جونا خاں کے یوٹرن ۔۔۔۔

جونا خاں کے یوٹرن ۔۔۔۔!
خالد خان
جونا خاں غیاث الدین تغلق کا بیٹا تھا۔جونا خاں اپنے والد کی وفات کے بعد حکمران بنا۔ اس نے محمد بن تغلق کا خطاب حاصل کیا۔اس نے تقریباً27 برس حکمرانی کی۔انھوں نے بے شمار اقدامات اٹھائے جو مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے۔انھوں نے گنگا اور جمنا کے درمیان دوآبہ میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا جس سے وہ علاقہ ویران ہوا اور لوگ برباد ہوئے۔ شہرہ آفاق کتاب” تاریخ فیروز شاہی” میں آتاہے کہ ” پہلا منصوبہ جو سلطان محمد(جونا خاں) کے دماغ میں آیااور جو علاقوں کی ویرانی ،خرابی اور رعایا کی بربادی کا باعث ہوا۔ وہ یہ تھا کہ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ دوآبہ کے علاقے میں خراج (ٹیکس) کی شرح میں دس اور پانچ فی صد اضافہ ہو نا چاہیے۔اس منصوبے پر بڑی سختی سے عمل کیا گیا۔ جس سے کاشت کاروں کی کمر ٹوٹ گئی۔ مالیہ (ٹیکس) اس قدر سختی سے وصول کیا جاتا تھا کہ اس کی وجہ سے کمزور اور نادار کاشتکار تو بالکل ہی برباد ہوگئے اور ان میں سے جو مال دار تھے اور سامان وغیرہ رکھتے تھے،وہ باغی اور سرکش ہوگئے۔علاقے ویران ہوگئے اور زراعت تقریباً ختم ہوگئی۔دور افتادہ دیہاتوں کے کاشتکاروں نے جب دو آبہ کے کاشتکاروں کی تباہی اور ویرانی کا حال سنا تواس طرح سے کہیں ان پر بھی وہی احکامات نہ نافذ کردئیے جائیں جو دوآبہ کے کاشتکاروں پر کئے گئے ۔انھوں نے بغاوت کردی اور جنگلوں میں جاکر چھپ گئے ۔دوآبہ( گنگا اور جمنا کے درمیانی علاقے)میںغلے کی کمی کا اثر ملک کے دوسرے علاقوں میں غلے کی قلت کی صورت میں نمودار ہوا اور ساتھ ہی بارشیں بھی نہ ہوئیں۔ چنانچہ قحط عام ہوگیا اور یہ قحط کئی سال جاری رہا۔ہزاروں انسان مرگئے ۔ان حالات میں ٹیکس وصول کرنے میں بدستور سختی جاری رکھی تو بغاوتیں شروع ہوگئیں۔”کچھ عرصے کے بعد سلطان (جونا خاں) کو خیال آیا اور کاشتکاروں کا احساس ہوا تو کچھ نرمی کی اور کاشکاروں کو قرضے وغیرہ دئیے۔
جونا خاں نے اپنی حکومت کے تیسرے سال دہلی سے سات سو میل جنوب میں دیو گری ( دکن)کو اپنا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ دیوگری کا نام بدل کر دولت آباد رکھا۔ جونا خاں نے اپنے امراء ، درباریوںاور اعلیٰ طبقوں کو دولت آباد منتقل ہونے کا حکم دیا۔ اس علاقے (دہلی) کے لوگ جو برسوں سے اس کو اپنا وطن بنائے ہوئے تھے۔اپنے آبائو اجداد کے مکانوں میں رہ رہے تھے اور ان کو اس سے دلی وبستگی پیدا ہوگئی تھی ۔یہاں سے کوچ کرنے کے لئے آمادہ نہ تھے۔تاہم شاہی حکم کے تحت انھوں نے نقل مکانی شروع کی۔ان میں سے سینکڑوں لوگ مصائب سفر سے راستے میں ہی ہلاک ہوگئے۔بعد ازاں کچھ عرصہ کے بعد جب جونا خاں (سلطان محمد بن تغلق) کو احساس ہوا تواس نے لوگوںکو دہلی واپس آنے کا حکم دیا اور اسی طرح واپسی پر بھی سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
جونا خاںکی حکومت کے چھٹے سال شاہی خزانے میں چاندی کی قلت ہوئی تو سلطان نے تانبے کے بنے ہوئے علامتی سکے جاری کئے اور حکم دیا کہ ان سکوں کو چاندی کے سکوں کے برابر ہی سمجھا جائے۔اس وقت چین میں تانبے کے سکے اور کاغذ کے نوٹ رائج تھے لیکن ہندوستان کے لوگ اس تبدیلی کو سمجھ نہ سکے۔ہر ہندو نے اپنے گھر کو ایک ٹیکسال بنادیا اور لوگوں نے کروڑوں تانبے کے سکے تیار کیے۔انھوں نے خراج (ٹیکس) بھی جمع کردیا اور گھوڑے، ہتھیار اوردیگر سامان وغیرہ خرید لیا۔جب جونا خاں کا یہ تجربہ ناکام ہوگیا اور اس کو غلطی کا احساس ہوگیا تو اس نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے تانبے کے سکوں کے بدلے میں حکومت کے خزانے سے سونے اور چاندی کے سکے حاصل کرلیں ۔اس سے حکومت کو کروڑ وں روپے کا نقصان ہوا۔قارئین کرام!حکمرانوں کے غلط نظریات سے تاریخ کے دھارے پر بہت گہرے نقوش مرتب ہوتے ہیں۔جو حکمران بے عمل اور خیالی نظریات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ وہ حکمران ملک اور قوم کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ناقابل عمل مفروضوں پر مبنی منصوبوں سے ملک اور ملت کا نقصان ہوتا ہے۔وطن عزیز پاکستان میں اربوں ڈالرز قرضے لیے گئے لیکن ان قرضوں کا آوٹ پٹ زیرو رہا۔ قوم پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا لیکن ملت کی تقدیر بدل نہ سکی۔لوگوں کی حالت زندگی میں کوئی بہتری نہ آسکی۔حکمرانوں اور مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان کی معیشت بہتر ہوگئی ہے تو اگر معیشت واقعی بہتر ہوگئی ہے پھر آئے روز بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیوں کیے جارہے ہیں؟علاوہ ازیںٹیکس کے اضافے سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن اس کے فوائد کم برآمد ہوتے ہیں۔مہنگائی کم ہوگی اور اشیاء کی قیمتیں کم ہونگی تو سیل زیادہ ہوگی۔ جب سیل زیادہ ہوگی توملک ترقی کرے گا اور جرائم کم ہونگے۔ قومی اداروں کو چند افراد کی باعث تباہ نہیں کرناچاہیے اور پھر ان قومی اداروں پر نجکاری کی تلوار نہیں چلانی چاہیے۔ قومی اداروں کے نجکاری سے چند خاندان یا افراد کا فائدہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس سے قوم اور ملک کا نقصان دائمی ہوتا ہے۔ قومی اداروں سے کرپشن ختم کرکے ان کو ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کو دُہرانے سے اجتناب بھرتنے کی سعی کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com