اس حدیث سے انکار نہیں

اس حدیث سے انکار نہیں


اور نہ ہی مسلمان کا ایمان سلامت رہ سکتا ہے جو اس حدیث سے انکار کرے
عن أنس بن مالك قال قال رجل یا رسولَ اﷲ! الرجلُ منا یلقی أخاہ أوصدیقه أَیَنْحَنِي له؟ قال: ((لا ))، قال: فیلزمه وَیُقَبِّلُه قال: ((لا ))، قال فیأخذُ بیَدہِ ویُصَافِحه، قال: ((نعم )) (جامع ترمذی؛۸۲۸۲)
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ جب ہم سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو کیا ا س کے لئے تھوڑا سا جھک جایا کرے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ کیا اس سے لپٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! اس نے پھر عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ”
۔۔۔۔
غور کیجیے آج ہمارے یہاں تو دور سے ہی جپھی ڈالنے کے لیے بازو کھول کر لپٹنے کے لیے دوڑے چلے آتے ہیں
جبکہ حدیث واضح طور پر جھک جانے بوسہ لینے اور لپٹ جانے کی نفی کر رہی ہے
۔۔۔۔
اب دیکھیے دوسری حدیث
جب کوئی مرض پھیلی ہو تو اس کے بارے میں کیا مصافحے کا حکم ہے ؟
فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَکَ مِنَ الْاَسَد
صحیح البخاری، الطب، باب الجذام، ح:۵۷۰۷ ومسند احمد: ۲/۴۴۳ واللفظ له۔
’’جذام کی بیماری میں مبتلا مریض سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘
۔۔۔۔
کون ہے جو اس حدیث سے انکاری ہے معاذ اللہ
اب اس حدیث کی روشنی میں لپٹ جانا جھک جانا بوسہ لینا اور مصافحہ کرنا تو دور کی بات
بلکہ قریب کھڑے ہونے سے بھی منع فرما دیا گیا ہے
۔۔۔۔
جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾
–البقرة:195
’’اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘
۔۔۔۔۔
اب بتاو کورونا جیسے نہ نظر آنے والے وائرس
جس کے لگنے سے موت واقع ہو جاتی ہے
اور
اگر احتیاط کے طور پر اس سے دور نہیں بھاگو گئے تو پھر
اللہ کا قران اس موت کو ہلاکت قرار دے رہا ہے
جبکہ ہلاکت سے مراد ہے کہ کھلی گمراہی کی موت
۔۔۔
اللہ تبارک تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اپنی امان میں رکھے
اور چند نام نہاد مولویوں کو بھی مکمل دین بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ہمیں ہلاکت کی موت سے بچائے
آمین
(بخاری نامہ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com