مذہب پرستوں کا مقدمہ

ہمارے یہاں کسی روایتی مولوی پر زنا کا الزام لگے تو ہم اسے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں. ہماری توپوں کا رخ اس ایک شخص یا اس کے سہولت کاروں کی بجائے مجموعی طور پر مذہب پرستوں کی جانب ہو جاتا ہے. ہماری گفتگو کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ جیسے تمام مذہب پرستوں کا ذہن ٹانگوں کے درمیان ہوتا ہے. ہونا تو یہ چاہیے کہ مجرم کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جائے اور برا بھی صرف اسے کہا جائے جو جرم کرے. مولوی یا مدارس کے اساتذہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں. وہ ولی اللہ ہو تو سکتے ہیں لیکن سب نہیں. اکثر عالم دین بھی نہیں ہوتے،. حافظ البتہ ہوتے ہیں اور حافظ بھی ایسے کہ جن کی ماہانہ تنخواہ آج کے دور میں دس ہزار سے کم طے پاتی ہے. مدارس میں سے ایک آدھ کیس سامنے آتا ہے لیکن کیا جدید تعلیمی اداروں میں بھی یہی تناسب ہے؟ کیا آپ اور میں یہ نہیں جانتے کہ سمسٹر سسٹم کے نتیجے میں اب اکثر لڑکیوں کے نمبر کلاس میں جائے بنا ہی زیادہ کیسے ہو جاتے ہیں؟ ہمیں بہترین نمبرز لینے والی اکثر طالبات عملی زندگی میں ناکام کیوں نظر آتی ہیں. کیا دفاتر میں وومن کارڈ استعمال نہیں ہو رہا؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ تعلیمی اداروں میں کلچر کا حصہ سمجھے جانے والی دوستی کے نام پر طلبا اور طالبات کے درمیان کونسا رشتہ پنپتا ہے. کیا ہم نہیں جانتے کہ یونیورسٹی کی اکثر طالبات کس روانی سے مردانہ گالیاں بکتی اور سیکس پر گفتگو کرتی ہیں؟ کیا ہم اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ لیکس سیکس ویڈیوز میں 99 فیصد کا تعلق مدارس سے نہیں ہے، یہ ہمارے اسی مہذب کلچر کا آئینہ ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں. کیا ہم اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ یونیورسٹیز کے اکثر طالب علم شادی سے قبل شادی شدہ ہوتے ہیں. کیا ہم بھول گئے ہیں کہ محض نمبر نہ دینے پر طالبہ کے حراسمنٹ کے الزام پر لیکچرار خودکشی کر چکا ہے اور جو خودکشی نہیں کرتے وہ عزت بچانے کیلے بلیک میل ہوتے ہیں. کیا والدین واقعی نہیں جانتے کہ پوش علاقوں کے چائے خانوں میں آدھی رات کو چائے پینے کے بعد گاڑی میں بیٹھنے والی ان کی بیٹی کے پاس اپنی گاڑی تو ہے ہی نہیں. کیا قصور کے حسین خان والا گاوں کے لوگ مذہبی تھے؟ کیا ہم مہذب معاشرے میں ہائی سکول، کالج، یونیورسٹی اور دفاتر میں سے کسی ایک جگہ کو سیکس فری جگہ قرار دے سکتے ہیں. کیا ہم واقعی انجان ہیں کہ ہمارے معاشرے کے بڑے شہر شام 7 بجے کے بعد چکلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جہاں سڑکوں پر ریٹ طے کیے جاتے ہیں. یہاں بہن بھائی اور باپ کا چھوٹی بیٹی سے زنا کا کیس رپورٹ ہو چکا ہے اور ان میں سے کوئی بھی مذہبی شخص نہیں تھا. آپ جن چھوٹے بچوں کے ریپ کا رونا روتے ہیں ان کے ملزمان کی اکثریت عالم دین نہیں ہے لیکن ایک مخصوص ذہنیت کے تابع ہو کر ہم سو میں سے وہ ایک واقعہ تلاش کرتے ہیں جس کا تعلق مذہب سے جڑتا ہو. اگر برا نہ لگے تو کہنے دیجیے کہ ہمارے جدید تعلیمی ادارے اب ڈگریاں تو دیتے ہیں لیکن تعلیم اور تربیت نہیں دیتے. یہاں ایک ایک ماہ میں انگلش لینگویج سکھانے کا دعوی کر کے محض نوجوان لڑکے لڑکیوں کو سیٹنگ کا لالچ دے کر فیسیں اکٹھی کی جاتی ہیں. یہ وہ سچ ہے جو جانتے ہم سب ہیں لیکن کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے. ہم مدارس کے کسی ایک واقعہ کی مثال سارا سال دیتے ہیں لیکن معاشرے کے باقی تمام شعبہ ہائے زندگی پر پردہ ڈالتے ہیں کیونکہ اس پردے کے نیچے ہمارا اپنا چہرہ چھپا ہوتا ہے. اصلاح کی ضرورت اگر ہے تو پھر مدارس کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس پورے معاشرے کو ہے(سید بدر سعید)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com