خادم حسین رضوی … تحریر: انجینئر مظہر خان

تحریر: انجینئر مظہر خان
تقریباً چھ سال سے فیس بُک استعمال کر رہا ہوں اس دوران کء قسم کے منفی پراپیگنڈے اور مذہبی و سیاسی منافرت کو فیس کیا جن میں کچھ میرے نظریات سے مطابقت اور کچھ اختلاف بھی رکھتے تھے۔ کء ایسے علماء کرام بھی زیر بحث آئے جن پر لوگوں نے عقیدت اور نفرت کا کھل کر اظہار کیا۔ آزادی اظہار رائے چونکہ ہر شخص کا بنیادی حق ہے اس کے باوجود چند قریبی دوستوں کے علاؤہ کبھی بھی دین جیسے احساس موضوع پر ڈسکشن کی اور نہ ہی کبھی سوشل میڈیا پر نفرت، فرقہ وارانہ مواد شئیر کیا۔ تاجدارِ ختم نبوّت کا ارشاد گرامی ہے کہ امت میں تفرقہ پھیلانے والا امت کا قاتل ہے۔ اس لیے کافی ڈرتا ہوں کہ نیکیاں تو پلے ہیں نہیں اور شغل شغل میں گناہ ہی اکٹھے نہ ہو جائیں۔
جب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو کلاس فیلو دوست بلال اصغر سے اکثر مسلکی بحث ہوتی تھی جو مڈ ٹرم و فائنل ٹرم کے امتحان کی تیاری کی آخری رات بھی کھا جاتی تھی۔ گھنٹوں کھپنے کے بعد تھک ہار کر سو جاتے تھے اگلے دن پیپر میں کیمیکل ری ایکٹرز اور لاز آف تھرمو ڈائنامکس کی بجائے بدعت و شرک پر لکھنے کو دل کرتا تھا۔
کالم لکھتے ہوئے بھی تین چار سال ہو گئے ہیں لیکن کبھی بھی ایسا کچھ نہیں لکھا جس سے مسلکی یا مذہبی منافرت پھیلنے کا اندیشہ ہو کیونکہ مجھے کفر و شرک کے فتوے اور جنت و دوزخ کے سرٹیفکیٹس بانٹتے ہوئے بہت ڈر لگتا ہے۔ اس لیے مسلکی بحث سے دور رہتا ہوں اور اکثر اوقات اظہار بھی کرتا ہوں کہ مجھے کسی مسلک سے نہ جوڑا جائے سارے مسلک میرے ہیں جس کا جو عمل مجھے قرآن و سنت سے مطابقت رکھتا ہوا نظر آتا ہے میں اسے فالو کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور جس مسلک کا جو عمل قرآن و سنت سے منافی ہو اسے سے دور بھاگتا ہوں۔ لیکن آج مولانا خادم حسین رضوی پر لکھنے کے لیے قلم اٹھایا ہے یہ کوئی مسلکی نہیں بلکہ شخصی موضوع ہے جس پر نیگیٹو اور پازیٹیو دونوں پہلو ڈسکس کرنے کی کوشش کرونگا کیونکہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔
رضوی صاحب عرصہ دراز سے لاہور کی ایک مسجد میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے لیکن ان کو شہرت تب ملی جب توہین رسالت کیس میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو عدالت کی طرف سے سزا اور پھر پھانسی ہوئی تو انہوں نے ان کے حق میں دھرنے اور جلوس نکالے۔ اس کے برعکس ممتاز قادری کے اقدام قتل کو نہ صرف عام لوگوں نے بلکہ مذہبی خصوصاً ان کے اپنے بریلوی مسلک کے علماء الیاس عطار قادری، ڈاکٹر طاہر القادری اور مولانا طاہر اشرفی سمیت بہت سارے علما کرام نے مذمت کی کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے وہ شواہد پر فیصلہ کرے گی ایسے تو کوئی بھی کسی پر توہین رسالت مذہب اور مسلک کا الزام لگا کر قتل کر دے گا جس کی مثال جوہر آباد کے بنک مینیجر کا نا حق قتل ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ شعور پر متفق تھا کہ ناموسِ رسالت کا قانون واضع ہو کہ ہماری جان مال آل اولاد سے افضل ترین ہستی تاجدارِ ختم نبوّت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ناموس پر بھی کوئی حرف نہ آئے اور کوئی نا حق قتل بھی نہ ہو کیونکہ اسی ذات گرامی کا فرمان ہے کہ جنگ کے دوران کافروں کے درختوں اور فصلوں کو بھی نہ جلاؤ تو بھلا وہ دین ایک نا حق قتل کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ لیکن ایسا موقف رکھنے والوں کے بارے میں رضوی صاحب نے جیسے الفاظ استعمال کیے انہوں نے صرف بریلوی مسلک کے اندر ہی نفرت اور ایک نیا فرقہ جنم دیا جو کہ تشویشناک تھا۔۔
