“تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ”

“تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ”

✍تحریر: حافظ بابر علی

تاریخ اسلام پر طائرانہ نظر ڈالی جاۓ تو ان گنت و لاتعداد شہدا کی جانگداز داستانیں ملتی ہیں۔۔۔کہیں شہیدِ مصلیِ رسولﷺ کا سانحہِ شہادت خون کے آنسو رُلاتا ہے تو کہیں حیدرِ کرارؓ کا سانحہِ شہادت آنکھیں نم کرتا ہے۔۔۔کہیں ظالم جابر سے ٹکراتے ہوۓ ابنِ زبیرؓ کا کٹا سر عزیمت کا سبق پڑھاتا ہے تو کہیں میدانِ کربلا میں خاندانِ نبوت کا پاکیزہ و مطھر خون قیامت کا منظر پیش کرتا ہے۔۔۔۔مگر ایک شہید کی داستانِ شہادت ایسی دردناک ہے کہ پڑھ کر رُوح کانپ اٹھتی ہے۔۔۔۔دل تھرتھرا جاتا ہے۔۔۔۔پتھر دل بھی موم بن جاتا ہے۔۔۔۔آنسو بہہ پڑھتے ہیں۔۔۔دل کرب سے کہتا ہے۔۔۔۔شاید ہی اتنا مظلوم کوئی شہید ہو۔۔۔۔۔اسکی مظلومیت کو دیکھ کر مؤرخ کا قلم بھی مظلومِ مدینہ لکھنے پہ مجبور ہوا ہے۔۔۔۔میں جب بھی اس مظلوم کی شہادت کو پڑھتا ہوں۔۔۔تنہائی میں پڑھتا ہوں۔۔۔۔آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔۔۔باربار کتاب بند کر کے تصورات کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہوں۔۔۔۔اللہ! اتنی مظلومیت۔۔۔۔اللہ! اتنی دردناک شہادت۔۔۔۔۔اللہ! اتنی تکیف دہ آزمائش۔۔۔۔اللہ! اتنی استقامت۔۔۔۔اللہ! اتنا صبر۔۔۔۔۔یہ مظلوم کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ دامادِ مصطفیﷺ۔۔۔۔کاتبِ وحی۔۔۔۔ناشرِ قرآن۔۔۔۔سفیرِ رسولﷺ۔۔۔۔حیا کا پیکر۔۔۔۔سخاوت کی مثال ہے۔۔۔۔السابقون الاولون میں۔۔۔۔۔عشرہ مبشرہ میں۔۔۔۔خلفاۓ راشدین میں چمکتا دمکتا نام سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کا ہے۔اسلام دشمن نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سے ہی سر اٹھانا چاہتے تھے مگر شیخین کریمینؓ کے مثالی زمانے میں دور نبوی کے اثرات و برکات سے جسارت نہ کر سکے۔۔۔۔سیدنا عثمانؓ کا ابتدائی نصف زمانہ بھی پُرامن اور فتوحات کا زمانہ رہا۔۔۔مجاہدینِ اسلام مصر شام و عراق کو فتح کر کے افریقہ کا رُخ کر چکے تھے۔۔۔۔ ایک روز سیدنا عثمانؓ بئرِاریس کے کنارے بیٹھے تھے کہ اچانک آپؓ کے ہاتھ سے آپﷺ کی انگوٹھی مبارک (جو شیخینؓ سے ہوتی ہوئی آپؓ تک پہنچی تھی) اس کنویں میں جا گری اور پھر تین دن تک ڈھونڈنے کے باوجود نہ مل سکی۔۔۔۔اس واقعے کا ہونا تھا کہ حالات تبدیل ہونا شروع ہوۓ۔۔۔۔برکات اٹھتی نظر آنے لگیں۔۔۔آپس میں چپقلشیں شروع ہوگئیں۔۔۔سیدنا عثمانؓ کے خلاف ابن سبا نے خفیہ تحریک چلا دی۔۔۔جسکا مقصد سیدنا عثمانؓ پر بےجا اعتراض کر کے ان کو معزول یا شہید کرنا۔۔۔۔امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا۔۔۔۔خلافت کے نظام کو مفلوج کر کے اسلامی فتوحات کا دروازہ بند کرنا تھا۔۔۔ اس سبائی تحریک نے مصر،عراق میں اپنا کافی اثر و رسوخ پیدا کر لیا تھا۔۔۔۔رفتہ رفتہ عثمانؓ کی معزولی کے مطالبات گونجنے لگے۔۔۔۔یہاں تک کہ حج کے ایام شروع ہوگۓ۔۔۔صحابہؓ کی اکثریت فریضہِ حج ادا کرنے مکہ روانہ ہو گئی۔۔۔مدینہ میں بہت کم تعداد صحابہؓ کی رہ گئی۔۔۔۔