ملک میں احتساب کےنام پر تباہی ہو رہی ہے

لاہور(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دینے کی اجازت دے دی جس کے بعد انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے گھر پر ویڈیو لنک کے انتظامات کرا رہے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ جج صاحب کہ اہلیہ مختصر بات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دیتے وقت مناسب الفاظ کا استعمال کریں، جج صاحب کی اہلیہ عدالتی ڈیکورم کا خیال رکھیں، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ ہمارے سامنے فریق نہیں ہے۔
2018 میں جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرنز میں تینوں متعلقہ پراپرٹیز کا ذکر کر چکی ہوں، اہلیہ فائز عیسیٰ
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیان ریکارڈ کرایا۔ ویڈیو لنک پر اپنے بیان میں سیرینا کیریرا کھوسو نے کہا کہ وہ ہسپانوی ہیں، ان کے پاس اسپینش پاسپورٹ ہے ، وہ 2018 میں جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرنز میں تینوں متعلقہ پراپرٹیز کا ذکر کر چکی ہیں جن پر بات ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلی پراپرٹی 2004 میں انہوں نے اپنے نام پر خریدی، 2013 میں 2 لاکھ 43 ہزار پاؤنڈز کی پراپرٹی خریدی، وہ پاکستان اور برطانیہ دونوں ملکوں میں ٹیکس ادا کرتی ہیں ۔قبل ازیں فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بدنیتی پر فائنڈنگ دینے پرکونسل کے سامنے کوئی چیز مانع نہیں، جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، جوڈیشل کونسل کے سامنے تمام فریقین ایک جیسے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com