اس کے بعد پھر جب پارلیمنٹ میں ختم نبوّت بل میں ترمیم کرنے کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ میں موجود مولانا فضل الرحمان سمیت مذہبی رہنماؤں نے کوئی بات نہ کی لیکن شیخ رشید نے امتی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ختم نبوّت بل میں ترمیم کی گئی ہے تو رضوی صاحب نے دھرنے جلوس نکال کر اور باقیوں نے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کیا جس کو حکومت نے کلیریکل مسٹیک کہہ کر بل منسوخ کردیا۔ حقیقت میں ختم نبوّت کا سب سے بڑا محافظ شیخ رشید تھا اگر وہ پارلمینٹ میں بل کی ترمیمی خبر لیک نہ کرتا تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی لیکن انکشاف کے بعد جلسے جلوس ہر شخص کا آئینی و قانونی حق ہے اور پھر معاملہ بھی ناموس رسالت کا لیکن جلوس میں توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی پر زور مذمت کی تھی اور اب بھی کرتا ہوں۔ ابھی معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا اس بعد پھر جب سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کو بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کیا تو پھر دھرنے جلوس ہوئے اور پھر جسٹس اور آرمی چیف کے قتل کرنے کے بارے دھرنے سے بیان آئے جو قابل مزمت تھے جس کی وجہ سے ان کو جیل بھی جانا پڑا کیونکہ ملک شدت پسندی اور خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا تھا اور بیرونی طاقتیں پہلے ہی ملک کو ڈی سٹبلائز کرنے کے لیے اربوں روپے کی فنڈنگ کر چکے تھے۔ اس لیے ہر طبقے نے توڑ پھوڑ اور افرتفری کو کرٹیسائز کیا گیا۔لیکن رضوی صاحب نے ختم نبوّت کو ہر مسلمان کے دل میں اجاگر کر دیا تاکہ کوئی بھی قادیانی فتنہ ان کو گمراہ نہ کر سکے۔ اس کے بعد پھر جب فرانس کی طرف سے تاجدارِ ختم نبوّت صلی کی بے حرمتی کی گئی تو پھر انہوں نے اسلام آباد لانگ مارچ کیا جس کی جلد اور پرامن سیٹلمنٹ ہو گئی لیکن وہاں سردی لگنے سے ان کی صحت بگڑ گئی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔۔
میرے سمیت بہت سارے لوگوں کا ان سے اتنا سا اختلاف تھا کہ وہ ایسی زبان استعمال نہ کریں جس سے مذہبی و مسلکی اختلاف پیدا ہو اور نہ ہی ملک جلاؤ گھیراؤ اور شدت پسندی کی طرف جائے جس کا اظہار بہت زیادہ کیا گیا۔ ہر پاکستانی کو ان سے چھوٹا موٹا سیاسی و مسلکی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس طرح انہوں نے ناموس رسالت اور ختم نبوّت کا مقدمہ لڑا تاریخ ہمیشہ ان کو ختمِ نبوت کے محافظوں سے یاد رکھے گی اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے اور تمام امت مسلمہ کو ناموس رسالت اور ختم نبوّت کی چوکیداری نصیب فرمائے آمین۔۔
قارئین سے گزارش ہے کہ میرے والد منظور خان اور مولانا خادم حسین رضوی مرحوم کے لیے فاتحہ کا تحفہ ضرور بھیجیے گا شکریہ..!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com