یومِ مزدور،لاک ڈاؤن اورفاقہ ہے

یومِ مزدور،لاک ڈاؤن اورفاقہ ہے!
اختر سردار چودھری
انسان مال و دولت کی محبت میں اس قدر شدید ہے کہ اللہ سبحان و تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ”بے شک انسان مال و دولت کی محبت میں بڑا شدید ہے“ انسان کہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں نے کمایا ہے،جو حا صل کیا ہے وہ سب میری عقل،میرے دست و بازو کی کمائی ہے۔اور چونکہ میں اس کا مالک ہوں اس لیے اسے جس طرح چاہوں خرچ کروں۔اللہ سبحان و تعالی اوراللہ کا رسول ”العفو“ کا حکم دیتا ہے۔ذخیرہ اندوزی سے روکتا ہے۔العفو کا مطلب ہوتا ہے اپنی ضروت سے زیادہ مال و دولت اور اشیائے ضرورت کو اللہ کی خوشنودی کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔جو ایسا نہیں کرتا وہ اللہ سے سرکشی کرتا ہے۔جس سے دل پتھر ہوتے ہیں۔قیامت کے دن اس کا حساب تو ہو گا ہی دنیا میں بھی ایسے لوگ سکون کی دولت سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔
ٓآج لاک ڈاؤن کو چالیس دن ہو چکے ہیں۔حکومت دیہاڑی دار طبقے کی مدد کر رہی ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ مدد ان کو مل رہی ہے جو پرو فیشنل بھکاری ہیں یعنی جن کا پیشہ بھیگ مانگنا ہے یا وہ جو اچھے خا صے کھاتے پیتے ہیں ان کو جو اصل حق دار اور پسا ہوا طبقہ ہے جسے ہم سفید پوش کے نام سے جانتے ہیں ان تک مدد نہیں پہنچ رہی۔ایسے کافی لوگ دیکھے ہیں جو اس کے اہل نہیں تھے انہیں گورنمنٹ سے مدد مل چکی ہے اور جو حقیقی اہل تھے وہ محروم ہیں اس کی اصل وجہ تو چیک کرنے کا سسٹم ہے۔کچھ سفید پوش افراد نے دلگیر آواز میں بتایا کہ ہم نے بھی بھیجا تھا ڈیٹا لیکن جواب ملا کہ پڑتال جاری ہے اور تاحال ابھی تک پڑتال جاری ہی ہے۔یہ ہی حال مدد کرنے والی دیگر تنظیموں کا ہے ان میں سے جماعت اسلامی سب سے بڑھ چڑھ کر خدمت کر رہی ہے۔اور کوشش کر رہی ہے کہ اصل حق داروں تک مدد پہنچ سکے۔کوشش تو حکومت بھی کر رہی ہے لیکن جس طرح قانون کا بن جانا اوربات ہے اور عمل ہونا اور بات ہے ایسے ہی اس پر عمل نہیں ہو رہا۔
اسلام نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی مزدور کے حقوق متعین کر دیے تھے۔لیکن کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے ماننے والے معاشرے و ممالک میں ہی مزدوروں کو ان کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ بڑے دکھ کی بات ہے،بڑے افسوس کی بات ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مزدوروں کو ان کے حقوق حاصل ہیں یہ ہی وجہ ہے مزدوری کرنے کے لیے لوگ بیرون ممالک جاتے ہیں۔پاکستان میں مزدور کی جو حالت اس وقت ہے اسے ایک مزدور ہی جان سکتا ہے۔
ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے۔میں نے لکھا ہے منایا جاتا ہے۔ایک تہوار کی طرح لیکن اس میں مزدور کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جاتا جس سے حقیقی طور پر مزدور کو فائدہ حاصل ہو سکے۔مثلاََ حکومت نے کم از کم ایک مزدور کی دیہاڑی کتنی طے کی یا ماہانہ مزدوری کیا ان مزدوروں کو وہ مل رہی ہے؟ اگر نہیں مل رہی تو کیوں نہیں مل رہی؟ اگر نہیں مل رہی تو مزدور کیوں اس کے خلاف عدالت میں نہیں جاتے؟ اس لیے کہ جو اجرت انہیں مل رہی ہے وہ بھی بند ہو جائے گی،اس لیے کہ انہیں اپنے عدلیہ کے سسٹم پر بھروسہ نہیں ہے۔کہ انہیں ان کا حق مل جائے گا۔پہلے ہی کتنے تکلیف دہ حالات تھے جنہیں وباء (کرونا وائرس) نے مزید بڑھا دیا ہے۔ذخیرہ اندوزں نے مال جمع کر لیا ہے۔ان کے خلاف قانون ہونے کے باوجود عمل نہیں ہے۔اگر اشرافیہ ان دنوں مزدور طبقے کی مدد کریں تو اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔
جیسا کہ پہلے لکھا ہے اس طبقے میں اکثریت سمجھتی ہے کہ انہوں نے مال و دولت جمع کیا ہے یہ ان کی دست و بازو کی کمائی ہے۔انہیں سمجھنا چاہیے اسلام کہتا ہے اس میں کمزور طبقے کا حق ہے۔دور حاضر کا اہم مسئلہ غربت نہیں بلکہ امرا ء میں احساس کی کمی ہے۔یوم مئی کو مزدوروں کے حق میں،حقوق کیلئے پروگرام منعقدہوتے ہیں اور یہ تقریبات،سیمینار وہ لوگ کرتے ہیں جن کو مزدوروں کے حالات کا علم بھی نہیں ہوتا۔ اس دن کو بڑے زور و شور سے منایا جاتا ہے،ٹی وی پروگرام ہوتے ہیں،اس خاص دن کے حوالے سے اخبارات،مزدوروں کی حمایت،حقوق سے بھرے ہوتے ہیں اور آقا ؤں کے بیانات پڑھ کر لگتا ہے جیسے ان کا دل مزدوروں کے لیے ہمدردی سے بھرا ہوا ہے۔یہ دن آتا ہے گزر جاتا ہے۔اس دن مزدوروں کی باتیں ہوتی ہیں، اس دن مزدور مشہور ہوتا ہے۔
سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس “یکم مئی” کو یہ لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
