مصور الم، شہنشاہ جذبات مقبولیت کا دیوتا۔دلیپ کمار

مرزا صہیب اکرام
ساوتھ ایشیا کا  سب سے قدم شہر پشاور ہے جس کی تاریخ کے تانے بانے سات ہزار قبل جا نکلتے ہیں. اس شہر نے کئی بار عروج و زوال کے موسم سہے، یہاں پر کئی مذاہب اور تہذیبوں نے عظمت بھی دیکھی اور وقت کے ساتھ بہت سی ثقافتوں کو انسان نے مٹتے ہو? بھی دیکھا. اس تاریخ ساز اہمیت کے حامل شہر میں بکھشالیوں سے لے کر پشکلاوتیوں تک، کشان قبیلہ سے یونانی باختر دور تک، گندھارا تہذیب سے عربوں تک  اور پھر پشتونوں، مرہٹوں اور مغلوں سے لے کر سکھوں تک اور اس کے بعد  برطانوی راج رہا. کہا جاتا ہے کہ ہر دور میں گزرے وقتوں کے کچھ دیوانے بیٹھ کر آنے والی نسلوں کو ماضی کے روشن اسباق اور تلخ یادیں کہانیوں، داستانوں اور قصوں کی صورت میں سنایا کرتے تھے. اس مشہور اور عہد ساز جگہ جس کو 1930 میں انگریز سرکار کے قتل عام کے بعد سارے برصغیر نے جانا اس کا ذکر کتابوں سے قبل سینوں میں نسل در نسل محفوظ چلا آ رہا تھا. اس مشہور جگہ جہاں قصہ گو بیٹھ کر زمانوں کے رنج و غم کھولتے اس کا نام قصہ خوانی بازار پڑ گیا. کہا جاتا ہے کہ صدیوں تک یہاں آنے والا ہر مسافر اپنے ساتھ کچھ قصے لاتا اور جاتے سمے کچھ واقعات اپنے ذہن کی کتاب میں ساتھ بھی لے جاتا. اس عظیم بازار علم کو اپنی ادبی علمی وسعت کے باعث غیر تحریر شدہ تاریخ کا مرکز کہا جاتا تھا.اس کو بعض سیاحوں نے پکاڈلی کا نام بھی دیا. کیوں کہ یہاں بھی قصوں کی تاریخ صدیوں پر محیط رہی ہے.
اسی قصہ خوانی بازار میں آج سے   98 سال قبل  11 دسمبر 1922 کے ایک روشن دن ایک زمیندار غلام سرور خان کے گھر لڑکے کی پیدائش ہوئی جس کا نام اس کے حسن و جمال، سرخ و سفید رنگت، کھلتی مسکان اور چمکتی روشن پیشانی  کو دیکھتے ہوئے محمد یوسف خان رکھا گیا۔۔
11 دسمبر کی روشن اور اجلی صبح کسے علم تھا کہ آج اس بازار میں ایسے انسان کا جنم ہو رہا ہے جس کے بعد یہاں کی سات ہزار سالہ تاریخ جو فقیروں سے شاہوں تک پھیلی ہوئی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس بڑے قد کے انسان کی چمک کے سامنے ماند پڑ جا? گی. اس بازار سے ایک انسان ایسا قصہ لے کر نکلے گا جس کی دھوم ہندوستان کی سرحدوں کی قید سے نکل کر دنیا کے ہر اس ملک تک جا? گی جہاں فن اور فنکار کو مانا اور پوجا جاتا ہے.کون جانتا تھا کہ یہ ایک ایسے ستارے کی آمد ہے جس کی روشنی اگلی صدی میں برصغیر کے فلم بینوں کے دلوں پر راج کرے گی۔
