سعودی عرب میں لاک ڈاؤن

سعودی عرب میں لاک ڈاؤن
تحریر: ابنِ ریاض
کرونا وائرس ابتداء میں جب چین میں ظاہر ہوا تو ہم اسے علاقائی اور محدود وبا سمجھے اور کرونا پر ایک فکاہیہ تحریر بھی لکھ دی کہ خدانخواستہ کرونا پاکستان آیا تو اس کا کیا انجام ہو گا۔ اس وقت تک ہمیں اندازہ نہ تھا کہ چند ہی ہفتوں میں یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ فروری کے اختتام پر ہی عمرہ بند ہو گیا اور ساتھ ہی مکہ و مدینہ میں داخلے پر بھی پابندی لگ گئی۔ عمرہ زائرین کو تو ان کے ممالک بھیجا جانے لگا سعودی باشندوں کے بھی دیگر شہروں سے مکہ مدینہ داخلے پر پابندی لگ گئی۔ ہمارا علاقہ چونکہ مکہ و مدینہ دونوں سے دور ہے تو یہاں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔جوں جوں کرونا اپنے پرپھیلاتا رہا ویسے ویسے ہی اس کے خلاف اقدامات میں بھی تیزی اور سنجیدگی ظاہر ہونے لگی۔
مارچ کے پہلے ہفتے میں پوری مملکت میں طلبا کا تعلیمی اداروں میں داخلہ بند کر دیا گیا تاہم تدریسی و انتظامی عملے کو اپنی حاضری یقینی بنانی تھی اور متعلقہ اداروں سے ہی آن لائن تدریسی عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔قریب ہفتہ عشرہ ہم جامعہ جا کر آن لائن کلاسز لیتے رہے۔ اس دوران آن لائن تدریس کے سافٹ وئیر سیکھنا بذات خود ایک کام تھا۔ بلیک بورڈنامی سافٹ وئیر آن لائن کلاسز لینے کے لئے پہلے ہی موجود تھا مگر ہم نے کبھی اسے اہمیت ہی نہیں دی تھی۔ یوں بھی ضرورت سے پہلے کوئی کام سیکھ لینا مسلمانیت و پاکستانیت کے خلاف ہے۔مسلمان کا تو اللہ جانتا ہے لیکن پاکستانی ہم پکے ہیں۔ اچانک افتاد پڑی تو سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا کریں۔
ہم اور ہمارے جیسے کچھ اور دوستوں نے ایک رفیق کار (جو اس سافٹ وئیر پرکام کر چکے تھے) کو پکڑا اور انھیں کہا گیا کہ ہم سب کویہ سافٹ وئیر سکھایا جائے۔ شریف آدمی ہیں اورمعاملہ بھی اپنے ہی ہم منصبوں اور رفقاء کا تھا سو انھوں نے گھنٹہ ڈیڑھ لگا کر بنیادی باتیں سمجھا دیں۔
ہم نے کچھ سمجھا اور اپنے دفتر میں آ کر اس کی ڈیسک ٹاپ پر پروگرام کھولنے کی مشق کر لی۔ جب کلاس شروع ہونے کا وقت آیا تو ہمیں خیال ہوا کہ ہمارے پاس تو ہیڈ فون ہی نہیں ہے۔ ہم بولیں گے کیسے؟یعنی بول تو لیں گے طلباء کیسے سنائیں گے؟ ہم نے ایک دوست سے ہیڈ فون لیا اور اپنے سر پر چڑھا لیا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ کرونا ہے۔ وہ سر سے سر تک بھی تو منتقل ہو سکتا ہو گا۔ اس وقت سوچنے کا وقت بھی نہ تھا۔ ہم نے ہیڈفون لگایا۔ کلاس میں گئے اور بولنا شروع کر دیا۔ مگر کچھ ہی دیر بعد طلباء کی آوازیں آنا شروع کہ سر آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ ہم نے پھر بولا جواب ندارد۔ چیٹ پاکس میں لکھا کہ آواز آئی۔ جواب ملا نہیں۔ ہم نے سہیل سے پوچھا کہ تمھاری کلاس کیسے چلی؟جواب ملا ایک اور ڈاکٹر کے ہیڈ فون سے۔ پھر دوسرا ہیڈ فون لیا گیا۔ نتیجہ پھر بھی کچھ نہ نکلا۔ہم نے ٹائپ کر کے سمجھایا کہ اس مرتبہ یہ یہ سافٹ وئیر ڈاؤن لوڈکر لو، کلاس اگلی مرتبہ لیں گے۔کلاس کے بعد بھی ہم اور ڈاکٹرسہیل کوشش کرتے رہے لیکن مائیکروفون کا مسئلہ حل نہ ہوا۔ اگلے روز سے ہم لیپ ٹاپ لے جانے لگے اور اس کے ذریعے تدریس شروع ہوئی۔ لیپ ٹاپ سے لیکچر تو آسان ہو گیا لینا مگر پھر یہ ہوتا تھا کہ ہم بولتے بولتے انھیں کوئی فائل دکھانا چاہتے اور اسے سرچ کرتے تو نہ ملتی؟ پھر کچھ دیر ڈھونڈنے کے بعد ہمیں خیال آتا کہ وہ تو ڈیسک ٹاپ میں پڑی ہے۔ پھر یو ایس بی سے اسے لیپ ٹاپ میں منتقل کر کے یہ مرحلہ سر انجام دیا جاتا۔
