لاک ڈوان اور زوال پذیر معیشت

لاک ڈوان اور زوال پذیر معیشت
بادشاہ خان
لاک ڈوان کرونا وائرس سمیت دیگرمسائل کا حل نہیں ہے ، اور کتنے دن کتنے مہینے لاک ڈوان کیا جاسکتا ہے؟دنیا پریشان ہے ، خوارک کی کمی کی وجہ سے ملکوں کے پاس سرحدیں کھولنا مجبوری بنتا جارہا ہے ، اور پاکستان جیسا ملک جس کی آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لیکر پر پہنچ چکی ہے ،مزید کتنا برداشت کرسکتی ہے ؟ اس بنیادی وجہ پاکستان ترقی یافتہ ملک نہیں بلکہ ترقی پذیر ملک ہے ،اگر اس کا موازنہ یورپ اور امریکہ سے کچھ لوگ کرنا چاہتے ہیں تو ان کی بھول ہے ،سوال حکومتوں کا ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کا نہیں ، عوام کو فراہم سہولیات کا ہے ، اب تک عوام کو حکومتی سطح پر راشن فراہم کرنے میں ناکام ہے ،اور غریب عوام کو مزدوری سے بھی محروم کردیا گیا، کمزور معیشت کا برا حال ہے ،کراچی کے تاجروں سے لیکر ایکسپورٹر تک پریشان ہیں ، ہزاروں کنٹینر سرحدوں پر بھرے ہوئے کھڑے ہیں ، جن کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے ، کئی تاجر سوال کررہے ہیں کہ اگر بارڈر عوام کے لئے کھول سکتا ہے ، تو تجارت کے لئے کیوں نہیں؟ کیونکہ یہ مرض تو افراد سے پھیلتا ہے ، سامان سے نہیں،حکومتی پالیسی کی ناکامی ظاہر ہوچکی ہے ، سندھ کی صوبائی حکومت نے لاک ڈوان کرکے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی؟ ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے چکر میں ،پاکستانی عوام ، تاجر سب رل گئے،اور اس کے باوجود کرونا کا وائرس دن بدن بڑھ رہا ہے؟کیا مرض کی روک تھام کے لئے دیگر طریقے اختیار نہیں کئے جاسکتے تھے ؟ اور اب وفاقی حکومت کررہی ہے ،خود آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ کمزور معیشت والے ممالک کے لئے چلنا مشکل ہوجائے گا،ہمارے دوست ڈاکٹر صدیق نے بتایا کہ پانچ دن کے اندر کرونا وائرس کے اثرات مکمل ظاہر ہوجاتے ہیں ، اس سے زیادہ لاک ڈوان کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہاںضد اور اناکے خول میں بند حکومتیں اس پر غور کرنے کو تیار نہیں،
اسی تناظر میںکراچی کے چھوٹے تاجروں اور در آمد کنندگان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور معیشت کی بدحالی کو قابو میں لانے کے لئے فوری طور پر درآمدکنندگان کے لئے 15 مارچ سے 14 اپریل تک ڈیمرج کی معافی کو یقینی بنایا جائے، ساتھ ہی ان 30 یوم کے دوران آنے والے کنٹینرز پر ڈٹینشن چارجز معاف کئے جائیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث در آمد کنندگان کا سرمایہ مارکیٹوں میں پھنس گیا ہے، جس کے باعث ان کنٹینرز کو ریلیز کرانے کے لئے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے، اس لئے حکومت درآمد کنندگان کو آسان اور بلا سود قرضے ان کی ٹریڈنگ کا دیکھتے ہوئے فوری طور پر فراہم کرے اور پورٹ سے جو کنٹینرز ریلیز ہوں ان کو مارکیٹوں اور وئیر ہاؤس میں حفاظت سے پہنچانے میں ان کی مدد کی جائے اور اس سلسلے میں پولیس اور دیگر اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہماری بھرپور مدد کریں۔یہ مطالبات صدر آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن و چیئرمین آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن محمد شرجیل گوپلانی نے جمعرات کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کئے۔ پاکستان اپنی ضرورت کی بے شمار اشیاء در آمد کرتا ہے جو تقریبا 1500 سے 1600 کنٹینرز یومیہ پورٹ پر آتے ہیں۔ تاہم موجودہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاجروں کی ہر قسم کی نقل حرکت پرپابندی ہے، جس کی وجہ سے تمام کنٹینرز پورٹ پر جمع ہورہے ہیں۔جو کہ اب تک تقریبا 20000 کی تعداد تک پہنچ چکے ہیں اوران کنٹینرز پر ٹرمینل آپریٹرز کی طرف سے ڈیمرج اور شپنگ کمپنی کی طرف سے ڈیٹنیشن چارج وصول کیا جاتا ہے۔ حکومتی نوٹس کے با وجود ٹرمینل آپریٹرز نے اس نوٹس کو نا مانتے ہوئے ڈیمرج معاف کرنے سے مکمل طور پر انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری اہم تر ین چیزڈٹینشن چارجز کے بارے میں مکمل ابہام ہے، ا س سلسلے میں اب تک کوئی واضح حکم نامہ جاری نہیں ہوا ہے، جس کی وجہ سے تمام تاجر برادری انتہائی پریشانی اور تشویش میں مبتلا ہے اور اگر اس ابہام کا فوری حل نہ نکالا گیا تو کم از کم 80 لاکھ سے 1 کروڑ تک یومیہ کا ڈٹینشن چارج ادا کرنا پڑے گا اور ایک بڑا زرمبادلہ کی صورت میں رقم بیرون ملک چلی جائے گی۔ اس بحران کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ ڈالر کے ریٹ کا بڑھ جانا بھی ہے، چونکہ ڈٹینشن چارجز کی ادائیگی ڈالرز میں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اخراجات میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے جو کہ چھوٹے تاجروں کے لیے کسی طور قابل برداشت نہیں ہے۔ ڈٹینشن کے سلسلے میں متعلقہ شپینگ کمپنیز سے حکومتی سطح پر اس مسئلہ کو حل کرایا جائے اور اس عالمی بحران جس کی زد میں ہمارا ملک پاکستان بھی آیا ہے، اس لئے ان 30 ایام کے دوران ڈٹینشن چارجز معاف کئے جائیں۔ اسمال میڈیم انٹرپرائزر سے کوئی مشورہ لینے کو تیار نہیں ،سوال یہ ہے کہ اس کا حل کس کے پاس ہے ؟
کرونا وائرس کے بعد ایک بات واضح ہے کہ دنیا سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہے ۔اگر حکومتوں نے بڑے فیصلے نہیں کئے تو مڈل کلاس کا خاتمہ نزدیک ہے ،امیر امیر تر ہوجائے گا ،اور غریب مزید غریب ہوجائے گا دنیا کے تمام وسائل گنتی کی دیوہیکل بین البراعظمی کارپوریشنوں کے قبضے میں ہیں اور ان کے مالک یہودی ہیں جو نہ صرف ذرائع پیداوار اور نظام تقسیم پر مکمل دسترس و قدرت رکھتے ہیں، بلکہ ان کی سمت متعین کرنے میں بھی حتمی کردار ادا کرتے ہیں،آج دنیا کے بڑے بڑے ممالک ان اداروں کے محتاج ہیں ، کرونا وائرس کے بعدمزید انڈسٹریاں بند ہونے کا خدشہ ہے ، جس سے بے روزگاری کی ایک نئی لہر اٹھی گئی،دوسری جانب امریکی ڈالر کی قیمت میںاضافے سے تاجر اور کاروباری طبقہ کم ہوتے ہوئے کاروبار سے پریشان ہے ۔اس سے مہنگائی کی شرح دس فی صد تک بڑھنے کا امکان ہوگیا ۔ خودوزارت خزانہ کے مطابق ڈالر کی قیمت ایک روپے بڑھنے سے بیرونی قرضے 95 ارب روپے بڑھتے ہیں۔ڈالر مہنگا ہونے سے تاجر،عوام پریشان ہیں ، اس خراب صورت حال، کرپشن ،بے روزگاری مہنگائی نے عوام میں بے چینی کا آغاز کردیا ہے ، تجارت کا فروغ اور برآمدت کا فروغ پر فوکس کرنا ہوگا ، ورنہ بے روزگاری ، مہنگائی سے ملک میں بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں ، پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com