بات کرکے دیکھتے ہیں

بات کرکے دیکھتے ہیں
تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘جوں ہی یہ جملہ آنکھوں کی اسکرین اور دل ودماغ کے نہہ خانوں سے اُبھرتا ہے تو پہلا تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ ایک شخص جس کو تیسرے شخص کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے یا اُس کا حلیہ ،کردار ،رعب ،دبدبہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ پہلا شخص اپنی تمام ہمت ،جوانمردی اور جذبوں کے سمندر سے لبریز ہو کر کہہ اٹھتا ہے ۔اچھا یہ بات ہے؟ تو چلو ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘
ادبی روایت کی پرکھ و پڑتال میں نکلیں تو یہ شاعری مصرعہ ہے اور احمد فرازؔکے شعر سے اُخذ کیا گیا ہے ۔احمد فراز کا یہ شعر کچھ یوں ہے ـ
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘
بڑے بڑے نامور ادیبوں کے ناموں کی لمبی فہرست میری میموری میں شامل ہے جنہوں نے اپنی اپنی کتب کے نام شاعری سے اخذ کیے ہیں جن میں سے چند کا ذکر ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘میں بھی کیا گیا ہے ۔مختار مسعود کی آواز دوست ہو یا کئی چاند تھے سرآسماں ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی یا جاگے ہیں خواب میں ،اختر رضا سلیمی کا ناول اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔غزلوں ،اشعار سے یعنی شاعری سے کتابوں کے لیے نام اخذ کرنا پرانی روایت چلی آرہی ہے۔ سراج احمد تنولی نے بھی اس روایت کو قائم رکھا ہے ۔
سراج احمد تنولی کتاب دوست نوجوان ہے اب ماشاء اللہ صاحب کتاب بھی ہو گیا ہے ۔یہ نوجوان صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ادب پرور شخص بھی ہے ۔جس کا ادبی لگائو ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سے عیاں ہے ۔جس طرح ان کا لگائو اور ادبی دلچسپی ہے مستقبل میں بڑا نام پائے گا ۔ابھی تو ترقی کی طرف پہلا زینہ ہے ابھی اسے بہت سفر کرنا ہے ۔میں اس کا مستقبل تاب ناک دیکھ رہا ہوں ۔
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سراج احمد تنولی کا شاہکار ہے جس میں 43مشاہیر علم و ادب کے انٹرویوز ہیں ۔انٹرویو ایک معروف صحافتی اصطلاح ہے ۔یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے جسے ہم اردو میں ملاقات ،روبرو ،گفتگو یا بات چیت کہہ سکتے ہیں ۔انٹرویو ایک جامع لفظ ہے اور اس کا صحیح اردو متبال لفظ موجود نہیں ہے ۔انگریزی زبان کا یہ لفظ صحافت کی دُنیا میں اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ یہی لفظ اب اردو میں بھی مستعمل ہے ۔صحافت میں انٹرویو کو خاص اہمیت ہے اور انٹرویو کسی مقصد کے لیے بات چیت کا دوسرا نام ہے ۔انٹرویو خبروں کو بھی جنم دیتا ہے ۔سراج احمد تنولی ایک اُبھرتا ہوا صحافی ہے ۔انہوں نے یہ انٹرویو ز روزنامہ سرگرم نیوز ’’کے ادبی صفحے ‘‘کے لیے کیے ہیں ۔اب یہ ایک جامع کتا ب ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کی صورت ہمارے سامنے ہیں ۔
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘اکتوبر 2019ء میں پاکستان ادب پبلشرکے روح و رواں سمیع اللہ خان نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے ۔سمیع اللہ خان خود بھی ایک ادیب اور صحافی ہیں۔ادب کے نگینوں سے متعارف کرواتے رہتے ہیں ۔بات کرکے دیکھتے ہیں 436صفحات کی سفید کاغذ پر چھپی معیاری اور شاندار کتاب ہے جس کی قیمت 800روپے ہے ۔
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کا انتساب کچھ یوں ہے ،محبت کے پیکر ،مہربان و شفیق والدین نرگس بی بی اور جان محمد کے نام جن کے علاوہ اس مطلبی دُنیا میں بے وجہ کوئی دعائیں نہیں دیتا‘‘یہاں لکھاری ہارے ہوئے شخص کا تصوردیتا ہے اور معاشرے سے مایوس دِکھائی دیتا ہے ۔میرے نزدیک اس جملے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔سراج احمد تنولی کا محمد نعیم یاد کا پنسل اسکیچ عمدہ اور بہت خوبصورت ہے ۔ساتھ ایک شعر بھی دیا گیا ہے جو کچھ یوں ہے :
