آغوش کو آغوش ہی رہنے دیا جائے

آغوش کو آغوش ہی رہنے دیا جائے
دنیا میں کچھ لوگ جانوروں کی سوچ پر اپنی عارضی زندگی گزارنانیز معاشرتی رسم و رواج اور قانون الہی اُور دستور دنیا سے بغاوت کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔بچارے بشر کو پتا ہی نہیں کہ اُس کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتے ہوئے کونسی کونسی اعلی صلاحیتیں عطا کی گئیں ۔کن کن نوازشات سے نوازا گیا۔کُون کُون سی نعمتیں عطا کی گئیں۔اُس کی راحت و آرام کا کیا کیا بندوبست کیا گیا۔سب سے بڑا انعام کہ اُسکو اپنے فیصلے کرنے کا اختیا ر بھی دیا گیا۔ اب دونوں راستے اُسکے سامنے ہیں، پہلا رحمانی اُور دُوسرا شیطانی۔’’پل کی خبر نہیں اور صدیوں کا سامان اکٹھا کرتا ہے‘۔کتنا نادان اُور سادہ ہے یہ خاک کا پتلا۔’’آہـ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے‘‘۔مذہب اُورمعاشرے کے مروجہ قوانین سے بغاوت کبھی بھی اچھا فعل نہیں مانا جاتا اُور نہ ہی اس طرز عمل کی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش ہوتی ہے۔ قوانین کے اطلاق اُورافراد کے باہمی احساس سے ہی معاشرت کا پہیہ چلتا ہے۔ اخلاقیات اور اعلی ثقافتی ،تہذیبی اُورمعاشرتی قدریں کسی بھی سماج میں توازن کا سبب ہوتی ہیں۔ کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلے گا کہ وہ اپنی محنت اور اچھے اوصاف سے اس زندگی کی کہانی میں رنگ بھرتے ہیںاُور معاشرے کے ضابطوں اور قوانین کا خیال رکھتے ہوئے دوسروں کے لیے ایک کامیاب زندگی کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ کیونکہ اُن کامیاب لوگوں کی زندگی میں مادی چیزوں کی اہمیت نہیں ہوتی ،کیونکہ یہ دوبارہ بھی مل جاتی ہیں۔ اُ ن کی نظروں میں انسان اور اُس کامثبت کردارو عمل زیادہ اہم ہوتا ہے کیونکہ ان کاکوئی نعم البدل نہیں ہوتا ۔ کامیاب لوگ کردار کی پختگی اور مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں اُور ساتھ میں اپنی تہذیب و تمدن کی حفاظت اُور روایات کی پاسداری بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
آج پوری دنیا میں نفسانفسی کا دور ھے اُورہر ذی روح کی زباں پر بس ایک ہی بات ہے۔۔ کہاں سے ملے گا میرا فائدہ؟؟۔۔کہاں ہے میرا فائدہ؟؟۔اس خطرناک سوچ نے دنیا کو اندیشوں اُور وسوسوں میں ڈال دیا ہے۔نفسا نفسی کے اس دور میں سب لوگ اسی ایک مصنوعی دوڑ میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔مرد ہو یا عورت ،بس ایک ہی بات ذہن میں ہے ’’میں جیت جائوں‘‘۔’’میںآگے نکل جائوں‘‘۔’’میں نمبر ون، باقی سب نمبر دو‘‘۔’’میں حاکم باقی سب محکوم‘‘۔’’میں بادشاہ باقی سب غلام‘‘۔ مگر اب ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے اُورمزے کی بات کہ وہ دوڑ صنف نازک کی جانب سے ہے۔’’مجھے کیا معلوم، تمھارا موزہ کہاں ہے‘‘۔’’یاد رکھوں! ساری چھریاں کچن میں ہوتی ہیں‘‘۔’’آج واقعی ماں بہن ایک ہورہی ہیں‘‘۔’’ارینج مارچیز، ناٹ میریجز‘‘۔’’میں لا لی پاپ نہیں ،عورت ہوں‘‘۔’’ میں تمھارا بستر گرم نہیں کر سکتی‘‘۔’’نکاح کی اب ضرورت نہیں‘‘۔اس طرح کے بے شمار اُور نعرے ،جن کو میں یہاں لکھ نہیں سکتا۔بھلا ہو پاکستانی عدالتوں کا جنہوں نے اس بار ایسے کسی بھی بے ھودہ نعرے یا پلے کارڈ پر پابندی لگا دی ہے۔پچھلے سال یہ آٹھ مارچ کو خواتین کا دن کم اور ظوائف بازی کا دن زیادہ لگتا تھا۔عام خیال یہی ہے کہ اُس دن جو خواتین نکلی ، وہ سب ایک خاص مکتبہ فکر اور پیشہ سے منسلک تھیں اورمخصوص ایجنڈے اُور ایک سوچ کو آگے بڑھانے کے تحت لائی گئیں ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس بد تمیز اُور مادر پدرآزادی نسواں کے نام پر اس غبارے میں سے ہوا بھی ہماری خواتین نے ہی نکالی اُور مختلف شہروں میں بھرپور طاقت کا مظاہرہ کر کے ان لبرل مسخروں کو آئینہ دکھا دیا اور ثابت کیا کہ خواتین کی اکثریت کا اس شعبدہ بازی سے کوئی تعلق نہیں۔یاد رہے کہ یہ کھیل یورپ اور امریکہ کے ممالک میں کئی عشروں پہلے کھیلا گیا تھااُور آج وہ لوگ اس کو ساری خرابیوں سمیت اس لیے قبول کرنے پر مجبور ہیںکہ’’ اب واپسی کا سفر ناممکن ھو گیا ہے‘‘۔ اُس وقت بڑے بڑے کاروباری اداروں نے ایک خاص منصوبے کے تحت آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنا گاھک بنانے کیلیے خواتین کو میدان میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اس سارے کھیل کا مقصد،عورت کو آزادی کا سبق دے کربازار میں لانا اور اپنے گاھکوں میں اضافہ کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ خاندانی نظام توڑ کر بہت سے نئے کاروباروں کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔جب ایک سازش کے تحت مضبوط خاندانی نظام ٹوٹا تو ڈے کئیر سنٹر بھی بنے،بیوٹی پارلر بھی بنے۔ جب ہر بندہ آزاد ہوا تو بوڑھے لاوارث ہو گئے ،تب اولڈ ہومز بنے۔ خواتین کو چونکہ پیارا اُور خوبصورت نظر آنا تھا تب کاسمیٹکس کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔بے سہارا خواتین کے لیے شیلٹر ہومز اور دارُالامان بنے۔ عورت کو اچھی سیلز گرل بننے کے لیے اپنے آپ کو بیچنا پڑا۔ یوں ایک تیر سے دو شکار کا حصول ممکن بنایا۔اپنی عیاشیوں کا سامان بھی پیدا کیا اور نئے کاروبار کا آغاز بھی ہو گیا۔بچاری عورت ا س جھانسے میں آسانی سے آگئی اور آج اس دلدل میں وہ اس قدر دھنس چکی ہے کہ اُس نے اب مجبوراً سمجھوتہ کر لیا ہے۔ چند اعدادوشمار پیش خدمت ہیں۔امریکہ میں اور یورپ میںتقریباّ سالانہ تین ہزار بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈ زایک دُوسرے کا قتل کرتے ہیں۔سالانہ دس لاکھ ناجائز بچہ پیدا ہوتا ہے اُور ولدیت کا خانہ خالی ہونے کی وجہ سے وہ بچے جنسی راہ روی اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر معاشرے کے بگاڑ میں اضافہ کرتے ہیں۔برطانیہ جو جمہوریت کا گھر ہے وہاں خواتین پر تیزاب گردی کے واقعات دنیا میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔آج کی پاکستانی عورت کو یہ حقائق ذہن میں رکھنے چاہیے کہ اس ساری آزادی نسواں مہم کے کرتا دھرتا اُور روح رواں ممالک نے اپنی عورتوں کو جو موجودہ آزادی دی ہے، اُسکی تاریخ زیادہ پُرانی نہیں ہے۔1920ء کے دور میں خواتین کے حقوق کی تحریک نے جب امریکہ اُوریورپ میںزور پکڑا تو پھر انیس سال سے کم عمر کی شادی ممنوع قرار دینے کا قانون بنایا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ خود سوئیٹزرلینڈ میں 1970ء کی دہائی میں خواتین کو پہلی بار ووٹ کا حق دیا گیا اُور چند سال پہلے ہی انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئین امریکہ نے عورت کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔
دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ عورت اپنے فطری مقام پر’’سپاہی‘‘ نہیں مگر اُسکی آغوش بلاشبہ مجاہد ساز ہے۔اس میں پرورش پا کردنیا کو مایہ ناز لوگ ملے اُور اس آغوش پر بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی فخر کر سکتی ہیں ۔مگر بات صرف اتنی ہے کہ آغوش کو آغوش ہی رہنے دیا جائے۔’’اُسے تربیت گاہ رقص و سرور نہ بنایا جائے‘‘۔اب اگر ہم ایک نظر اپنے مذہب پر ڈالیں تو اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورتوں کو وہ سب حقوق دئیے جو اُن کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلیے ضروری تھے۔ اُس کی عزت و تکریم سب پر لازم قرار دی اُور وراثت میں حصہ دار بنایا،جس کا مغربی معاشرے میں انیسویں صدی تک کوئی تصور نہیں تھا۔نبی پاک ﷺ کی ذاتی زندگی اور ازواج مطہرات کی معاشرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حضرت عائشہؓ کی شخصیت سارے مسلمانوں کے لیے روشن مثال ہے کہ جنہوں نے اسلام کی حدود میں رہ کر اسلام کی بے پناہ خدمت کی اُور یہ حقیقت ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث کابھاری ذخیرہ اُن کے طفیل ملا۔اسلامی تاریخ ایسی بے شمار خواتین کے ذکر سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے اسلام کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کو احسن طور پر سرانجام دیا اُور یوں انسانیت کے مفاد میں کام کیا ۔ ہماری پاکستانی خواتین کو اسلام کی طرف سے دی گئی آزادی پر فخر کرنا ہو گا اُور اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرے کی بہتری میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔اسی میں ہماری فلاح اور سلامتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com