کیا امریکہ دنیا کا غیر جانبدار، امن پسند، اور جمہوریت کا علمبردار ہے؟

غلام غوث، بنگلور
امریکہ کا میڈیا ساری دنیا کو یہ کہتے ہوے نہیں تھکتا کہ وہ آزاد ہے۔ اچھا ہے اور ایماندار ہے۔ ہر دن دنیا کو یہ بتا نے کی کوشش کر تا ہے کہ وہ اپنے ہاں اور ساری دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ہے۔ اپنا خون اور پسینہ بہا کر ملکوں کو ظالم حکمرانوں سے بچاتا ہے، قحط سالی اور قدرتی آفات جہاں کہیں آتے ہیں وہاں راحت کاری کا کام کر تا ہے، اپنے ڈالر، والنٹیرس اور اپنی سوچ سے دنیا بھر میں خوشحالی لانے کی کوشش کر تا ہے اور غیر جانبداری کے ساتھ دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات کے فیصلے کر تا ہے اور معاملات کو سلجھا تا ہے۔ خود عربوں اور اسرائیلیوں کے تنازعہ کو غیر جانبدارانہ انداز میں سلجھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔اس طرح پروپگنڈہ کر کے وہ خود اپنے شہریوں کو اندھیرے میں رکھتا ہے اور حقیقت سے دور رکھتا ہے۔ امریکی شہریوں کو امریکی حکومت کی ایسی سچائی کا علم نہیں ہے جو ساری دنیا والے جانتے ہیں۔یہ وہ یوروپی ممالک ہیں جو ہر دن اپنی طاقت کا استعمال کر تے ہوے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں برباد کر تے ہیں، بیرونی ممالک کی معیشت کو تباہ کرتے ہیں، ظالم ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کو انہیں کے شہریوں کو کچل کر رکھنے کے لئے مالی مدد اور مہلک ہتھیار دیتے ہیں اور ایسی ہی مدد اسرائیل کو دے کر فلسطینیوں کا قتل عام کر نے میں مدد کرتے ہیں۔امریکہ امن پسند نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف 111 سال میں 1890–2001 کے درمیان دوسرے ممالک پر 133 ملٹری حملہ کئیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ ہر سال 1.29حملہ کیے ہیں۔ 1989 کے بعد امریکہ نے ہر سال دو حملے کیے ہیں۔پندرہ سے بیس ملین یعنی دو کروڑ لوگوں کا قتل عام کیا ہے یہ سب صرف اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور اپنے مفادات حاصل کر نے کے لئے کرتے ہیں۔ان کا میڈیا ان سب پر پردہ ڈال کر لوگوں کو اندھیرے میں رکھنے کا کام کر تا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد جب بھی حقیقت سامنے آتی ہے تو اپنی غلطیوں کوجائز قرار دے کر بھلا دیتے ہیں۔گوتانو موبے جیل میں جو مظالم مسلمانوں پر ڈھائے گئے وہ جب عوام کے سامنے آئے اور انکے خلاف جو مظاہرے ہوے ان پر ان ملکوں نے صرف Sorryکہہ کے معاملہ کو رفع دفاع کر دیا۔ وہائٹ ہاوز کے پریس سکریٹری نے کہہ دیا کہ ” The President is sorry for what occured and the pain it has caused “۔یہ ممالک مسلمانوں کو ہزار زخم دیتے ہیں اور صرف ہمارے پاوں پر پاوں رکھ کے sorryبول دیتے ہیں۔امریکہ اور یوروپ سمجھتے ہیں کہ عرب صرف مار دھاڑ کی زبان جانتے ہیں۔یہ خیال یہودیوں کا دیا ہوا ہے جس پر صدر بش نے عمل کیا اور افغانستان اور عراق کو تباہ کر دیا۔مسلمانوں پر یہ تمام مظالم ڈھائے جا رہے ہیں مگر مسلمان حکمران ہیں کہ خاموش ہیں اور امریکہ کے تلوے چاٹ رہے ہیں۔کوئی ان یہودیوں سے یہ نہیں پوچھ رہا ہے کہ تم جو ہزاروں سال پہلے والے یہودیوں کی اولاد بتا رہے ہو کیا وہ واقعی سچ ہے اور ان یہودیوں کا کیا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہیں کے وہیں رہ رہے ہیں۔یہودیوں نے اور ان کے کنٹرول کیے ہوے میڈیا نے ہٹلر کا انہیں قتل کر نے کو لے کر امریکہ اور یوروپی ممالک کی ہمدردی حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ اور اپنی ایک الگ ریاست قائم کر لی۔ آج بھی یہودی اسی ہمدردی کو ہر بار استعمال کرتے ہوے یوروپی ممالک کو مجرم اور گناہ گار ٹھراتے ہیں اور انہیں اپنے طرفدار بنا لیتے ہیں۔یہودیوں نے سنیما، میڈیا اور لکچرس کے ذریعہ ان پر ہوئے مظالم کو ساری دنیا کو بتا کر ہمیشہ دنیا والوں کی ہمدردیاں بٹورتے ہیں۔