یہ سب چند دن ہی چلا پھر ہمیں جامعہ جانیسے بھی منع کر دیا گیا۔کہا گیا کہ گھر سے ہی تدریس عمل جاری رکھو۔ اب دو ہفتے ہو گئے ہم لوگ گھر میں ہی ہیں۔سارے کام گھر سے نہیں ہو سکتے۔ پائلٹ گھر سے جہاز نہیں چلاسکتے۔ کھلاڑی گھر میں نہیں کھیل سکتے ماسوائے ان ڈور کھیلوں کے کھلاڑیوں کے۔دیگر بہت سے شعبے ایسے ہیں جو بند ہیں مگر تعلیم اس سے مبرا ہے۔ پڑھایا گھر سے بھی جا سکتا ہے تاہم گھر سے پڑھانا کونسا آسان ہے؟ کبھی بیگم آواز لگا دیتی ہے کہ پانی ختم ہو گیا ہے بوتلوں میں بھر دو۔کبھی برتن دھلنے کی مدھر مدھر موسیقی سے عربی طلباء بھی محظوظ ہوتے ہیں۔عین لیکچر کے دوران ہی گیس سلنڈر اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب چالہے پر سالن پک رہا ہو۔ چھوٹے بچے آ کر کہتے ہیں کہ پاپا کارٹون دیکھنے ہیں؟ پاپا باہرچلیں؟ ادھر کلاس ہو رہی ہوتی ہے ادھر والد صاحب کو روتے ہوئے دوسرے بھائی بہنوں کی شکایت لگائی جاتی ہے کہ فلاں نے ہمارے ساتھ یہ زیادتی کر دی۔ اچھی بات یہ ہے کہ جامعہ کے طالب علم بڑے ہوتے ہیں تو وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور بحث نہیں کرتے۔ انھیں کوئی سوال حل کرنے کو دے کر گھر کے مسئلے پہلے بنٹائے جاتے ہیں۔
تعلیمی ادارے پارکس اور کاروباری مراکز بند ہیں ماسوائے روزمرہ اشیاء اورادویات کی دکانوں کے۔دو ہفتے سے ہم بھی گھر ہیں۔یہاں حکومت جو بات کرتی ہے اس پر فوری عمل ہو جاتا ہے۔ دن میں لوگ سودا لے آتے ہیں لیکن ماسک گلوز اور سینی ٹائزرز عام ہیں۔ دوکان داروں پر تو ان کا استعمال لازم ہے۔ بغیر گلوز کے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ ریسٹورنٹس بھی کھلے ہیں مگر وہاں بھی کھانا پیک کر کے گھر لے جانے کا ہی رواج ہے۔ یہ سب سرگرمیاں دن تک ہی محدود ہیں۔
شام سات سے صبح چھ تک بجز جبکہ جدہ ریاض میں دن تین سے صبح چھ بجے تک کیے طبی ایمر جنسی کے گھر سے باہر نکلنا جرم ہے اور خلاف وزری کی صورت میں دس ہزال ریال جرمانہ ہے۔ خلاف ورزی کے اعادہ کی صورت میں جرم دگنا یعنی بیس ہزار ریال اور سرکار کی مہمان نوازی (جیل) کی سہولت میسر ہے۔ سعودی عرب والے جرمانے وصول کرنے کے تو ماہر ہیں۔ جرمانہ ادا کیے بغیر توملک چھوڑنا ہی ممکن نہیں ہے کیونکہ جرمانے آں لائن سسٹم میں آ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اپنے پیارے ملک پاکستان میں تصویر دیکھی جس میں لوگوں کو لائن سے مرغا بنایا ہوا ہے۔ تصویر سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ مرغوں میں چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھا گیا کہ نہیں۔ڈنڈا سینیٹائز کرکے استعمال کرتے یا نہیں؟ اگر پہلے نہیں کیا تو اب سے شروع کر دیں۔ ظاہر ہے پولیس اپنے ہم وطنوں کو تو مارنے سے رہے۔ بظاہر وہ پاکستانیوں کو کو مار رہے ہیں مگر باطنی طور پر ان کا ہدف کرونا ہے۔ یقین ماننے پولیس کی اس کارروائی سے ملک میں کرونا میں بہت کمی واقع ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com