علم ،انسانیت اورہم

حمیرا یٰسین
علم ،انسانیت اورہم
آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔علم ہر مسلمان مرد و عورت کی ضرورت ہے۔علم کا مقصد ہی مثبت کی تلاش ہے۔جس سے حلال و حرام ،جائز و ناجائزکی پہچان ہوجائے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور بیان کیا جاتا ہے۔ایٹمی ترقی کا دور تصور کیا جارہا ہے۔سائنس اور صنعتی ترقی کی طرف گامزن ہے۔مگر ہمارے بنیادی مراکز میں عصری ،ٹیکنیکل،انجنئیرنگ،وکالت،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرناآج کے دور کا لازمی تقاضا ہے۔لیکن ایک بنیادی کمی جس کو پورا کئے بغیر ترقی کی طرف جانا ناممکن ہے۔دنیا تعلیم یافتہ لوگوں سے تو بھری بھری نظر آرہی ہے مگرانسانیت تلاش کرنا انتہائی ناگزیر معلوم ہورہا ہے۔جس کی زندہ مثال ہمارے سامنے عیاں ہے ۔ جس طرح چند رو ز قبل لاہور دل کے ہسپتال میں ہمارے پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ ،ڈگری یافتہ احباب ڈاکٹرز اور وکلاء کے مابین واقع رونما ہوا۔ انسانیت کی قدر ہوتی تو انٹر نیٹ پر وڈیو فائل کیوں وائرل ہوتی۔وائرل ہونے پر بھی اتنا بڑا ہنگامہ رونما نہ ہوتا۔جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہمارا سر شرم سے نہ جھکتا۔انسان کو انسانیت کے لیے اخلاقی تعلیم کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ایسی ہی تعلیم کی بدولت ہمارے معاشرہ میں خدا پرستی،عبادت، محبت،خلوق،ایثار،خدمت خلق،وفاداری،اور انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔چودہ سو سال پہلے وہی معاشرہ جو خون کا پیاسا رہتا تھا ۔خون دینے کے لیے تیار کردیا گیا۔ اسکے پیچھے یہی تعلیم چھپی ہوئی تھی جس کی آج کے دور میں انتہائی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔مسلمان تو نام ہی محبت باٹنے کا ہے ۔گذشتہ پچیس دسمبر کے موقع پر تقریب سے بیان کرتے ہوئے فرانس کے پوپ یعنی عیسائی مذہب رکھنے والے نے فرانسیسی لوگوں کو محبت بانٹنے کی نصیحت کی۔اور ہم پاکستانی کس گڑے میں گرتے جارہے ہیں۔وہ ملک جو دوسروں کے لیے امن کی مثال بننا تھا ۔وہ خود ابتری کی جانب سفر کررہا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ زیادہ پڑھے لکھے تو نہ تھے مگر شرم وحیا کے پیکر تھے۔ان کی زندگیوں سے پاکیزگی کی کرنیں جھلکتی نظر آتی تھیں۔لیکن اب جن گھروں میں نوے فیصد سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ تو موجود ہے مگر بے حد بے شرمی کا مظاہر دیکھنے کو ملتا ہے۔اخلاقی تعلیم کی بدولت ہی صالح اور نیک سیرت معاشرہ کی تشکیل ہوسکتی ہے۔آج کے استاد کو بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے خود کو بہترین ثابت کرنا ہو گا۔پیارے آقا ﷺ کا فرمان ہے کہ بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔کیا؟ ہم جیسا معلم ! ہماری تو اپنی ہی زندگی بیان کرنے کے قابل نہیں ہے تو کس طرح سے ہم ایک اچھا اورباضابطہ معاشرہ تشکیل دے پائیں گے۔اگر محترمین لفظوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں لفظوں کی حرمت کو اجاگر کروایا جائے تو یقیناً ہمیں تعلیمی مقاصد حاصل ہوجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com