زراعت اور کسانوں کے لیے آنے والے دنوں میں بہتر حکومتی فیصلوں اور بہتری کی امید ہے.سید فخر امام خود زراعت کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے اور کسانوں کے دکھ درد اور مسائل سے آگاہی رکھنے والا انسان ہے. مجھے خوشی ہے کہ ان کی پاکستان کسان اتحاد کی مرکزی قیادت خاص طور پر مرکزی صدر ملک خالد محمود کھوکھر کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ اور کوآرڈینیشن بھی پہلے سے موجود ہے. ان حالات اور حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اگر زراعت اور کسانوں کے لیے کوئی بہتری سامنے نہیں آتی تو یہ بہت بڑی بد نصیبی والی بات ہوگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com