باغی سبائی تحریک نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ کا رُخ کیا اور 700 باغی مدینہ میں جمع ہوگئے۔۔۔۔جمعے کا دن تھا۔۔۔منبرِ رسولﷺ پر کھڑے سیدنا عثمانؓ خطبہ دے رہے تھے کہ 400 ابنِ سباء کے گماشتے مسجدِ نبوی میں داخل ہوۓ۔۔۔ایک بدبخت نے آگے بڑھ کر عثمانؓ کے ہاتھ سے عصا(جو نبی کریمﷺ کا عصا تھا) لیکر اس کو توڑ ڈالا۔۔۔دوسرا باغی جسارت کرتے ہوۓ آگے بڑھا اور سیدنا عثمانؓ کے چہرے پر کنکریاں مارنا شروع کیں یہانتک کہ آپؓ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔۔۔اٹھا کر گھر لایا گیا۔۔۔عثمان خلافت چھوڑ دو کے مطالبات چہار جانب گونجنے لگے۔۔۔۔آپؓ نے صاف الفاظ میں جواب دیا کہ میں خلافت سے دستبردار ہو کر حکمِ نبویﷺ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔۔۔سبائ تحریک کے غنڈوں نے امیرالمؤمنین کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔۔۔۔اعلان کر دیا عثمان مسجدِنبوی میں داخل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔خبردار! عثمان کے گھر کوئی کھانا نہیں پہنچا سکتا۔۔۔پانی نہیں پہنچا سکتا۔۔۔اللہ اللہ۔۔۔۔ساری زندگی جس نے کبھی دشمن کو بھی گالی نہیں دی۔۔۔۔اپنے غلام کو بھی اف تک نہیں کہا۔۔۔۔آج اس شخص کا کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ کچھ دن کے بعد شیرِخداؓ تشریف لاۓ اور فرمایا امیرالمؤمنین! ہمیں اجازت دیں ہم ان باغیوں سے مقابلہ کر کے انہیں مدینہ سے نکال دیں۔۔۔سیدناعثمانؓ جواب دیتے ہیں۔۔۔۔علی! میں رسول اللہﷺ کے شہر میں لڑائی کا آغاز اور قتلِ عام نہیں کر سکتا۔۔۔حضرت مغیرہؓ آۓ اور کہا۔۔۔امیرالمؤمنین! آپ ملکِ شام میں سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس چلے جائیں۔۔۔آپ مکہ میں چلیں جائیں۔۔۔۔جواب ملا۔۔۔مغیرة! میں ان نازک حالات میں نبیﷺ کا پڑوس نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ بھوک و پیاس میں 25 دن گزر گئے۔۔۔سیدنا علیؓ پھر تشریف لاۓ اور پوچھا امیر المؤمنین! بھوک لگتی ہے کیا کرتے ہو۔۔۔؟پیاس لگتی ہے کیا کرتے ہو۔۔۔۔؟ جواب ملتا ہے۔۔۔۔بھوک لگتی ہے قرآن پڑھتا ہوں اور پیاس لگتی ہے تو نماز پڑھتا ہوں۔۔۔اللہ اللہ مظلومِ مدینہ کی کیا شان ہے۔۔۔دن گزر رہے ہیں۔۔۔مدینہ میں کہرام مچا ہوا ہے۔۔۔باغی مدینہ کی گلیوں اور مکانوں کی چھتوں پر کھڑے محاصرہ کیے ہوۓ ہیں۔۔بغیر کسی جرم،قصور اور خطا کے37 دن یونہی گزارنے کے بعد عثمانؓ مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر باغیوں سے مخاطب ہوتے ہیں۔۔۔۔باغیو! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے کہ میں کون ہوں۔۔۔؟ کیا میں وہ عثمان نہیں جسکے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی دو بیٹیاں تھیں۔۔۔؟ کیا میں وہ عثمان نہیں جسکا نام لیکر نبیﷺ نے 6 مرتبہ جنتی کہا۔۔۔؟ کیا میں وہ عثمان نہیں جس نے میٹھے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کیلیے وقف کیا تھا۔۔۔۔؟کیا میں وہ عثمان نہیں جس نے مسجد نبوی کی جگہ خرید کر وقف کی تھی۔۔۔؟ باغیو! میرے خریدے ہوۓ کنویں سے مجھے دو قطرے پانی پینے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔۔۔؟ میری خریدی ہوئی مسجد نبوی کی جگہ پر مجھے نماز کیوں نہیں پڑھنے دیتے۔۔۔۔الغرض اپنے تمام فضائل انکے سامنے بیان کیے مگر باغیوں پر کچھ اثر نہ ہوا۔۔۔۔انکا جواب ایک ہی تھا۔۔۔۔عثمان! خلافت چھوڑ دو۔۔۔بلاٰخر مایوس ہو کر عثمانؓ چھت سے نیچے اتر آۓ۔۔۔اس منظر کو دیکھ کر صحابہؓ باغیوں کے عزائم کو بھانپ گئے۔۔۔اسلیے شیر خداؓ نے اور دیگر صحابہ نے اپنے بیٹوں کو عثمانؓ کے گھر کے دروازے پر پہرے کیلیے کھڑا کر دیا۔۔۔۔چنانچہ حسنؓ وحسینؓ و دیگر کچھ نوجوان صحابہؓ دروازے پر پہرہ دیتے رہے۔۔۔مزاحمت میں پہردار زخمی بھی ہوۓ۔۔۔39 دن اسی محاصرے میں گزر گئے۔۔۔40ویں دن خواب میں سرکاردوعالمﷺ نے فرمایا “عثمان جو روزہ تم نے چالیس دن سےرکھا ہوا ہے آج اسکی افطاری کا حوض کوثر پر انتظام ہو چکا ہے”۔ شہادت کا اشارہ ملنے پر عثمانؓ نے غسل،کپڑے،خوشبو سے تیاری کی اور نماز تہجد،فجر کی نماز پڑھ کر قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوگئے۔۔۔اللہ اللہ شہید کربلا نے وقت شہادت قرآن پڑھا یہ سبق تو نواسہ رسولﷺ نے در عثمانؓ ہی سے سیکھا تھا۔۔۔جمعے کی صبح ہے۔۔۔باغی دروازے پر پہرہ دیکھ کر واپس لوٹے اور مکان کی پچھلی دیوار سے پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے۔۔۔ایک باغی نے آگے بڑھ کر داڑھی پکڑ لی۔۔۔عثمانؓ نے اس کے چہرے کو دیکھا تو وہ پانی پانی ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔دوسرا بدبخت آگے بڑھا اور اس نے چہرے پر تھوکا۔۔۔۔وہ چہرہ جس سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔۔۔۔آج ایک بدبخت اسی چہرے پہ تھوکنے کی جسارت کرتا ہے۔۔۔عثمان اس سے کہتے ہیں میں نے تیرا کچھ نہیں بگاڑا۔۔۔کس جرم میں منہ پر تھوکتے ہو۔۔۔۔میں قرآن پڑھ رہا ہوں۔۔۔میرے سفید بالوں کو دیکھو۔۔۔مگر وہ بےشرم گالیاں دینے لگتا ہے۔۔۔۔اتنے میں ایک اور سبائی آگے آیا اس نے لوہے کی لٹھ عثمانؓ کے سراقدس میں ماری۔۔۔خون کا فوارہ نکل پڑا۔۔۔۔خون سے قرآن کے مقدس اوراق رنگین ہوگئے۔۔۔۔اللہ اللہ اس مظلوم کی شہادت کتنی نرالی ہے کہ قرآن اس کی شہادت کا گواہ بن گیا ہے۔۔۔۔ایک اور سبائی آگے بڑھا اور آپؓ کے سینے پر خنجر مارنا چاہا۔۔۔۔حضرت نائیلہ کی 4 انگلیاں کٹ کر زمین پر جا گریں۔۔۔۔۔عثمانؓ نے دفعتا دیکھا،آنسو نکل پڑے۔۔۔۔اللہ! میری ناموس پہ حملہ ہو گیا۔۔۔۔کلمہ شہادت پڑھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔۔۔۔۔ایک اور آگے بڑھا اور بدبختی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ عثمانؓ کو بازؤں سے پکڑ کر گھسیٹا۔۔۔باغیوں نے اعلان کر دیا۔۔۔۔عثمان کا جنازہ کوئی نہیں اٹھا سکتا۔۔۔حضرتؓ کی اہلیہ حضرت نائیلہ مظلوم مدینہ کی لاش پہ بیٹھی ہیں۔۔۔چہرے پہ ڈالنے کیلیے کپڑا ڈھونڈا۔۔۔۔باغیوں نے گھر کو آگ لگا دی۔۔۔کپڑا تک نہ ملا۔۔۔اپنے سر کا ڈوپٹہ اتارکر لاش پہ ڈال دیا۔۔۔۔مدینہ کی گلیوں میں سکتہ کا عالم ہے۔۔۔۔پورا دن مسجد نبوی میں اذان تک نہ ہوئی۔۔۔۔24 گھنٹے گزر گئے لاش پہ تنہا نائیلہ بیٹھی رو رہی ہیں۔۔۔