فن اداکاری کی معراج دلیپ صاحب نیاپنے بچپن کے ایام ممبئی /دیولالی میں گزارے.انہوں نے  ابتدائی تعلیم barnes school دیولالی سے حاصل کی. اس کے بعد ممبئی کے انجمن اسکول سے پڑھائی کی.وہ شہر جہاں دلیپ صاحب  ایک مسافر اور طالب علم بن کر آئے تھے اسی شہر بے مثال کو کیا معلوم تھا کہ آنے والے سالوں میں اس شہر میں راج کرنے کے لئے راجہ بھوج کا پرویش ہو چکا ہے .یہ  شہر بے خبر تھا کہ اس کی گود میں مغل اعظم پل رہا ہے. وقت کا پہیہ اپنی طاقت سے بھاگ رہا تھا. دلیپ کمار اپنے اندر کے کلاکار سے انجان مالی حالات سے نبردآزما ہو رہے تھے.1940 میں کم عمری میں ہی پونا میں آرمی کینٹین چلا کر مشکل وقت کاٹ رہے تھے

وہ فٹ بال کے بہت  شوقین تھے۔راج کپور دلیپ صاحب کے بچپن کے دوست رہے ہیں۔ فلمی دنیا میں ان کا کبھی بھی کوئی مخالف نہیں رہا وہ ہمیشہ ہر دل عزیز انسان اور ایک گاڈ فادر بن کر چھوٹوں پر دست شفقت رکھتے رہے.ان کے گیارہ بھائی بہن میں صرف ایک ناصر خان نے فلموں میں کام کیا.
فروری 1966 میں سائرہ بانو سے شادی ہوئی اس وقت دلیپ کمار کی عمر 44 سال اور سائرہ بانو کی 22 سال تھی۔
اس کے بعد  1943 میں   بامبے ٹاکیز  کی مالکن  دیویکا رانی کے ہاں نوکری شروع کر دی. اردو زبان و بیان پر اچھی گرفت ہونے کے باعث لکھنے کے شعبہ میں ان کو جگہ مل گئی.
1944 میں دیویکا رانی نے اپنی  پہلی فلم ” جوار بھاٹا ”  کے لئے یوسف خان کو بطور ہیرو کاسٹ کیا اور ان کو دلیپ کمار کا نام دیا. کون جانتا تھا کہ اس کے بعد دیویکا رانی کا نام دلیپ صاحب کے ساتھ جڑنے کی بدولت تاریخ کے ان صفحات کی زینت بنے گا جن پر کبھی وقت کی دھوپ نہیں پڑے گی.جوار بھاٹا ایک فلم نہیں ایک عہد کا آغاز تھا ایسا عہد جس نے ہندوستان کے سینما کو زمین سے اٹھا کر فلک کی اس بلندی پر پہنچا دیا تھا جس کا تصور بھی خال تھا.
1944  سے قبل اور بعد میں ہندی سینما میں کئی  مدوجزر آئے لیکن ایک جوار ایسا آیا جس کے بعد کوئی بھاٹا نہیں آیا. وہ انسان  ہندی سینما میں اتنی آب و تاب سے چمکا کہ اس نے پھر کبھی زوال نہیں دیکھا. اس جوار کی لہروں نے بعد میں ہر آنے والے کو بھاٹے سے اوپر نہ جانے دیا. ہر ایک کو بلند ہونے کے لئے اس آسمان کی جانب دیکھنا پڑا. جس کو دنیا دلیپ کمار کے نام سے جانتی ہے.
جوار بھاٹا کے بعد آئی فلمیں پریتما اور ملن بھی فلم بینوں پر  رنگ نا جما سکیں لیکن اس کے بعد آنے والی فلم جگنو نے ہندی سینما کے اتہاس کو بدل ڈالا. 1947 میں ہندی انڈسٹری  میں ایک ایسا دیپ جلا، ایک ایسا جگنو روشن ہوا جس نے  راہ کے اندھیرے مٹا کر ایسی روشنی بھر دی جس سے بعد میں آنے والے ہر فنکار نے  اپنے حیثیت کے ساتھ جلا حاصل کی.
