دوستی میں ہی زندگی ہے یارو

تحریر: مدثر سبحانی چیمہ

انسان کو جب مالک کائنات نے تخلیق کرکے اس دنیا میں بھیجا تو ساتھ ہی اسے مختلف رشتے بھی عطا کردیئے مثلاً ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوی، بچے وغیرہ، یہ وہ رشتے ہیں جو رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ایک تحفہ ہیں، ان کے علاوہ ایک خوبصورت رشتہ وہ ہے جو انسان خود بناتا ہے،اس رشتہ کا نام”دوستی“ ہے۔جب بھی لفظ ”دوست“ کے بارے میں سوچتا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے مجھے اس وقت (جب میں نے ہوش سنبھالاتھا)سے اب تک کے تمام دوستوں کے عجیب عجیب چہرے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
دنیا کے سب سے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام دوستوں کی جھوٹی تعریفیں کرنا ہے اوراکثر میں کسی نہ کسی صورت مصیبت میں پھنسا رہتا ہوں کیونکہ ان کی سچی تعریف کروں تو یہ غصہ کرتے ہیں اور اگر جھوٹی تعریف نہ کروں تو ناراض ہوجاتے ہیں۔
آج بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ آج میں اپنے کئی قسم کے دوستوں کی پٹاری آپ کے سامنے کھولنے کی جسارت کروں گا اگر آپ کو الٰہ دین کے چراغ سے نکلنے والے یہ جن پسند نہ آئیں تو آپ بھی میری طرح برداشت ضرور کیجئے گا۔
میرے تین قسم کے دوست ہیں۔ایک تو وہ جو میرے بچپن اور محلے کے ہیں، دوسرے سکول/ کالج وغیرہ کے اورتیسرے وہ جو قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ ان الگ الگ مزاج کے دوستوں سے دوستی بڑی گہری اور تعلق بہت مضبوط ہے، اگر ان سے چند دن ملاقات نہ ہو تو معدہ خراب ہوجاتا ہے اور باتیں ہضم کرنے کے لیے کیپسول کھانے پڑجاتے ہیں۔
دو ہفتے قبل علیل تھا،شہر سے باہر ایک عزیز کی شادی کی دعوت ملی، دل بہت خوش ہوا کہ اب اس گاؤں جانا ہے جہاں زندگی کے بڑے یادگار دن گزرے ہیں، اس گاؤں سے محبت اس لیے بھی ہے کہ یہاں میرے چند خوبرو اور عزیز از جان لنگوٹیوں کا مجموعہ ہے، سرپرائز دینے کے چکر میں ان کو بغیر بتائے چلا گیا۔
ابھی گاؤں کے سٹاپ پر اترا ہی تھا کہ سامنے سے ایک شرارتی دوست نے موٹرسائیکل لا ماری، جس سے گوڈوں، گٹوں کے نٹ کابلے ڈھیلے ہوگئے۔ میں نے پوچھا تمہیں کیسے الہام ہوا کہ میں آرہا ہوں؟ تو یہ کہتے ہوئے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے محبت بھری جاندار جپھی ڈالی تو بیماری کوسوں دور بھاگ گئی۔دو دن وہاں رکا، خوب بچپن کی یادیں تازہ کیں اور محبتیں سمیٹتا ہوا واپس لوٹا۔
اس کے بعد چند دن قبل بے تکلف ہم جماعت دوستوں نے اچانک گھر دھاوا بول دیا، ڈرتے ڈرتے اچانک آمد کا پوچھا تو کرارا جواب دیا:”ساڈی مرضی جدوں مرضی آئیے، تینوں کوئی تکلیف اے“، وغیرہ وغیرہ۔
گزشتہ دنوں قلم و قرطاس سے وابستہ دوستوں سے لاہور میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
جیسے ہر شادی میں عبداللہ دیوانہ ہوتا ہے ایسے ہی ان مختلف کیٹگری کے دوستوں میں ایک نہ ایک دوست لازمی ایسا ہوتا ہے جو محفل کی رونق اور شان ہوتا ہے۔ہم دوست جب بھی اکٹھے ہوتے ہیں تو سب کی مانگ اس دیوانے کی ہوتی ہے جوطنز و مزاح سے بھرپور جملے زبان سے ایسے نکالتا ہے جیسے پریس مشین سے صفحے نکلتے ہیں۔ دوستوں میں ایک ایسا بھی موجود ہوتا ہے جو ہمیشہ دوسروں کو ریس(غصہ دلانے/چھیڑنے)کے لیے اشارے کرتا رہتا ہے اور خوب مزے لیتا ہے،اگر کبھی غلطی سے اس کی باری آجائے تو فوراً ریس ہوکر کہتا ہے:”میرے نال آرام نال رہو، ورنہ میں گھر چلا جانا اے“۔
