عملی تصوف کا نمونہ تھے نانا جان علیہ الرحمہ

عملی تصوف کا نمونہ تھے نانا جان علیہ الرحمہ
(پرفیسر حکیم سید شاہ علیم الدین بلخیؒ کی پہلی برسی پر خاص مضمون)

کامران غنی صباؔ
شعبہئ اردو نتیشور کالج، مظفرپور

نانا علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ علیم الدین بلخی فردوسی ندوی کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ذہن آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ ہمارے بیچ موجود نہیں ہیں۔ نانا علیہ الرحمہ سے وابستہ بہت ساری یادیں ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں اور وہ اظہار بھی چاہتی ہیں کہ ان یادوں میں نہ صرف ہمارا ماضی ہے، بلکہ حال اور مستقبل بھی ہے۔ کیوں کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اپنے بزرگوں اور اسلاف کا ہی سرمایہ ہے۔ نانا جان علیہ الرحمہ کے تعلق سے جب کبھی گفتگو ہوتی ہے تو ان کے علمی کمالات، طبی تجربات، فقہی استنباط، تاریخی و سماجی شعور،عالمی سیاست سے ان کی دلچسپی اور ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ نانا جان کی شخصیت کے یہ تمام پہلو ہمیں اپنی طرف ملتفت کرتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کا جو پہلو سب سے زیادہ متاثر کن تھا وہ ان کا ”عملی تصوف“ تھا۔ ہم نے اپنی زندگی میں اگر کوئی جیتا جاگتا بزرگ دیکھا تو یقینا نانا جان کو دیکھا۔ میں یہ بات دعوی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس بات کو کوئی رد نہیں کر سکتا ہے کہ نانا علیہ الرحمہ کی پوری زندگی سادگی اور عاجزی و انکساری سے عبارت تھی۔ اللہ نے انہیں دینی و دنیاوی ہر دو اعتبار سے ”ظاہری ترقی“ کے بھر پور مواقع فراہم کیے تھے۔ وہ گورنمنٹ طبی کالج، پٹنہ کے پرنسپل تھے، وہ ڈین آف فکلٹی بھی رہے۔ انہوں نے اپنے وقت کی بڑی بڑی شخصیات کو نہ صرف دیکھا بلکہ ان سے رابطے میں بھی رہے لیکن انہوں نے کبھی دنیاوی ترقی میں ان رابطوں کا استعمال کرنا گوارا نہ کیا۔ کمال تو یہ ہے کہ بطور فخر نانا جان اپنے تعلقات کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے، کبھی کبھار گھر میں کوئی پرانی بات نکل گئی یا ہم لوگوں نے کوئی سوال پوچھ دیا تب پتہ چلتا کہ نانا جان اپنے وقت کی کن کن عظیم شخصیات سے براہ راست رابطے میں رہے ہیں۔
خانقاہ بلخیہ فردوسیہ کی تاریخی اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ بزرگانِ بلخ اور سلسلہ فردوسیہ کے بزرگوں کی خدمات ایک الگ موضوع ہے، اس پر موضوع پر گفتگو کرنا اس وقت میرا مقصد نہیں ہے۔ نانا جان چاہتے تو دوسری خانقاہوں کی طرح خانقاہ بلخیہ کو بھی ”منظر نامہ“ کا حصہ بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے مروجہ ”جبہ و دستار“ سے اپنی شخصیت کو آراستہ کرنا کبھی مناسب نہیں سمجھا۔ ہم اکثر نانا جان کو لے کر فتوحہ جایا کرتے تھے۔ وہ اپنے ذاتی خرچ سے فتوحہ جاتے آتے تھے۔ فتوحہ ٹیمپو اسٹینڈ سے خانقاہ کچھ دوری پر واقع ہے۔ نانا جان ہمیشہ ٹیمپو اسٹینڈ سے خانقاہ پیدل ہی جایا کرتے تھے۔ البتہ اسٹینڈ پر اتر کر وہ ہم سے پوچھتے ضرور تھے کہ بیٹا! پیدل چل لو گے یا رکشہ کر لیں؟“ ہم اگر تھکے بھی ہوتے تویہ سوچ کر تکلف سے کچھ کہہ نہیں پاتے کہ نانا جان ضعیفی اور آنکھ سے معذوری کے باوجود پیدل چلنے کو تیار ہیں اور ہم رکشہ کرنے کو کہیں؟ فتوحہ میں نانان جان کے مریدین کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن وہ مریدوں کے یہاں کھانے پینے سے گریز کرتے تھے۔
