جینے دو

جینے دو
اے ڈی شاہد
ایتھے تاں ہن کھول لئی روٹی وقت دیاں فرعوناں نے
ساڈے لئی ہُن اسماناں توں گھَل دے کوئی سوغات
بڑے چِراں توں ایس دھرتی تے دُکھڑے جَرے نے میں
میرے گھر وی ڈاڈھیا رَبا پا رحمت دی اِ ک جھات
قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسی قیادت، لیڈر شپ کا فقدان رہا ہے جو اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دے سکے، تقریباََنصف صدی سے دو ہی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دے کر اپنے اوپر مُسلط کرنے والی مایوس پاکستانی قوم نے اس بار پاکستان تحریک انصاف جیسی نئی جماعت کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر چُنا مگر افسوس کہ اس نئی جماعت میں بھی وہی پُرانے چہرے نمو دار ہوئے، اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس جماعت نے اپنے دور حکومت میں ظلم و تشدد اور جبر کی ایسی انہتا کر دی جس کی سابقہ ادوار میں مثال نہیں ملتی، مسائل میں پسی ہوئی پاکستانی قوم پر مہنگائی اور ٹیکسوں کی مد میں ایسے پہاڑ گرائے کہ عام آدمی کا اس دور حکومت میں جینا تو کیا سانس لینا مُحال ہو گیا، ہم آج نئے پاکستان میں معیشت کی بد حالی اور بے روزگاری کا بُری طرح سے شکار ہیں ہم تباہ حالی، مہنگائی، نا جائز تجاوزات کے نام پر توڑے گئے مکانات ختم کیے گئے کاروبار کا ماتم منا رہے ہیں، اور قانون، صحت، تعلیمی نظام سے مایوس اور محروم ہیں عدالتوں کے انصاف سے دلبرداشتہ، چوری، بے ایمانی، ملاوٹ، لوٹ کھسوٹ، رشوت اور انسانی تذلیل کا شکار ہیں، سرکاری اداروں کی حکمرانی، بیوروکریٹس و سیاستدانوں کی من مانیوں کی وجہ سے گندگی اور غلاظت میں رہنے پر مجبور ہیں، اچھی اور سستی ٹرانسپورٹ سے محروم اپنے مالی حالات سے پریشان ہو کر آئی ایم ایف سے لے کر ایک ایک قرضے اور غیر ملکی حکمرانوں سے امداد مانگنے میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت نے سعودی عرب سے 9ارب ڈالر چین سے 6ارب ڈالر یو اے ای سے 3ارب ڈالر ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 86ارب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی پِسی ہوئی قوم پر اضافی بلوں کا بوجھ ڈال کر 22ارب ڈیم فنڈز سے 14ارب اور اربوں روپے ریکور کیے، حکومتی عہدیداروں کے بقول سابقہ حکومتوں نے اربوں کی کرپشن کی جواَب رُک گئی ہے پھر بھی کمر توڑ مہنگائی روز بروز بڑھی جا رہی ہے کراچی میں رونما ہونے والے حالیہ واقعہ نے پوری قوم کے دِل ہلا دیے مگر بے رحم حکومت ٹَس سے مَس نہ ہوئی، 5بچوں کے محنت کش باپ میر حسن نے اپنے بچوں کی فرمائش پوری نہ کر پانے پر مہنگائی بے روز گاری اور غربت سے تنگ آ کر خود سوزی کر لی، بچوں نے سردی سے بچنے کے لیے باپ سے گرم کپڑوں کی فرمائش کی تھی، مرحوم نے مرنے سے پہلے وزیر اعظم پاکستان کو خط بھی لکھا مگر ٹھیک اسی دن وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اسلام آباد میں نو جوانوں کے پروگروم کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا کہ “زندگی اونچ نیچ کا نام ہے، ہنسی خوشی کی زندگی صرف کہانیوں میں ہے اور سکون صرف قبر میں ہے”یعنی وزیراعظم کے مطابق سکون حاصل کرنے کے لیے عوام کو قبروں میں جانا ہو گا، جو باپ غربت کی وجہ سے خود کشی کر لے اس ملک کی اشرافیہ کو مر جانا چاہیے!!!اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کُتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کیلئے بھی میں جوابدہ ہوں!!!یہ الفاظ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں جن کے دور خلافت میں اسلامی مملکت 22لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی، مگر پاکستان میں کُتے تو دور کی بات انسان بھوک، بے روزگاری اور طاقتور کے ظلم و ستم سے مر رہے ہیں لیکن کسی حکمران کو اپنے انجام کی پر واہ تک نہیں ہے، یقیناََ پاکستان کے
ان حالات کا ذمہ دار 10فیصد حکمران طبقہ ہے جس میں 5فیصد جاگیر دار اور5فیصد صنعتکار سرمایہ دار ہے جو باقی 90فیصد محکوم طبقے کے وسائل پر قابض کرپٹ ٹولہ اور اپنے مفادات کی خاطر ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے حکمران ہیں، پاکستان کے بہت بڑے صوبے سندھ میں غربت افلاس، تنگدستی اور سماجی مسائل کی وجہ سے خود کشی کے رجحانات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، سال 2019ایک سال میں غربت اور دیگر مسائل سے پریشان تقریباََ 442افراد نے خود کشی کی جِن میں 2سو خواتین اور 242مرد شامل ہیں، کاروکاری اور قتل کی وارداتوں میں بھی تقریباََ 700افراد جان کی بازی ہار گئے، سندھ کے صرف 3اضلاع میں 47خواتین سمیت 160افراد نے خود کشی کی، عمر کوٹ، تھر اور میر پور خاص جن میں زیادہ تعداد نو جوان اور خواتین کی ہے، ویسے بھی کسی ملک میں انصاف کے نظام کے متاثر ہونے اور مہنگائی کے حد سے گزرجانے سے ملک میں افراتفری، چوری ڈکیتی، لوٹ مار اور کود کشیوں میں خود بخود اضافہ ہوجاتا ہے، حکومت وقت سے اپیل ہے کہ اشیائے ضروریہ آٹا چینی، گھی، چائے، صابن، صَرف، مصالحہ جات، تیل، گیس، دالیں، پھل، سبزیاں، کپڑے، ادویات، بیسن، میدہ، دودھ، دہی، نان، روٹی، مرچ، چنے، چاول، گوشت، مٹھائیاں، بِل گیس اور بجلی و دیگر ضروریات زندگی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور ٹیکسوں کی بھر مار سے عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے، ان کو سستا کر کے عوام کو ان کے جینے کا حق واپس دیا جائے، وگرنہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔
کب تلک آئین کی آڑ میں ہم یونہی
ٹیکس کی توپ تلے ایسے ہی دَبے جائیں گے
ضرورتیں کب تک دیکھیں گی تماشا اپنا
بازار کب تک مہنگائی کے سجے جائیں گے
قہر بن کے حکم اترتا ہے ایوانوں سے
دِل کو اب خوف لگا رہتا ہے انسانوں سے
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com