آؤ اختلافات پر اتفاق کر لیں

معاشرتی توازن بگڑ رہا ہے یہ ایک ایساسماجی مسئلہ ہے جسے
حل کرنا ریاست سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے

مہر اشتیاق احمد
یہ دنیا انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔اربوں افرادپر مشتمل ہے۔ ہر شہر میں ہنگامہ سابپا ہے۔ کراچی اورلاہور کب کے کروڑوں کو کراس کر چکیہیں۔ کراچی تقریباً ڈیڑھ کروڑ اورلاہور سوا کروڑ کو چھو رہاہے۔لیکن مڑ کردیکھیں تو بسوں اور ویگنوں میں ہر کوئی تنہا، الگ تھلگ دکھائی دے رہاہے۔ آپکو یاد ہے کہ آپ نے بس، ٹرین میں یاشادی کی تقریب میں کسی اجنبی سے آخری مرتبہ کب بات کی تھی؟کی ہی نہیں، ہمیں معلوم تھا ایسا ہی ہوا ہوگا۔ وقت نہیں ملاہو گا۔ یاہمت نہیں پڑی ہو گی۔ ہمت بھی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب گھر اور دفتر میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے کی ضرورت ہو۔ اب ہر کوئی خود میں مگن ہے یا اکیلے پن کی جانب دھکیل دے اگیا ہے۔ گھر ہوں یا دفاتر وہاں بھی اب پہلے جیسی گہما گہمی نہیں رہی۔ اس کی ایک وجہ پرائیویٹ سیکٹر کا عروج بھی ہو سکتی ہے اورگرافی بھی۔ کچھ کو ملنے جلنے کا وقت نہیں مل رہا۔ با قی لیں بھی تو کیسے جیسے خالی ہیں۔ لوگ مہنگائی کے ڈر سے ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں۔ پھر مسابقت کے دور میں ہیر کوئی ایک دوسرے کو اپنا حریف گر دانتا ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی اسکی صلاحیت کو سمجھ نہ لے اور مقابلے پر نہ اُتر اائے۔ اس کو شش میں وہ کئی امراض خرید لیتا ہے۔اسے پتہ بھی نہیں چلتاکہ وہ چپکے چپکے ڈپریشن اورتنہائی کا شکاہو جاتا ہے۔ جس سے اسکی برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔تحمل مزاجی، رواداری، برداشت، انصاف اور غفو و درگزر ایک مثالی معاشرے کی وہ خوبیاں ہیں۔ جن پر اس کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں یہ خوبیاں نہ ہوں تو منفی رجحان کو پنپنے کا موقع ملتا ہے اور پھر وہاں شدت پسندی، تشدد، لاقانیت، عدم برداشت ودیگر برائیاں پھیلتی ہیں۔ جن سے شدید نقصان ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی بات کریں تو گذشتہ چند برسوں سے اعلیٰ ایوانوں سے لے کر جونپڑیوں تک عدم برداشت، تشدد،نفسا نفسی،الزام تراشی دیگر منفی رویوں کی تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ جس سے معاشرتی توازن بگڑ چکا ہے اور ابھی مزید خرابی کی جانب بڑ ھ رہاہے۔یہ ایک ایساسماجی مسئلہ ہے جسے حل کرنا ریاست سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے۔
ٹالرنس! کا معنی برداشت کیا جانا ہے۔ جو درست نہیں۔ ٹالرنس کا صحیح مطلب رواداری سے لے کر درگزر تک کا سفر ہے۔ کہ آپ کس کے ساتھ فرق کا احترام کریں۔ یہ فر ق رنگ، نسپل، مذہب،فر قہ،معاشی تعلیمی و دیگر لحاظ سے ہوسکتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے کسی کی دل آزاری نہ کی جائے۔ زیادہ اوصاف کے مالک یا چھے کام والے کو اجر زیادہ ملتا ہے۔ لیکن انسان ہونا ایک شرف ہے۔ لہذا ہمیں انسان اور جانور کے فر ق کو روا رکھناچاہیے۔ دنیا میں جانوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا رہاہے۔ لیکن ابھی تک انسانوں کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے مین نہیں آتا ہے۔ ہمارے ملک میں نصف صدی پہلے لوگ بلا خوف و خطر اپنی بات کرتے تھے۔ مگر اب ڈر کی وجہپ سے کھل کر بات نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ انہیں تکلیف پہنچائی جائے گی۔ اکثر افراد سزا کے خوف سے اظہار خیال ہی نہیں کرتے۔ جسکی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کاشکار ہو جاتے ہیں۔ انکی صحت متاثرہو تی ہے اور اس کااثر معاشرے پر پڑھتا ہے۔ ہم معاشرے میں ان ٹالرنس کی بات کرتے ہیں؟ معاشرہ گھیروں سے بنتا ہے جبکہ ان میں رہنے والوں کے رویوں کے باعث چیزیں خراب ہوتی ہیں۔ گھریلو تشدد کا رجحان زیادہ ہے۔ والدین اپنے بچوں کو مارتے ہیں مگر اس عمل کو اس لیے نذر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس بچے کے والدین ہیں۔ حالانکہ وہ اسے کسی اورطریقے سے بھی سمجھا سکتے تھے۔ اس ماحول میں جب یہ بچہ جوان ہوتاہے تو وہ مارنے کو ٹھیک سمجھتے ہیں اور لڑکیاں اورکھانے کو ٹھیک سمجھتی ہیں۔ کیونکہ انکے ذہن میں ہوتا ہے کہ والدین جیسے مقدس لوگ مارتے ہیں۔ لہذا اگر خاوند نے ایک دو تھپڑ مارلیے تو کوئی بات نہیں۔ وہ کھانا بھی تو دیتا ہے۔ ایسی عورت کو دنیا سے بھی سپورٹ نہیں ملتی۔جب خیال درست ہوتا جاتا ہے تو اسکی طاقت بڑھتی جاتی ہے کیونکہ سوچ کی کوئی حد نہیں۔ اگر ہم رواداری پر کام کرناچاہتے ہیں تو لوگوں کی نفسیات پر کام کرنا ہوگا اور انکی سوچ بہتر کانا ہو گی۔
عدم برداشت کے رجحان کی وجہ سے دنیا میں ہمارا تاثر ایک غیر مہذب معاشرے کے طور پر جارہا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جا رہا ہے جیسے بعض افراد مذہبی انتہا پسندی سے جوڑتے ہیں۔ جبکہ میرے نزدیک مسئلہ محض انتہا پسندی کا نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور معاشی انتہا پسندی بھی ہے۔ اگر ان تمام پہلوؤں کاجائزہ لیں تو۔ سمجھ میں آتا ہے کہ کس طرح ہمارے لوگوں میں عدم برداشت کا کلچر سرائیت کر گیا ہے۔ تعلیم اور تر بیت کا آپس میں گہر ا تعلق ہے۔ تربیت کے بغیر تعلیم اور تعلیم کے بغیر تربیت کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ہماری سرکاری اور غیرسرکاری تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان غالب آرہا ہے۔جبکہ سوک ایجوکیشن بھی اب تعلیمی نصاب کا حصہ نہیں۔ تربیت کا فقدان ہونے کی وجہ سے لوگوں میں رہن سہن کے آداب نہیں ہیں۔ اور ہرشخص میں غصہ ہے۔ سماجی انصاف نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں میں غصہ اور نفرت پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ اب لوگ قانون کی حکمرانی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے معاملات خودلیڈ کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری حکومتیں پُر امن مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی اور جب تک لوگ سڑکوں پر نہیں آتے تب تک اُنکے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حکومت خود لوگوں کو تشدد کی طرف راغب کرتی ہے۔لہذا اس طرف تو جہ دینا ہوگی۔ غصے کا اظہار، بلند آواز میں بات کرنا، لعن طعن کا کلچر، ایک دوسرے کی کردار کشی کرنا۔ ہمارے ہاں کا میاب ماڈل بن گیاہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی پر غالب آنا ہے یا اپنی بات منوانی ہے تو یہ سب کرناہوگا۔ جمہوریت ایک مثالی نظام ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کس طرز کی جمہوریت چل رہی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما کس زبان میں بات کر رہے ہیں۔ا پنے ورکرز کی تربیت کس طرح کر رہے ہیں۔ اور لوگوں کو کیا راستہ دیکھا رہے ہیں۔ جون ایلیا ء کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”آؤ اختلافات پر اتفاق کر لیں“ ڈائیورستی کے معاشرے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں مختلف مذہب، رنگ، نسل،برادری اور خیالات رکھنے والے لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں جسطرح کا رویہ برتا جارہا ہے۔ اس سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہے۔ افسوس ہے کہ ہم سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر تباہی کی طرف جارہے ہیں اور لوگوں میں ڈائیلاگ کے ذریعے بات منوانے کا رجحان اب ختم ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے حکومت وقت خود ہے۔ ہمارے ہاں تو نبینا افراد کو بھی اپنے مطالبات منوانے کیلئے سڑکوں پر آنا پڑھتا ہے۔ بدقسمتی سے معاملات ٹھیک کرنے کے جواقدامات ہونے چاہیے وہ ہماری ریاست نے نہیں کئے جس کے باعث ہمارے مسائل میں اضافہ ہو اہے۔ والدین،اساتذہ،علما، دانشور اور سیاستدان معاشرے کی تربیت کرتے ہیں۔ م گر اب ان میں بھی برداشت کا مادہ کم ہوتا جارہاہے۔ جو تشویشناک ہے۔ ہم نوجوان میں عدم برداشت کی بات کرتے ہیں۔ مگر ہمارے بڑوں میں بھی برداشت کم ہے۔ جوبچوں میں منتقل ہو رہی ہے اور وہ اس طرح سے اظہار کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں مگر خود احتسابی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان بناناہوگا۔ جس کا ایک حصہ فوج نے کرناہے۔ جبکہ دوسرا حصہ جس میں انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ شامل ہے سیاسی و سماجی داروں نے کرنا ہے۔ فوج نے تو دہشت گر دوں کے ساتھ کامیاب جنگ لڑی، مگر دوسرے حصے پر موثر کام نہیں ہوا۔ اس کا تعلق ہمارے تعلیمی اداروں سے ہے۔ جہاں تر بیت کا فقدان ہے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں ایک مہذب معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنا احتساب کرناہو گا۔ ہم لوگ اس تبح پر ایک دن میں نہیں پہنچے بلکہ اس میں سال لہا سال کی خرابیاں ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی، مذہبی تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے عدم برداشت کارجحان زیا دہ ہو گیاہے۔ ہمیں اس پر تو جہ دینا ہوگی۔ میرے نزدیک ہمیں سائیکالوجیکل فریم ورک کرناہوگا۔اورتعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیاں کر وانا ہوں گی۔ جس سے طلباء میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا رویہ پر وان چڑھ سکے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ حکومت کیلئے عدم برداشت جیسے چیلنج سے نہیں نمٹ سکتی۔ لہذا ج ب تک علماء اساتذہ، دانشور،شاعر،ادیب، سیاستدان سمیت تمام لوگ جو رائے عامہ کوفروغ دیتے ہیں قومی بیانئیے کو فروغ نہیں دیں گے تب تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی معاشی تقسیم نے لوگوں میں نفرت پیدا کر دی ہے۔ ہمارے سماجی انصاف کے ادارے لوگوں کو انصاف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ جس کے باعث لوگوں میں بغاوت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے غم و غصے کا اظہار پر تشدد ریلیوں و احتجاج کی صورت میں کرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں اپنی پالیسیوں کا زسرنو جائزہ لے کر جامع ضابطہ اخلاق تیارکرناہوگ۔ جو پارلیمنٹ سے لے کر نچلی سطح تک لاگو ہو۔ اگر ایسا ہو گیا تو معاشرہ بہتر ہو جائے گا۔
نوجوانوں کو اس میں شامل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کو بطور طاقت استعمال کیا جا ئے اور وہاں موجود خرابیوں کو دورکیا جائے تاکہ برداشت سے بھر پور معاشرہ تشکیل دیاجا سکے۔ عدم برداشت کو اگر قرآنی رو سے بھی دیکھا جائے تو قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جذباتیت کے بدلے حقیقت پسندی، غصے اور اشتعال کی بجائے صبر و تحمل اور انتقامی کاروائی چھوڑکر بردباری اورقوت برداشت کی صف اختیار کرنے کی تلقین کی گئی اور بتایا گیا کہ صبرکا راستہ جنت کاراستہ ہے اور کسی نہ خوشگوار واقع پر بھی کسی بھائی کے کلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اُٹھنا شیطانی راستہ ہے اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اسلیے اس سے جہاں ت ک ہو سکے پرہیزکرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com