نانا جان بے تکلف نہ صرف عربی و فارسی زبان بولتے تھے بلکہ عربی میں تو ان کے کئی مضامین ملک و بیرون ملک کے اخبارات و رسائل میں شائع بھی ہوئے۔ وہ اگر چاہتے تو متعدد کتابوں کے مصنف ہو سکتے تھے لیکن اس جانب انہوں نے کبھی توجہ نہیں دی۔ چھپنے چھپانے کا شوق انہیں ذرا بھی نہیں تھا۔ مزاج میں عاجزی ایسی تھی کہ محلے میں کوئی معمولی سی تقریب ہو اور انہیں مدعو کر لیا جائے تو کبھی انکار نہیں کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوا کہ کسی کے یہاں شادی ہے۔ بالکل آخری وقت میں کوئی چلا آیا کہ حضرت جنہیں نکاح کے لیے بلایا گیا تھا وہ کسی وجہ سے نہیں آ سکے ہیں،آپ چل کر نکاح پڑھا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔نانا جان کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو قطعاً تیار نہیں ہوتا،نانا جان جبیں پر شکن لائے بغیر چلے جاتے۔ ایک بار میں نے نانا علیہ الرحمہ سے سوال کر دیا کہ”نانا جان آپ اپنی اہمیت کیوں گراتے ہیں، انکار کیوں نہیں کر دیتے ہیں۔ یہ کتنا خراب طریقہ ہے کہ قاضی صاحب نہیں آئے تو آخری لمحے میں آپ کو لیے جا رہے ہیں۔“نانان جان مسکرانے لگے۔ کہنے لگے”بیٹا! وہ اُن کا طریقہ ہے یہ میرا طریقہ ہے۔“
ہم نے نانا جان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ دیکھا کہ وہ ”حقوق العباد“ پر بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔ وہ اکثر اپنی گفتگو میں بھی کہا کرتے تھے کہ بیٹا عبادت میں کوتاہی ہو جائے تو اللہ رحیم ہے، معاف کر سکتا ہے لیکن اگر بندے کا حق پورا نہ ہوا تو اللہ بھی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک وہ بندہ معاف نہ کر دے جس کو تم نے اذیت دی ہے۔ وہ تعلق توڑنے کو سختی سے منع کرتے تھے اور خود بھی تعلق نبھانے کی بھر پور کوشش کرتے تھے۔ جب تک ان کے اندر چلنے پھرنے کی صلاحیت رہی وہ رشتہ داروں، پڑوسیوں اور عزیز و اقارب کے یہاں آتے جاتے رہے۔ وہ صرف اپنے سے برابری والوں کے یہاں نہیں جاتے تھے بلکہ بطور خاص وہ ان لوگوں کے لیے بھی وقت نکالتے تھے جن کے گھر جانا ہم کسر شان سمجھتے ہیں۔ ایک بار عید کے موقع تھا۔ نانا جان مجھے لے کر کئی جگہ گئے۔ وہ اس بیوہ عورت کے گھر بھی گئے جو ان کے یہاں کام کرنے آتی تھیں۔ وہ خاتون نانا جان کو بھیا اور ننا (نانی جان) کو بھابھی کہتی تھیں۔ خاتون نانا جان اور مجھے دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئیں۔ کہنے لگیں کہ بھیا میرے گھر آئے، میری عید ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے سادی چائے میں لچھا بھگو کر ہمیں کھانے کے لیے پیش کیا۔ میرے لیے یہ بالکل نئی چیز تھی۔ میں کھانے میں ہچکچا رہا تھا۔ نانا جان اس سے پہلے جتنی جگہ بھی گئے تھے، انہوں نے لچھا کہیں نہیں کھایا تھا لیکن یہاں انہوں نے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے مجھ سے بھی پوچھا کہ بیٹا کھا رہے ہو؟ میں نے نفی میں جواب دیا۔ نانا جان تھوڑا سا تحکمانہ انداز میں کہنے لگے کہ بیٹا جب کوئی محبت سے کوئی چیز پیش کرے تو انکار کرنا اچھی بات نہیں ہے، کھا لو تھوڑا سا۔ میں نے نانا جان کے کہنے پربادل نخواستہ ہی سہی کھا لیا۔ وہاں سے واپس آتے ہوئے مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں نے نانا جان سے سوال کر دیا کہ نانا! آپ نے پیٹ کا عذر پیش کر کے سب جگہ لچھا کھانے سے انکار کر دیا اور یہاں بااطمینان کھا لیا۔ نانا جان نے مجھے جو جواب دیا وہ میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ کہنے لگے ”بیٹا! اور جگہ دوسری چیزیں تھیں جو میرے موافق تھیں وہ میں نے کھا لیں۔ یہاں اگر نہیں کھاتا تو یہ عورت غریب ہے، اسے محسوس ہوتا کہ میں ا س کی غربت کی وجہ سے نہیں کھا رہا ہوں، اس لیے اس کا دل رکھنے کے لیے میرا کھانا ضروری تھا اور اسی لیے میں نے تم پر بھی زور دیا کہ کچھ نہ کچھ کھا لو۔“
نانا جان کی شخصیت کچھ ایسی تھی کہ ہر طرح کے لوگوں میں وہ ایڈجسٹ کر جاتے تھے۔ کسی سے ملنے میں انہیں ذرا بھی تامل نہیں ہوتا تھا۔ ان سے ملنے والوں میں علما و دانشوران کا طبقہ بھی تھا اور عام لوگوں کا بھی۔ وہ ہر ملنے والے سے اس کے معیار اور ذوق کو ملحوظ رکھ کر بات کرتے تھے۔ علما و دانشوران کے درمیان جب وہ بولتے تو علم کا سمندر موجیں مارتا محسوس ہوتا۔ وہیں جب کسی عام آدمی سے گفتگو کرتے تو بالکل اس کے معیار تک پہنچ جاتے اور بے تکلف گھنٹوں گفتگو کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے پاس اپنے ذوق کی تسکین پاتا تھا۔ ناناجان کیسی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہوں۔ اپنی تکلیف کا اظہار کیے بغیر گھنٹوں گفتگو کرتے۔ اگر کسی نے ان کی بیماری یا تکلیف کے متعلق کچھ پوچھ لیا تو کہتے کہ ”ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔“ ایک بار میں ان سے پوچھ بیٹھا کہ نانا آپ اپنی تکلیف کااظہار کیوں نہیں کرتے ہیں تو کہنے لگے کہ بیٹا اپنی تکلیف کا اظہار دو ہی ذات کے سامنے کرنا چاہیے، ایک تو اللہ کے سامنے، دوسرا اس کے سامنے جو تکلیف دور کر سکے۔ ان دو کے سوا اگر کسی سے تکلیف کا اظہار کیا جائے گا تو تکلیف تو دور ہونے سے رہی، ہاں سننے والے کو سن کر ضرور تکلیف ہوگی۔“
نانا جان علیہ الرحمہ آج ہمارے بیچ نہیں ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ایک روحانی مرکز ویران ہو گیا ہو۔ اگر کوئی مجھ سے میرے پسندیدہ مقررین، مصنفین، علما، ادبا اور دانشوران کے نام پوچھے تو میں بے شمار لوگوں کے نام بغیر وقت ضائع کیے بتا سکتا ہوں لیکن اگر کوئی مجھ سے کسی ایسی شخصیت کانام پوچھے جس کے پاس بیٹھ کر روحانی سکون حاصل ہوتا ہو، جسے ہم اپنا دکھ درد بیان کر سکیں، جس کے کندھے پر سر رکھ کر، آنسو بہا کر ہم اپنے دل کا بوجھ اتار سکیں،، تو میرے ذہن میں دور دور تک کوئی نام نہیں آتاہے۔ یوں تو ہمارے چاروں طرف بے شمار مصنفین، مقررین، مصلحین، علما، ادبا، دانشوران موجود ہیں لیکن ڈھونڈنے سے بھی ایسی شخصیتیں نہیں ملتیں جن سے ہم روحانی فیوض و برکات حاصل کر سکیں۔ جن کی صبحت میں بیٹھ کر ہم کچھ سیکھ سکیں۔ ہر کسی کی رسائی جن تک آسان ہو۔ یہ خوبیاں ناناجان میں موجود تھیں اور یہی خوبیاں انہیں دوسری شخصیتوں سے منفرد مقام عطا کرتی تھیں۔ ایسا نہیں ہے کہ میں ان کا نواسہ ہونے کی وجہ سے یہ باتیں کہہ رہا ہوں۔ جن لوگوں نے بھی ناناجان رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا، ان سے رابطے میں رہے، ان سے فیض حاصل کیا، وہ میرے حرف حرف کی گواہی دے سکتے ہیں۔اللہ نانا جان علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے روحانی فیوض کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com