یہ دوستوں کا رشتہ دنیا کا سب سے بہترین انسانی تخلیق کردہ رشتہ ہے۔جس کے بغیر زندگی ادھوری اور محفلوں میں سناٹے نظر آتے ہیں۔یہ ہم سے کبھی خفا ہوتے ہیں تو کبھی جان تک چھڑکتے ہیں۔اس رشتے میں قدرت نے ایسی کشش رکھی ہے کہ جب بھی ملے انسان غم بھلا کر مسکرا اٹھتا ہے۔انسان دوسرے رشتوں سے میل جول یا بات چیت میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی بونگی نہ ماردے لیکن یہی شخص دوستوں کی بے تکلفانہ صحبت میں بونگیاں مارنے پر فخر گردانتا ہے۔دوستوں کے سامنے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، بولنے اور ہنسنے کے ضابطے کا خیال نہیں رکھنا پڑتا۔
یہ دوستی ہی کا رشتہ ہے جس میں ہم ایک دوسرے سے بے فکر ہوکر دھڑلے سے گالم گلوچ کی حد تک چلے جاتے ہیں، کبھی کبھی تو گریبان بھی پکڑ لیتے ہیں اور اگلے ہی لمحے گلے بھی مل رہے ہوتے ہیں دوستوں کے علاوہ اور کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ہم سے ایسے بات کرے۔
یہ دوست ہی ہوتا ہے جو سب خامیوں کا پتہ ہونے کے باوجود بھی دل سے لگا کررکھتا ہے اور ہمارے خراب موڈ میں بھی ہمیں پسند کرتا ہے۔
میری زندگی کو سنوارنے اور پرسکون بنانے میں بے شمار دوستوں کاہاتھ ہے، جو کبھی غصے سے سمجھاتے ہیں اور کبھی پیار سے، کبھی غلط کام پر حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو کبھی اچھے کام پر خوب حوصلہ افزائی، ہر دکھ کی گھڑی میں دو قدم آگے نظر آتے ہیں اور خوشی و کامیابی کے لمحات سے خود کو خوب لطف اندوز کرتے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ زندگی ان ہی دوستوں کی وجہ سے گل گلزار بنتی ہے اور ان کے بغیر دنیا کی ہر خوشی کا رنگ پھیکا لگتا ہے۔
آج کے اس دور میں اچھا دوست کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں جو تمہارے ساتھ خود غرضی، دھوکہ دہی، فریب، لالچ اور مطلب پرستی کے بغیرتمہارے ساتھ مخلص رہے۔
قارئین کرام! اب وہ دوست رہے نہ دوستیاں جو بغیر کسی فائدہ اور مقصد کے ہوتی تھیں۔ آج کل دوستیاں صرف مطلب نکالنے کے لیے ہوتی ہیں اور خود اپنے دوستوں کو برائی کی طرف لے جاتے ہیں، کبھی والدین کی نافرمانی پر اکساتے ہیں تو کبھی کسی گناہ کی راہ دکھاتے ہیں۔
بخاری شریف کی حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اچھے دوست کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مشک بیچنے والے کی دکان کہ کچھ فائدہ نہ بھی ہوتو خوشبو ضرور آئے گی اور برا دوست ایسا ہے جیسے بھٹی سے آگ نہ بھی لگے تب بھی دھوئیں سے کپڑے ضرور کالے ہوجائیں گے“۔
سچا دوست وہی ہوتا ہے جو اپنے دوست کو جہالت کے اندھیروں سے باہر لے آئے، جو برے دوست کو گھر والوں، معاشرے اور اللہ و رسول کی پسند جیسا بنائے، مخلص اور اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو صحیح کاموں کی ترغیب دے اور برائی کے کاموں سے بچائے۔
اللہ کریم سے دعا ہے سچے اور مخلص دوست عطا فرما، ہمیں اپنے دوستوں کی قدر و عزت کرنے کی توفیق دے اور اے میرے پروردگار!میرے مخلص دوستوں کو تادیر سلامت رکھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com