اس دور کے مشہور فلمی نقاد بابو راو نے آغاز میں دلیپ صاحب پر تنقید کرتے ہو? کہا تھا   کہ یہ نوجوان ایکٹنگ نہیں کرسکتا. لیکن ملن اور جگنو سے کامیابی کے لازوال سفر کا آغاز کرتے ہو? دلیپ کمار نے فن اداکاری کو وہ بلندی عطا کی کہ  فن اداکاری کیمطالب و مفاہین کو سمجھنے کے لئے لوگوں کو دلیپ صاحب کی فلمیں دیکھنی پڑیں.
ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ” جگنو ” اور اس کے بعد ” شہید ” اور پھر محبوب صاحب کی انداز نے دلیپ کمار کے روشن مستقبل کی نوید سنا دی.
50 کی دہائی ہندی سینما کی یادگار دہائی تو  قرار پائی ہی لیکن  اس کے ساتھ ساتھ قسمت شہرت عزت کی دیوی اور فلمی اقتدار کا ہما دلیپ صاحب پر مہربان ہو گیا.ان کی فلموں نے ہندی سینما کو دنیا کے کئی ممالک تک پہنچا دیا.اداکاری کے نئے پیمانے طے ہو?. دلیپ کمار نے ان دس سالوں میں ایسے شاہکار فلم بینوں تک پہنچائے جو نا کبھی اس سے قبل کسی نے دیکھے تھے نہ ہی اس کے بعد ایسی کلاسک موویز کسی آنکھ نے دیکھی۔
جوگن،بابل،شکست، داغ،امر، دیدار،اڑن کھٹولہ،مدھو متی اور دیوداس جیسی عظیم  فلموں کے بعد دلیپ صاحب کو سٹار پاور،شہنشاہ جذبات، مصور الم  اور مقبولیت کا دیوتا کہا گیا.
کرداروں کے اندر چھپی جزئیات تک  کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لینے والے عظیم کلاکار اس قدر گہرائی میں جا کر کرداروں کو خود پر حاوی کرتے کہ حقیقت کا گمان گزرتا.لیکن اس باریک بینی کا نقصان یہ ہوا کہ دلیپ صاحب شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئے. پھر اپنی ذہنی صحت کو توانا کرنے اور دماغی طور پر نارمل ہونے کے لئے اپنے معالجین  کے مشوروں پر عمل کرتے ہو? جب دلیپ صاحب نے ہلکے پھلکے رول چند رول کیے تو تب ایک نئی جہت سے فلم بین متعارف ہو?. مصور غم، شہنشاہ جذبات اور ٹریجڈی کنگ کا خطاب پانے والے عظیم ستارے نے جب آن، آزاد اور کوہ نور جیسی فلموں میں کام کیا تب لفظ مزاح، ٹائمنگ، رفتار، ہنسی، حسن ادائیگی، بے ساختگی، روانی، چہرے کے اتار چڑھاو،  قہقہوں، لطافت اور ظرافت نے اپنا وجود حاصل کیا. کچھ بن کہے دیکھنے والوں کو رلا دینے والے نے ایسا تازہ شفتہ اور کھلا کھلا مزاح پیش کیا کہ لوگ کی آنکھوں میں اس بار آنے والے آنسو ہنسی اور قہقہوں کے تھے.