بڑھتے رہو کہ تم ہو ملک و قوم کا سرمایا
شجر بھی تم ،ٹہنی بھی تم اور تم ہی ہو سایہ
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کے بارے میں چند علم وادب کی شخصیات نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ہے۔ جن میں سمیع اللہ خان،انٹرویو کی تاریخ کے جھرونکوں سے چند موتی سامنے لائے ہیں اور سراج احمد تنولی کے کام کو سراہا ہے ۔ڈاکٹر اسحاق وردگ لکھتے ہیں جیسے جیسے وقت کا پہہ آگے بڑھتا جائے گا ویسے ویسے بات کرکے دیکھتے ہیں کی قدروقیمت بڑھتی جائے گی ۔احمد حسین مجاہد لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سراج احمد تنولی کی صحافتی اور ادبی زندگی کا وہ روشن باب ہے جس پر وہ جتنا فخر کرے کم ہے ۔جمیل احمد عدیل ؔلکھتے ہیں سراج احمد تنولی جواں سال ادیب ہیں ان کی طبعی سیمابیت خبر دیتی ہے کہ فکر و فن کی ایک سے زائد اطراف کو وہ اپنی پہچان کا ترجمان بنانے میں بامراد ٹھہریں گے ۔سید رحمان شاہ لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘ایک گلدان کی طرح ہے جس میں مختلف رنگ کے پھول اپنی منفرد خوشبو اور رنگ کے ساتھ ہمیں مختلف ادیبوں کی صورت میں دِکھائی دیتے ہیں ۔
ہوا کے رُخ پر ،کھلی ہتھیلی پہ خشک مٹی
اب اس سے بڑھ کر میں اپنے بارے میں کیا بتائوں
قبلہ ایاز صاحب لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں‘‘ ایک وقیع دستاویز ہے اس میں متعلقہ حضرات کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر ان کی مختصر آراء بھی شامل ہیں۔مثلاسی پیک اور موجودہ حکومت کی کارکردگی وغیرہ ۔نیر نوجوانوں کی راہنمائی کے لیے مفید مشورے بھی شامل ہیں ۔بعض حضرات کے انٹرویوز میں ان کی ذاتی زندگی سے ہٹ کر معاشرے کے لیے سر انجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔بحیثیت مجموعی سراج احمد تنولی صاحب نے بڑی محنت کی ہے اور کتاب کو اہل علم کے لیے مفید سرمایہ بنا دیا ہے ۔بے شک قبلہ ایاز صاحب درست فرماتے ہیں ۔کیونکہ میں نے باریک بینی سے کتاب کا مطالعہ کیا ہے ۔
’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کے انٹرویوز میں بعض سوالات مشترک ضرور ہیں لیکن جوابات ایک جیسے نہیں ہیں ۔ہر شخص نے اپنے تجربے اور،مشاہد ے کا نچوڑ بیان کر دیا ہے ۔اس کا سرورق دیدہ زیب ہے ۔بیک فلاپ پہ مصنف خوشگوار موڈ میں کھڑا مسکرا رہا ہے اور ساتھ ہی قبلہ ایاز کا اظہار خیال ہے ۔’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘میں لفظی ،حرفی خال خال غلطیاں ضرور ہیں لیکن مکمل طور پر ایک جامع اور شاندار کتاب ہے ۔میں اس کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک لمحہ کو بوریت کا شکار نہیں ہوا البتہ دلچسپی بڑھتی گئی ہے ۔کہیں کہیں تشنگی ضرور رہی ہے کہ مشاہیر علم و ادب نے جوابات کا دامن سمیٹا ہے ۔جیسے ناصر ملک کا انٹرویو مختصر ہے اس میں تشنگی رہ گئی ہے ۔البتہ ڈاکٹر اورنگزیب نیازی ،ڈاکٹر طارق ہاشمی ،لبنٰی صفدر،سید ماجد شاہ ،سید فہیم کاظمی،اختر رضا سلیمی ،اسد سلیم شیخ،جمیل احمد عدیل ،پروفیسر کلیم احسان بٹ مشاہیر علم وادب نے سیر حاصل گفتگو کی ہے اور محمود ظفر اقبال ہاشمی کے انٹرویوکی افادیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ناولز کے اقتباس دئیے گئے ہیں اور پہلا انٹرویو ہے جس میں کھیلوں کے متعلق پوچھا گیا ہے ۔پروفیسر کلیم احسان بٹ سے انٹرویو لیتے ہوئے السلام علیکم !یعنی سلام کیا گیا ہے ۔’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کو ہر سکول ،کالج اور لائبریری کی زنیت ضرور بنناچاہیے اور ہر اہل علم و ادب شخصیت کے پاس لازمی ہونا چاہیے ۔ یہ ایک خزانہ ہے اور یہ خزانہ ہر شخص کے پاس ہو کیونکہ اس میں علم و ادب کے موتیوں کے سمندر موجزن ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com