مزدور کی مشہوری میں یہ دن گزر جاتا ہے لیکن مزدوروں کے حالات نہیں بدلتے۔ایسا ہی ہوتا آیا ہے،ہو رہا ہے نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا۔۔ پاکستان میں اس دن سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔اس دن ان مزدوروں کی محرومیوں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والے خو د محلات میں رہتے ہیں۔ ان کو کیا علم کہ مزدورکیا ہوتا ہے،اور غربت کس بلا کا نام ہے، جناب جبار واصف کے بقول۔
پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے
اُس کی اِس طفل تسلی پہ تو رنجُور ہوں میں
دین اسلام نے مزدوروں کے جو حقوق متعین کیے وہ سرمایہ دار ان کو نہیں دے رہے، بوجہ مزدور وں میں اتحاد نہیں ہے،کیونکہ مزدوروں کا لیڈر مزدور نہیں ہوتا،مزدور بھی اپنے جیسے مزدور کو اپنا لیڈر نہیں بناتے،ان کی تنظیموں کے رہنما لمبی کار والے ہوتے ہیں،کاش اس بات کی مزدوروں کو سمجھ آ سکے کہ ان کے حقوق کیا ہیں جو ان کو نہیں مل رہے اور یہ کہ اس کے لیے ان کو اتحاد کرنا ہے،اپنے میں سے اپنے جیسا لیڈر چننا ہے حق مانگے سے نہیں ملتا حق چھیننا پڑتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں کو بھی اس حقیقت کو سمجھ جانا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی رہا نہیں ہے۔اور حقوق العباد کی معافی بھی نہیں ہے، ان کو اپنے زیر دستوں کا خیال رکھنا چاہیے،دین اسلام نے مزدورکو جو حقوق دیے مزدور کے حقو ق کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔مزدور کی مناسب اجرت کیا ہو نی چاہیے؟ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال قبل اس کا صحیح حل پیش کر دیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جو خود کھاؤ ا یسا انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو ویسا ان کو پہناؤ”
اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ ہی مشکل میں ہے۔وبا ء کی وجہ سے کارخانے،ملز،دکانیں،پرائیویٹ ادارے و سکول،چھوٹے موٹے کاروبار بند ہیں۔ماہ رمضان ہے اور عید بھی نزدیک ہے۔ان حالات میں جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے مزدور طبقہ بہت برے حالات میں ہے۔اس کی وجوہات جب تک دور نہ ہوں، ان کے حالات نہیں بدل سکتے۔وجوہات میں ایک وجہ حکومت کے پاس حقائق پر مبنی اعداد وشمار کا نہ ہونا بھی ہے۔جس کی وجہ سے حکومتی امداد ان حقیقی افراد تک نہیں پہنچ پاتی جو اس کے حق دار ہیں۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں مزدور بے روز گار ہو کر بیٹھے ہیں۔پاکستان میں مزدور بھٹہ مزدور،چھابڑ ی فروش۔ٹھیلا والے،ملازمین،کلرک،چپڑاسی۔مالی،وغیرہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور وہ انتہائی تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اگر برے حالات نہیں ہیں تو صرف سرکاری ملازمین اور بڑے بزنس مین اور جاگیر دار و وڈیروں یا زمین داروں اور کریانہ کی دکان والوں کے نہیں ہیں۔یوم مزدور کو بے شک پاکستان میں چھٹی ہوتی ہے لیکن مزدور کو اس دن دیہاڑی بھی نہیں ملتی۔اور آج کل تو ویسے بھی چھٹیاں ہیں۔
یومِ مزدور ہے، لاک ڈاؤن ہے،میرا فاقہ ہے
یہ یکم مئی 1886 ء کی بات ہے جب امریکا کے صنعتی شہر شکا گو کے محنت کشوں نے اعلان بغاوت کر دیا۔یہ محنت کش (HAY) مارکیٹ چوک پر جمع تھے،ان محنت کشوں نے اس وقت کے حکمرانوں، مل مالکوں، کارخانہ داروں، صنعت کاروں، سرمایہ داروں سے اپنا حق لینے کے لیے ہڑتال کی تھی اور کہا تھا کہ ہمارے اوقات کار مقرر کرو۔ ہمیں روزگار دو، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو، سرمایہ داروں کو مزدوروں کا یہ نعرہ پسند نہ آیا۔ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ شکاگو کی سڑکوں پر مزدوروں کا خون بہنے لگا۔اسی دن ایک مزدور نے اپنے مزدور بھائی کے خون میں اپنی قمیض بھگو کر لہرائی یہ سرخ رنگ بعد میں دنیا بھر کے مزدوروں کا پرچم قرار پایا۔ آخر کار حکمرانوں نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے اور اس طرح آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر ہوئے۔ یورپ میں اوقات 6 گھنٹے ہو گئے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان میں 1886ء سے زیادہ مشکلات ہیں۔یہاں مزدور کے اوقات اکثر فیکٹریوں اور کارخانوں میں بارہ گھنٹے ہیں۔سب سے اہم یہ ہے کہ مزدور ں میں اتحاد نہیں ہے۔ہماری دعا ہے اللہ کرے جلد یہ وبا ء کے دن گزر جائیں اور مزدور اپنی مزدوری پر جائیں۔اپنے کام پر جائیں۔ان کو روزگار ملے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com