اگلی دہائی کے سفر کی  شروعات  کے آصف کی ” مغل اعظم ” جیسی عظیم الشان فلم سے ہوئی.جو ہندی فلمی تاریخ کی چند مہنگی فلموں میں سے ہے۔لوگوں کی توقع کے خلاف دلیپ نے سلیم کا رول اس یادگار طریقہ سے نبھایا کہ اس کے بعد کسی اور کو اس رول میں دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ مغل اعظم وہی فلم قرار پائی جس کے بعد آج تک ویسی فلم کو بنانا اور دکھانا تو درکنار اس جیسی فلم کا تصور بھی محال ہو گیا. اس فلم میں جہاں ہر شعبہ اپنی معراج پر تھا وہیں پر سلیم کے رول میں اپنی پاٹ دار آواز میں جب دلیپ صاحب (سلیم)نے پرتھوی راج کپور (اکبر) سے کہا  کہ ” میرا دل آپ کا ہندوستان نہیں جس پر آپ حکومت کرسکیں ”  تب   ہر محبت کرنے والے دل کی یہی آواز تھی کہ ہمارا دل کسی شاہ کی سلطنت نہیں بنے گا جہاں پر محبت کے پھول نہ کھلیں.

اس کے بعد ” گنگا جمنا ” آئی. جو کمرشیل ہندی فلموں کے لئے ٹیکسٹ بک کا درجہ رکھتی ہے ناصرف اس فلم کی تھیم کو 70s 80s کا کمرشیل سنیما بار بار استعمال کرتا رہا بلکہ اس کے ساتھ دلیپ کمار کی  ایکٹنگ بھی آنے والے اداکاروں کے لئے ایک مثال رہی. اس فلم کی کہانی خود دلیپ کمار نے لکھی. اور اس طرح ہندی سینما کو پہلا حقیقی اینگری ینگ مین ملا جو بدلے کی بھاونا لے کر سسٹم سے لڑ پڑتا ہے. یہ فلم اپنے دور میں کلاسک کے درجہ پر گئی اور ساتھ ہی ساتھ ٹرینڈ سیٹر بھی بنی. جس کے آئیڈیا پر بعد میں بہ شمار اچھی اور بری فلمز بنیں.گنگا جمنا  پہلی ایسی فلم تھی جو گانوں ساتھ ساتھ  مکمل  پوربی لہجے میں فلمائی گئی. یہ اپنے آپ میں ایک نئی تاریخ تھی۔
اس کے علاوہ 60 کی دہائی میں ” دل دیا درد لیا”  ”سنگھرش ”  لیڈر ”  آدمی”  اور  ” رام اور شیام جیسی فلمیں آئیں جن سے کچھ  باکس آفس پر گنگا جمنا والا رنگ نہ جما سکیں لیکن آج کلاسک میں شمار ہوتی ہیں اور بارہا ان فلمز کے آئیڈیا پر کام آج تک ہوتا آیا ہے.اس کے ساتھ ساتھ اپنی پہلی ہی بنگالی فلم سے بہترین اداکار کا بنگالی جرنلسٹ ایوارڈ بھی حاصل کیا.
یہ دہائی بھی تین فلم فیئر ایوارڈز کے ساتھ دلیپ کمار کے نام رہی. یہ مسلسل  دوسری دہائی تھی جس میں دلیپ کمار سب سے اوپر رہے.
70 کی دہائی فلموں میں دلیپ کمار نے کل چار فلموں میں کام کیا.ان میں   داستان،  گوپی،سگینہ، بیراگ شامل ہیں.چار میں سے تین فلموں کے لئے دلیپ کمار کو بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا.1976 سے 1980 تک دلیپ کمار نے فلموں سے بریک لے لیا۔۔
80 کی دہائی میں کرانتی جیسی بلاک بسٹر  سے شاندار واپسی کے بعد ودھاتا،،  اور شکتی اور کرما جیسی کامیاب اور بلاک بسٹر فلمیں دیں. اس کے ساتھ ساتھ مزدور، دنیا، مشعل، قانون اپنا اپنا، دھرم ادیکاری جیسی سپر ہٹ فلموں میں ایسے  شاندار کردار ادا کئے کہ   فلم بین جان گئے کہ جس فلم کے ساتھ دلیپ کمار کا نام جڑ جا? وہ بس دلیپ کمار کی فلم ہوتی ہے تب یہ معانی نہیں رکھتا کہ صاحب کا  رول ہیرو کا  تھا یا کیریکٹر. جس فلم میں دلیپ کمار جلوہ افروز ہو? وہ  فلم دلیپ کمار ہی کی کہلائی.
