جو جو کی واپسی اور صالحہ صدیقی کا شاہکار

جو جو کی واپسی اور صالحہ صدیقی کا شاہکار
تبصرہ نگار:مجیداحمدجائی2
جو جو کتے کے بچے کا نام ہے ۔آپ حیران نہ ہوں کیونکہ انسان جب جانوروں اور ان کے بچوں سے بے حد محبت کرتا ہے تو ان کے نام بھی رکھ لیتا ہے ۔کسی کو طوطے پالنے کا شوق ہوتا ہے کوئی کبوتر پالتا ہے ،کسی کو بلی پیاری لگتی ہے تو کسی کو خرگوش ،کتے وغیرہ ۔خا ص طور پر بچوں کو جانوروں کے بچے پالنے کا بہت شوق ہوتا ہے ،اسی شوق کی تکمیل کیلئے انہیں پیارے پیارے ناموں سے منسوب کرکے اپنے گھروں میں رکھتے ہیں ،پالتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں ۔
’’جوجو کی واپسی ‘‘صالحہ صدیقی کی کتاب کا نام ہے ۔جو جوکی واپسی واحد کہانی ہے جو کتے کے بچے کے نام سے ہے جسے سرورق کہانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے ۔صالحہ صدیقی 1985ء سے کہانیاں لکھ رہی ہیں ۔صالحہ عزیز صدیقی بچوں اور بڑوں کے لیے برابر لکھتی ہیں ۔میرے عزیزافسانے اس سے پہلے اشاعت ہو کر پذیرائی حاصل کر چکی ہے ۔جس میں خاندانی محبتیں اور تنائوکو موضوع بنایا گیا ہے ۔
صالحہ عزیز صدیقی کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے ہے جو اب گردش زمانے کے ساتھ کرچی کرچی ہو چلا ہے ۔میں بھی کچھ عرصہ کراچی رہا ہوں جب اس کی گلیوں اور سٹرکوں پہ خوف کا جن حکومت کرتا تھا ۔ہر طرف سے کلاشنکوف کی گولیوں کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑتی تھیں ۔’’جو جو کی واپسی‘‘ سترہ کہانیوں پر مشتمل پیاری اور دلکش کتاب ہے ۔جس کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے ۔مصنفہ کا تعلق کراچی سے ہے یہی وجہ ہے ہر کہانی میں کراچی کی جھلک نظر آتی ہے ۔آپ کے اسلوب میں کراچی کے جرائم اور کرائم کے بارے میں اکثریت ملتی ہے ۔جیب کُتروں اور پرس چھیننے والوں کے کرداربیان ہوئے ہیں ۔صالحہ عزیزصدیقی بڑی مہارت سے کہانی کی صورت بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتی ہیں ۔اس طرح باتوں باتوں میں اصلاحی اور اخلاقی درس دیتی ہیں ۔بچوں کی نفسیات خوب اچھی طرح جانتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر کہانی اپنے سحر میں جکڑلیتی ہے ۔
’’جوجو کی واپسی‘‘چھوٹے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے ۔صالحہ عزیزصدیقی بچوں کی سطح پر آکر چھوٹے چھوٹے جملوں ،آسان اور سادہ لفظوں میں کہانیوں کی بُنت کرتی ہیں ۔آپ ماں ،دادی اور نانی بن چکی ہیں سو بچوں کو اچھی طرح سمجھتی ہیں ۔’’جوجو کی واپسی ‘‘،میں آپ کو کئی پہلو ملیں گے ۔اپنے اردگرد سے کشید کردہ کہانیاں ہیں ،ثقافت ،کلچر اور تہذیب کی عکاسی ہے ۔معاشرے میں بچوں کا جرائم اور کرائم میں گرفتار ہو نا اور پھر ان کا انجام دِکھانا ،یوں بُرائیوں کا تدارک اور مسائل کا حل تلاش کیا گیا ہے ۔بچوں کی تربیت بہترین انداز میں کی گئی ۔بچوں میں ہمت،جذبہ ،جدوجہد ،امنگ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے کہانی ’’صائمہ کا خط‘‘ متاثرکرتی ہے ۔
