خاور صغیر ۔۔۔۔میر اپہلا سٹوڈنٹ اور روم میٹ

خاور صغیر ۔۔۔۔میر اپہلا سٹوڈنٹ اور روم میٹ
پروفیسر تنویراحمد
چند دن پہلے مجھے ایک فون آیا۔ اکثر میں آواز سن کر اندازہ لگا لیتا ہوں کہ کس کا فون ہے اگر کوئی نیا نمبر ہو۔ لیکن پہلے ایک دو جملے سن کر مجھے کوئی پتہ نہ چلا کہ کس کا فون ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ماسٹر کا نعرہ لگایا تو میںنے پہچان لیا کہ یہ خاور صغیر ہے۔ خاور صغیر سے میرا پہلا تعارف پنجاب کالج میں ہوا جس میں میں اور وہ دونوں بی کا م کے طالب علم تھے۔ اس کو فلیٹ کی تلاش تھی اور میرے پاس جگہ خالی تھی تو وہ میرے کمرے میں آگیا۔ اس کی باقی تما م عادات کا ذکر تو ساتھ ساتھ ہوگا لیکن ایک اہم بات جو مجھے ناپسند تھی وہ تھا اس کا دائجسٹ پڑھنا اور وہ بھی خواتین کے۔ مہینے کے آغاز سے چار پانچ دن پہلے ہی وہ وحدت روڈ پر موجود واحد بُک ڈپو پر چکر لگانا شروع کر دیتا۔ جیسے ہی نئے مہینے کا ڈائجسٹ آتاوہ فورا خریدتا اور پھر فلیٹ کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ اس دن اس کا کھانا پینا سب ختم ہو جاتا تھا۔ رات بھر جاگتا اور ڈائجسٹ پڑھتا تھا۔ اگلے دو سے تین دن میں وہ ڈائجسٹ ختم کرتا اور نیا ڈائجسٹ خرید لاتا۔ ہر ماہ وہ خواتین کے تقریبا چار سے پانچ ڈائجسٹ پڑھتا تھا۔ ہر ڈائجسٹ دو سے تین دن میں وہ ختم کر دیتا تھا۔ مجھے اس کے اس تیزی سے پڑھنے کی صلاحیت کو دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی۔خاور بہت کم گو ہے۔ اس کا گائوں کا نام رکن پورہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اب بھی خواتین ڈائجسٹ پڑھتا ہے یا نہیں۔
جب پیپر نزدیک آئے تو خاور کی تیاری بالکل نہیں تھی۔ جبکہ میر ا تمام وقت تیاری کرنے اور نوٹس بنانے میں گزرتا تھا۔ اور خاور یا تو ڈائجسٹ پڑھتا تھا یا پھر اپنے ایک کزن کے ساتھ مل کر ہر ویک اینڈ پر وی سی آر لے آتا تھا۔ پوری رات وی سی آر پر فلمیں دیکھتا اور اتوار والے دن خو ب جی بھر کر سوتا تھا۔ موبائل فون تب ہوتے نہیں تھے ہم اپنے گھر میں رابطہ ٹیلی فون بوتھ کے ذریعے کرتے تھے۔ ہمارے گھروں میں تب پی ٹی سی ایل فون ہوتے تھے۔ ٹیلی فون بوتھ پر ہم ایک کارڈ کے ذریعے فون کرتے تھے جس میں یونٹس ہوتے تھے۔ جب پیپرز نزدیک آئے تو خاور کی تیاری بالکل نہ ہونے کے برابر تھی اس نے مجھ سے کہا کہ اپنے نوٹس مجھے دے دوں اور مجھے تیاری بھی کروائو۔ میں فیس بھی دونگا۔ میں نے حامی بھر لی۔ میں نے خاور کو پڑھانا شروع کردیا ۔ وہ میر ا پہلا باقاعدہ سٹوڈنٹ تھا ۔میں نے وہی سے پڑھانے کا آغاز کیا۔ جب میں پارٹ ٹو میں ہوا تو دس سے پندرہ طالب علم میرے پاس کمرے میں ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ کالج میں سکالرشپ کی وجہ سے میری فیس معاف تھی ۔اور میں نے گھر والوں سے صرف پارٹ ون میں اپنے خرچ کے لیئے پیسے لئے لیکن پارٹ ٹو کے بعد سے اپنے تما م اخراجات میں خود ہی برداشت کرتا تھا۔ پھر میں نے اکیڈمی جوائن کر لی اور کچھ ہوم ٹیوشن بھی پڑھانی شروع کردی تھی۔ تمام اخراجات برداشت کرنے کے بعد بھی میرے پاس اتنے پیسے بچ جاتے تھے جو میں اپنے بینک اکاونٹ میں جمع کروا دیتا تھا۔ بعد میں اسی جمع شدہ رقم سے میں نے پہلے پرائیوٹ کالج میں اپنا شیئر بھی ڈالا۔میں جب ماسٹرز میں تھا تو نئے نئے موبائل فون آئے تھے۔ میں نے اپنے جمع شدہ پیسوں سے نیا موبائل بھی خریدا۔
خاور نے پارٹ ون پاس کر لیا لیکن پارٹ ٹو میں اس کی کچھ مضامین میں سپلی آگئی ۔ اس کی تیاری بھی اس نے مجھ سے کی۔ بعد میں اس کو ملازمت مل گئی ۔ کے ایف سی میں۔ آگے ماسٹرز میں اس نے داخلہ نہ لیا۔ بعد میں بھی میری اس سے ملاقات رہی چونکہ میں یونیورسٹی میں اپنے ہوسٹل میں نہیں رہتا تھا بلکہ ان کے ساتھ فلیٹ میں ہی رہتا تھا اور ٹیوشن بھی پڑھاتا تھا۔ جب میں یونیورسٹی ہوسٹل میں رہتا رہا تب بھی کبھی کبھار میری ملاقات خاور سے ہو جاتی تھی۔ جب میرے گورئمنٹ جاب ہوئی تو میری ایک ماہ کی ٹریننگ لاہور میں آگئی ۔ تب بھی میں نے اس کے پاس ہی رہنے کو ترجیع دی۔ اس وقت بھی خاور کے شغل ویسے ہی تھے۔ جو دور طالب علمی میں تھے۔ ملازمت ، ڈائجسٹ اور وی سی آر پر فلمیں دیکھنا اور سوئے رہنا۔
اس کے بعد بھی میں پیپر مارکنگ کے لیئے پنجاب یونیورسٹی جاتا تو کوشش کرتا کہ اس سے ضرور ملوں ۔ وہ اس وقت بھی کے ایف سی میں ملازمت کر رہا تھا۔ جب میں بیرون ملک تھا تب میرا اس سے کوئی رابط نہ رہا۔ چند دن پہلے اس سے فون پر بات ہوئی تو بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ خاور کی شادی بھی ہوچکی ہے اور وہ اپنے گائوں رکن پورا میں زمینیں سنبھال رہا ہے۔ اور اس کے بچے سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ اس سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی نجانے اس نے میرا موبائل نمبر کہاں سے لیا تھا۔ لیکن اس سے بات کرکے اچھا لگا کہ اس نے مجھے ابھی بھی یاد رکھے۔ اللہ اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے اور اس کی اولاد کو اچھے عہدوں پر فائز کرے ۔ امین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com