کشمیر کی روداد اوراقوام متحدہ کی قرارداد

کشمیر کی روداد اوراقوام متحدہ کی قرارداد
چوہدری محمدالطاف شاہد
کشمیراورکشمیریوں کے ساتھ سات دہائیوں سے جاری بھارتی جارحیت کے باوجود عالمی ضمیر کی مجرمانہ غفلت بھی قابل مذمت ہے۔155روزسے جموں وکشمیرکرفیو کے نام پریرغمال ہے مگرمقتدرقوتیں خاموش ہیں،اس سے ظاہرہوتا ہے کہ دنیا سے انصاف اورانسانیت کاجنازہ اٹھ گیا ہے۔ 1947ء میں جب اپنی مدد آپ کے تحت کشمیریوں نے بھارت اور ڈوگرہ حکمرانوں کیخلاف اعلان جنگ کیا تو اس وقت بھارت کی فوجیں کشمیر میں سخت مشکلات سے دوچار تھیں۔ لہٰذا ء بزدل اورمنافق بھارت نے اپنے متوقعہ انجام کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ تنازعہ کشمیر یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 35 کے تحت سلامتی کونسل میں پیش کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر طویل بحث کے بعد 21 اپریل 1948ء کو اس کے حل کے لئے 5 ممبروں پر مشتمل اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندو پاک قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن جو 7مئی 1948ء کو معرض وجود میں آیا۔ اس سلسلہ میں اپنی ابتدائی قرار داد 13 اگست 1948ء کو منظور کی۔ لیکن پھر کئی پہلوؤں سے ناقص، غیر واضح اور نامکمل قرار دیتے ہوئے 5جنوری 1949ء کو دوسری قرار داد منظور کی۔ جس میں مبہم اور غیر واضح امور کو واضح کیا گیا تھا۔ درحقیقت 13 اگست 1948ء کی قرار داد کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اقوام متحدہ میں اپنے وفد کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس نا مکمل قرار داد کو خود کمیشن کے ذریعے واضح طور پر درست کرائے تاکہ بعد میں بھارت ان کی من مانی توجیع اور تعبیر نہ کر سکے۔ پاکستانی وفد نے قائد اعظمؒ کی ہدایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے 5جنوری 1949ء کی قرار داد کے مبہم اور غیر واضح پہلوؤں کو واضح طور پر متعین کرانے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ اس طرح یہ کہا بے جا نہ ہو گا کہ اس قرارد اد میں خاص طور پر غیر واضح امور کو واضح کیا گیا ہے۔
13 اگست 1948ء والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ استصواب سے پہلے پاکستان کو اپنی افواج ریاست سے مکمل انخلاء کا پابند ہو گا۔ جبکہ بھارتی فوجوں کی ایک خاص تعداد امن و امان بحال رکھنے کیلئے بدستور ریاست میں موجود رہے گی۔ لیکن 5 جنوری 1949ء والی قرار داد میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست میں پر امن حالات قائم ہونے کے بعد ناظم رائے شماری بھارتی حکومت کے ساتھ مشورہ کر کے بھارت اور پاکستان کی افواج کے حتمی انخلاء کا فیصلہ کرے گا۔ جس میں ریاست کو تحفظ اور استصواب رائے کے آزادانہ انعقاد کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے گا۔ 13 اگست والی قرار داد میں استصواب رائے کے طریقہ کار کو غیر واضح چھوڑ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ دونوں حکومتیں قرار داد کے باقی حصے پر عمل درآمد کے بعد کمیشن میں اس بارے مذاکرات کریں گی۔ جبکہ 1949ء کی قرار داد کی دفعہ (1) میں استصواب رائے کے معاملے کو تقسیم برصغیر کے اصولوں کے مطابق واضح طور پر متعین کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مسئلہ آزادانہ، غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند کی ان قرار دادوں پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا تھا اور عالمی برادری نے بھی۔ بھارت1956ء تک عالمی برادری پاکستان اور کشمیریوں کو ان پر عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کراتا رہا ہے۔ لیکن بعد میں حیلے بہانوں سے عملدرآمد سے انکاری ہے۔
مسئلہ کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں موجود ہے۔ بھارت جب چاہتا ہے مذاکرات کی میز بچھا دیتا ہے اور جب چاہتا ہے مذاکرات کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ بھارت کشمیر پر تو ظلم کے پہاڑ توڑ ہی رہا ہے لیکن 11 دسمبر 2019ء کو BJP حکومت نے اسمبلی میں متنازعہ شریعت بل پیش کر کے جس میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2014ء سے بعد بھارت آنے والے مسلمانوں کو شہریت نہیں ملے گی۔ لیکن یہ قانون سکھوں، ہندوؤں، عیسائیوں اور بدوؤں پر لاگو نہیں ہو گا۔ اس بل سے یہ پیغام ہے کہ بھارت میں 30 کروڑ مسلمانوں کا مستقبل تاریک ہے اور بھارت کو صرف ہندوؤں کی ریاست بنایا جا رہا ہے۔ اس متنازعہ اور امتیازی بل کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان نے اس سلسلہ میں بھارتی حکومت سے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ حکومت پاکستان اور عمران خان کی کشمیر پالیسی بھی واضح ہے۔ جس کو آل پارٹی حریت کانفرنس اور کشمیری عوام تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ کمی یا مزید بہتری کی شاید ضرورت ہے کیونکہ بیس کیمپ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان حکومت پاکستان کے ساتھ اجلاس میں تو مطمئن ہوتے ہیں لیکن پبلک مقامات پر ان کے خیالات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا رویہ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی جارحانہ ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے یا کہ پوائنٹس سکورنگ۔عمران خان نے جواقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کی اس سے جموں و کشمیر میں بھارتی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ کپتان کی تقریر تدبیرسے عاری تھی۔عمران خان تکبر کے کوہ ہمالیہ سے نیچے اتریں اورتدبر سے کشمیر سے داخلی وخارجی تنازعات کا پائیدارحل تلاش کریں تاہم اس مقصدکیلئے انہیں اپنے افکاروکرداراوربیانات کے تضادات دورکرناہوں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ کشمیر کے معاملے پر پاک سرزمین پارٹی کے دوراندیش چیئرمین سیّدمصطفی کمال، آزاد کشمیر کے زیرک صدراورمنتخب وزیر اعظم سمیت ساری کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر کشمیر پالیسی ترتیب دیں تا کہ شکایت کا موقع نہ مل سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com