’’جو جو کی واپسی ‘‘کا سرورق علی عمران ممتاز کے مصورانہ ذہن کی تخلیق ہے ۔یہ کتاب جنوری 2020ء میں کرن کرن روشنی پبلشرز نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے جس کی قیمت 250روپے ہے ۔اس کا انتساب اپنے پیارے بچوں رفعت عزیز ،قاضی رمیز اور سعد عزیز قادری کے نام اور بھتیجی عنایا اور بھتیجے سالک صدیق کے نام کیا گیا ہے ۔
جو جو کی واپسی میں چند نامور ادیبوں نے اظہار رائے دی ہے جن میں علی عمران ممتاز ’’رُکیئے‘‘کے عنوان سے لکھتے ہیں بچوں پر والدین کی توجہ نہ دینا بُرے راستے پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں اس کتاب میں انہی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔امان اللہ نیئر شوکت لکھتے ہیں صالحہ عزیز صدیقی جوجو کی واپسی میں کئی پہلو سے کہانی بُنتی ہیں ۔اس کتاب میں خیالات کی وسعتیں اور گہرائیاں ہیں ،فکر کی مختلف سطحیں ہیں ،لفظوں کا انتخاب خوب ہے ،سادگی ،مٹھاس اور جذبہ و آہنگ خوب ہے ۔محمد ندیم اختر لکھتے ہیں صالحہ عزیز صدیقی ان تمام خواتین قلمکار سے منفرد اس لیے ہیں کہ ان کے ہاں سادہ اسلوب اور آسان پیرائے میں قاری کے لیے ہمیشہ سبق شامل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ خوب اُٹھایا ہے ۔صالحہ صدیقی پیش لفظ میں لکھتی ہیں کے بچوں کے لئے بہت کہانیاں لکھیں لیکن افسوس کے ساتھ کبھی کتابی شکل میں لانے کا سوچا ہی نہیں اب جبکہ ساراریکارڈ ختم ہو گیا تو احساس ہوا کہ بچوں کے لیے تو بہت کچھ لکھا مگر کتابی شکل میں محفوظ نہ کر سکی ۔خود کو ملامت کیا اور چور نظروں سے بچوں سے معذرت کی بحرحال کہانی لکھنے کا سفر ایک عرصے سے جاری ہے ۔بیک فلاپ پر نیر رانی شفق لکھتی ہیں جو جو کی واپسی ایک ایسی ہی کہانی ہے جس سے نہ صرف انسانیت کا درس ملتاہے بلکہ بے زبان جانوروں سے بھی حسن سلوک کرنے کا بہترین سبق ملتا ہے ویسے بھی تقریبا ًسبھی بچے معصوم جانوروں اور پرندوں سے محبت کرتے ہیں ۔’’جوجو کی واپسی ‘‘کتاب 100صفحات پر مشتمل ہے اور کلر پرنٹنگ کی گئی ہے ۔بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر کہانی کے ساتھ تصویری ٹائٹل دیا گیا ہے ۔اب پچھتائے کیا ہوتے ،کہانی میں طلعت کو نئی زندگی دلا کر اللہ کا دوست بنا کر پیش کیا جا سکتا تھا ،یوں توبہ کا بہترین درس ملتا۔رازکہانی میں بھی حیرت میں مبتلا رکھا گیا ہے ۔یہاں راز کا آشکار ہو جانا چاہیے تھا تاکہ اُس کا بیٹا کچھ سیکھ سکتا ۔زندگی ظالم نہیں ہوتی انسان کے رویے ظالم ہوتے ہیں اور زندگی کو مجبوراًایسے ایسے کام کرنے پر اُکساتے ہیں کہ خود زندگی بھی حیران رہ جاتی ہے ۔صالحہ عزیز صدیقی کو جوجو کی واپسی اور میرے عزیزی افسانے کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اللہ کرے ان کا لکھنے ،پڑھنے کا سفر تاحیات جاری و ساری رہے آمین ثم آمین !۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com