شکتی میں جب دلیپ کمار اور  امیتابھ بچپن کا مہا سنگرام ہوا تب دلیپ کمار نے فلم فیئر ایوارڈ جیتا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فلم میں اداکاری میں امیتابھ سے اتنے بلند نظر امیتابھ ان کے  سامنے میدان اداکاری میں مار کھا گئے.
90 کی دہائی میں دلیپ کا آغاز دلیپ کمار نے سوداگر سے کیا جس میں   32 سال بعد دلیپ صاحب اور راج کمار ساتھ آئے تھے. اس فلم نے بھی بے مثال کامیابی حاصل کی. اس کے بعد دلیپ کمار کی صرف ایک فلم آئی جو سوداگر سے 7 سال بعد لیٹ ریلیز ہوئی.
ان کے علاوہ چانکیہ، شکوہ، کالنگا اور آگ کا دریا جیسی نا مکمل اور ادھوری فلموں کا شائقین کا انتظار رہا مگر قلعہ دلیپ کمار کی اب تک کی  آخری فلم ثابت ہوئی.
مہان اداکار کا  1944 سے شروع ہونے والا فلمی  سفر 1998 تک جاری رہا اور تب قلعہ آئی اور در حقیقت یہ قلعہ دلیپ صاحب کی معراج، عظمت کا قلعہ ہے. ایسا قلعہ جس کے سنگھاسن پر بس ایک انسان بیٹھا ہے، جس کو لوگ فن اداکاری کا دیوتا سمجھتے ہیں. ہر ایک اس قلعہ کو دیکھ سکتا، رشک کر سکتا، اس کی چھاؤں میں پناہ لے سکتا، اس کی آگ سے خود کو سینک سکتا. لیکن اس قلعہ میں پرویش کا حوصلہ ہمت اور معیار کبھی کسی کے پاس نہیں آیا. قلعہ سلیم کا تھا، سلیم کا ہے اور سلیم کا رہے. کیوں کہ یہ محبت کی داستان ہے جہاں اکبر سے قبل سلیم آتا ہے. جہاں نفرت سے قبل محبت کا ذکر ہوتا ہے….
دلیپ کمار کو ہندی فلموں کے سب سے  بہترین اداکار کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے. بالی ووڈ میں صرف دلیپ کمار ایسے عظیم اداکار ہیں جن سے بعد والوں میں سے ہر ایک متاثر رہا. منوج۔کمار، راجندر کمار،دھرمیندر  سے لے کر نصیر الدین شاہ، امیتابھ بچپن،  شاہ رخ خان سے لے کر نواز  الدین صدیقی تک شائد ہی کوئی ایسا  فنکار ہو جو دلیپ کمار سے متاثر نہ ہو۔۔۔ایک اداکار کا دہائیوں تک کئی نسل کے اداکاروں کو متاثر کر لینے میں کمال صرف اداکاری کا نہیں تھا بلکہ اس میں بے انتہا  محنت اور لگن شامل ہوتی ہے. اور کمال تک پہنچنے کی جستجو بھی شامل ہوتی ہے  تب جا کر صدیوں کے بعد کسی شعبے کو اپنا اوتار ملتا ہے. جس کی مثال ہر نسل کے لئے قائم رہتی ہے.
دلیپ کمار نے ہندی فلموں میں   method acting متعارف کروائی. وہ اداکاری کے میدان میں اتنا ڈوب جاتے تھے کہ انسان کو حقیقت کا گمان ہوتا ہے. وہ ہر کردار کو اس قدر جاندار اور پختہ طریقے سے  نبھاتے تھے کہ ان کا انداز اس رول کے لئے ماڈل قرار پاتا. ان سے ہر ایک نے سیکھا کہ کسی بھی کردار کا حق کس طرح ادا کیا

.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com