ایک بیوقوفی جو فلسطینیوں نے کی وہ یہ کہ انہوں نے اسرائیل کے قیام کے بعد خود ہی بڑی تعداد میں فلسطین سے باہر دوسرے ملکوں کوکام کرنے چلے گئے۔2000 میں فلسطین کے یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر اعظم کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں بات چیت ہوی۔ یاسر عرفات نے اسرائیل کے پیش کردہ حل کو ٹھکرا دیا۔ اسرائیل کی پروپگنڈہ مشینری نے دنیا بھر ہیں یہ پروپگنڈہ شروع کر دیا کہ عرفات نے اسرائیل کی دی ہوی 90فیصد رعایت مغربی کنارہ اور غزہ کو ٹھکراا دیا ہے۔ تمام امریکی اخبارات اور اینکروں نے دن رات اس بات کو اچھالنا شروع کر دیا جیسے عرفات مسلہ کو حل کر نا نہیں چاہتے۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے کے بارڈر پر کنٹرول رکھنا، پانی اور فضاپر کنٹرول، پرانے یروشلم کا تمام علاقہ، اسرائیل کے اب تک قائم کردہ اسرائیلی علاقے اور انہیں اسرائیل سے جوڑنے والے راستوں پر کنٹرول رکھنا یہ سب چاہتا تھا اور انہیں شرائط میں شامل کیا تھا۔ ان علاقوں کو جانے کے لئے فلسطینیوں کو پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ یہ ایک نئے قسم کا colonization تھا جسے عرفات نے نا منظور کر دیا۔آج بھی اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ پر اپناکنٹرول جمائے ہوے ہے اور فلسطینی محصور ہیں۔تیرہ لاکھ فلسطینی غزہ کی 360مربہ کیلومیٹر زمین پر محصور ہیں اور مغربی کنارے کی 90فیصد زمین پر جہاں چاہے اسرائیل اپنی کالونیاں بنا سکتا ہے اور یہ کام کبھی کا شروع ہو گیا ہے۔ان تمام نا انصافیوں کو دیکھتے ہوے دنیا کے انصاف پسند لوگوں نے اسرائیل کا academic bycott کر نے کی آواز اٹھائی۔یہ بائکاٹ اسرائیل پر دباو بنانے کے لئے کیا گیا مگر امریکہ کی مدد سے اس کا کوئی اثر اسرائیل پر نہیں ہوا۔ اگر اسرائیل کے ان مظالم کا آدھا بھی کوئی اور ملک کر تا تو امریکہ اس پر سخت sanctionsلگا دیتا۔1965 تک اسرائیل کو امریکی امداد ایک سو ملین ڈالر تھی مگر آج پانچ بلین ڈالر ہے۔امریکہ کا نظریہ یہ ہے کہ عرب ممالک سے تیل کی آسان سپلائی، عربوں میں نیشنل ازم کم کرنے اور روس کے ثر و اسوخ کو مشرق وسطی میں کم کر نے کے لئے اسرائیل کو طاقتور رکھنا اور اپنا دوست بنائے رکھنا ضروری ہے۔امریکی سیاستدان اس لئے بھی اسرائیل سے ڈرتے ہیں کیونکہ جو بھی اسرائیل کے خلاف بات کر تا ہے اس کا سیاسی مستقبل یہودی تاریک کر دیتے ہیں۔اب تک اقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے لئے دو ریاستوں کی بات ہو تی تھی اور اسے منظوری بھی مل گئی تھی مگر یہ کیسے ہو گااس پر بات چیت ہو رہی تھی۔ اسرائیل نا قابل قبول شرائط رکھتا تھا جسے عرب قبول نہیں کر تے تھی۔ ایسے میں امریکہ غیر جانب دارانہ رول ادا کر نے کے بجائے اسرائیل کی طرف داری کر نے لگا ہے۔ مسلہ کبھی کا حل ہو جا تا اگر امریکہ غیر جانبدارانہ رویہ اپنا تا اور سیکوریٹی کونسل کی قرار دادوں کو ویٹو نہ کر دیتا۔ حال ہی میں ایک امریکی تھنکر نے کہا کہ اگر دو ریاستی حل مشکل ہے تو ایسا کیا جا سکتا ہے کہ تمام اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے تمام فلسطینیوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں اور اس ملک میں یہودی اور فلسطینی مل جل کر رہیں جیسا کہ ہندوستان میں سکھ، عیسائی، دلت اور مسلمان سب مل جل کر ہیں اور ایک ہی ہندوستان میں ہیں۔ جو بھی ہو نا ہے اس کے لئے امریکہ کی منظوری ضروری ہے ورنہ وہ طریقہ استعمال کر ناچاہیے جو میں نے نے اپنے کئی پچھلے مضامین میں لکھے ہیں۔ جنگ اس مسلہ کا حل بلکل نہیں ہے کیونکہ عرب بیحد کمزور ہیں، بات چیت اسرائیل ٹالتا رہے گا، اور امریکہ غیرجانبدار نہیں رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com