اچانک ایک آدمی نے دروازہ کھولا۔۔۔۔لاش کے قریب آکر کپڑا ہٹایا اور زوردار طمانچہ مظلوم مدینہ کے چہرے پر مارا اور تھوک کر چلا گیا۔۔۔بزبان ابوہریرہؓ “آج آسمان و زمین پھٹ جاتے تو حق تھا۔۔۔۔آج سمندر اچھل جاتے تو حق ہوتا۔۔۔آج قیامت برپا ہوجاتی تو حق ہوتا۔۔۔۔” اللہ اللہ تین دن گزر گئے۔۔۔۔لاش پڑی ہے۔۔۔۔ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہؓ(جو سیدنا امیر معاویہؓ کی بہن،ابوسفیانؓ کی بیٹی اور عثمانؓ کی سگی چچازاد بہن ہے) سے رہا نہ گیا۔۔۔روتی ہوئی مسجد نبوی کی سیڑھیوں پر چڑھ گئ اور کہا اوباغیو! آج تم نے جنازہ نہ اٹھانے دیا تو میں محمدﷺ کی بیوہ سر سے ڈوپٹہ اتارکر مدینہ کی گلیوں میں آجاؤنگی اور عثمانؓ کا جنازہ تنہا اٹھا کر لے جاؤنگی۔۔۔باغی ڈر گئے کہ اگر نبیﷺ کی بیوی بازار میں آگئی تو کہیں ہم پر پتھر نہ برس پڑیں۔۔۔زمین نہ پھٹ جاۓ۔۔۔باغیوں نے چار آدمیوں کو جنازہ اٹھانے کی اجازت دی۔۔۔۔ اللہ اکبر! نماز عشاء کے بعد۔۔۔۔کفن پہنایا گیا۔۔۔نائیلہؓ اپنی کٹی ہوئی انگلیوں کے ساتھ چراغ لے کر آگے جارہی ہیں اور چار آدمی 44 لاکھ مربع میل زمین کے حکمراں کا جنازہ اٹھاۓ ہوئے ہیں۔۔۔جب جنازہ روضہ پاک کے پاس رکھا گیا تو صبر کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔۔۔صحابہؓ کی چیخیں نکل گئیں۔۔۔۔غیب سے آواز آئی اے روضے میں سونے والے پیغمبرﷺ! ذرا قبر سے چہرہ اٹھا کر اس مدینہ کے مظلوم کو تو دیکھیے۔۔۔۔ اللہ اللہ دل کانپ اٹھتا ہے۔۔۔جسم لرز جاتا ہے۔۔۔۔82 سال کی عمر۔۔۔۔۔سفید ریش۔۔۔۔اتنی مظلومیت۔۔۔۔۔کربلا کے شہید پر تین دن پانی بند ہوا اور مظلوم مدینہ کو چالیس دن تک بھوکا،پیاسا رکھا گیا۔۔۔۔حضرت حسن شہادت عثمانؓ کے دن خواب دیکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ رسول اللہﷺ سے کہتے ہیں یارسول اللہﷺ! آپ پوچھیے مجھے کس جرم میں ذبح کیا گیا۔۔۔ حسنؓ فرماتے ہیں کہ عرش الہی ہلنے لگا۔۔۔۔آسمان سے زمین کی طرف خون کے دو نالے بہادیئے گئے اور آواز آئی کہ اب قیامت تک لوگوں کاخون اسی طرح بہتا رہے گا کہ اتنے مظلوم کو تم نے ذبح کیا۔
عثمانؓ کا واقعہ شہادت اسلامی تاریخ کا ایسا المناک حادثہ فاجعہ ہے۔جس نے رونما ہو کر مسلمانوں کے اجتماعی نظام میں لامرکزیت پیدا کردی اور اس سفاکانہ واقعہ کے بعد سے وہ تلوار جو کافر کے خلاف چلا کرتی تھی آپس میں چلنا شروع ہوئی۔۔۔اور آج تک چل رہی ہے۔۔۔اس عظیم سانحے نے فتنہ عظیم کا ایسا دروازہ کھولا جسکی نحوستیں مرورِ ایام کے ساتھ بڑھتی ہی رہیں۔۔۔بہرحال جو کارکنان قضا و قدر کا فیصلہ تھا وہ ہو کر رہا۔۔۔ یہ سانحہ 18 ذوالحجہ 35ہجری میں پیش آیا۔۔۔۔18 ذوالحجہ یوم شہادت عثمانؓ ہے۔۔۔۔حکومت وقت سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ یوم شہادت عثمانؓ پر عام تعطیل کا اعلان کرے اور اسے سرکاری سطح پر سیرت عثمانؓ پر پروگرامات،سیمنارز منعقد کر کے مناۓ۔ اللہ تعالٰی سیدنا عثمانؓ پر کروڑہا رحمتیں نازل فرماۓ اور ان جیسی قربانی کا جذبہ ہمیں بھی عطا کریں۔آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com