ایرانی جنرل کی ہلاکت اور مشرقِ وسطی

ایرانی جنرل کی ہلاکت اور مشرقِ وسطی
محمداعظم عظیم اعظم
پچھلے دِنوں عراق کے شہر بغداد میں امریکی سفارتخانے پرشدت پسندوں یا جنگجو تنظیم کے کارندوں کے حملے کے نتیجے میں ایک امریکی کنٹریکٹرکے مارے جانے کے بعد امریکا نے اِس سارے واقع کا ذمہ دار ایران کو ٹھیرادیا ہے۔ جس کے بعد ایران اور امریکا و عراق کی سردجنگ کسی اور رخ میں جاتی نظرآرہی ہے؛ ایسے میں ایرانی جنرل کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تو مشرقِ وسطی کی سنگین ہوتی صورتِ حال کو بچانے کے لئے عالمی امن پسندوں کو اپنا کردار اداکرنا لازمی ہوگیاہے۔ اگر ابھی امن پسندوں نے امریکا ، ایران اور عراق کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورتِ حال پر فوری طور پر مثبت اقدامات نہ اُٹھائے تو کو ئی شک نہیں ہے کہ مشرقِ وسطی کی بگڑی ہوئی صورتِ حال کینسر سے زیادہ خطرناک ثابت ہوکر ایران عراق اور امریکا کو تیسری عالمی جنگ کی ابتداء کی جانب کہیں نہ دھکیل دے۔
لہذاعالمی امن پسندوں کو سب سے پہلے تو خبطی امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کو لگام دینے کی اشد ضرورت ہے جو امریکا میں اپنے خلاف اُٹھنے والی مواخذے کی تحریک کو مشرقِ وسطی میں جنگ کا ماحول پیداکرکے دبانا چاہتاہے۔ جس کا خیال ہے کہ اِس طرح امریکا میں یہ اپنے خلاف اُٹھنے والی مواخذے کی تحریک یا فتنے کو دبانے میں کامیاب ہوجائے گا؛ اِس لئے بغداد میں معمول کے مظاہرے کو ٹرمپ نے پہلے سے سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے ٹویٹ میں ایران پر کھلم کھلا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ’’ بغداد میں جنگجوتنظیم کا امریکی سفارتخانے پر کئے جانے والے حملے اور اِس کے نتیجے میں ایک امریکی کنٹریکٹرکی ہلاکت کے پیچھے ایران کی پست پناہی ہے۔ایران کو اِس حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی بھاری قمیت چکانا پڑے گی‘‘ جب کہ اِس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے خبطی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے بیان پر سخت برہمی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ردِ عمل میں کہاتھا کہ ’’ عراق کے دارالحکومت بغداد میں مظاہرین کی جانب سے ا مریکی سفارت خانے پر حملے سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ‘‘ ایران کی وضاحت کے باجود امریکا کا ایرانی جنرل کو نشانہ بنانا خطے میں کھلی امریکی دہشت گردی اور مشرقِ وسطی کو جنگ و جدل میں دھکیل کرامن و سکون کو بردباد کرنے کے مترادف ہے۔
ایسے میں آج تک مسلم اُمہ جاتنے ہوئے بھی لگتاہے نہیں جان سکی ہے کہ امریکا اِس کا دوست ہے یا دُشمن ؟کیا مسلم ممالک کے حکمران یا اِن کے دانش ور اِس کا تسلی بخش جواب دے پائیں گے ؟ عالم ِ اسلام امریکا کے ہاتھوں کیوں بلیک میل ہوتاہے؟ اِس کی مفادات کے لئے اپنی سلامتی اور استحکام کو کبھی ایک فون کال پر تو کبھی چند ڈالرز کی بھیک کے خاطر داؤپر لگا کر اپنا سب کچھ لٹاکر بھی اِس کا اعتماد حاصل نہیں کرپاتاہے؟ایسا کیوں ہے ؟ مسلم نئی نسل کو اِس کا جواب درکار ہے ؛ آج یہ کہنے پر مجبور ہے کہ آخر کب تک ہم امریکی مفادات کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگاتے لگاتے آغوش قبر میں جا کر بھی امریکا کی آنکھ کے تارے بننے سے بھی محروم رہیںگے ۔مسلم ممالک بالخصوص پاکستان ، سعودی عرب ، ایران ، عراق، لیبیا، ترکی، مراکش، ملائشیا،انڈونیشیا وغیرہ وغیرہ کے حکمرانوں کے پاس کیا اپنی نئی نسل کومطمئن کرنے کے لئے کوئی جواب ہے ؟ ہمارے مسلم حکمران امریکا کے ہاتھوں کیوں بلیک میل ہوتے ہیں ؟ اور کب تک ہوتے رہیں گے؟
اِس سے قطعاََ اِنکار نہیں ہے کہ امریکا نے مسلم ممالک کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے کیوں کہ امریکاکے ہمیشہ سے ہی سب سے الگ الگ مفادات وابستہ ہیں۔ جو سب کو اپنے لئے استعمال کرتاہے؛ پھرجنہیں استعمال کے بعد ٹشوپیپرکی طرح پھینک دیتاہے۔ یکدم ایسے ہی جیسے پچھلے دِنوں امریکا نے بغداد میں ایرانی جنرل کو عراق میں مرحوم صدام حسین کے خلاف استعمال کیا۔
آج جِسے استعمال کرنے کے بعد اپنے ایک ڈرون حملے میں اِسے مارڈالاہے۔ایسے امریکی مفاداتی واقعات سے تو مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ اور کہانیاں بھری پڑی ہیں۔ مگر پھر بھی اُمتِ مسلمہ امریکی سازشوں کو سمجھنے سے جان بوجھ کر قاصر ہے۔ یا خود سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہے۔
آج مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیاء سے امریکی مفادات پہلے سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اَب یہ اپنے مفادات اپنے یاروں اسرائیل اور بھارت کے ساتھ شیئرز کرناچاہتاہے ۔اِس سے کسی کو بھی اِنکار نہ ہوکہ آج امریکا مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیاء میں اپنے دوستوں کے لئے بہت کچھ کرنے کا خواب دیکھ رہاہے اَب جس کے لئے امریکا کسی بھی حد تک جاسکتاہے۔
امریکا کی مسلم ممالک کے ساتھ سازش اور چالیں ایسی ہوتی ہیںکہ یہ ایک ساتھ سب سے نہیں لڑتاہے؛ کسی کودوست بناتاہے۔ تو کسی سے دُشمنی کی انتہا کو پہنچ جاتاہے۔ اُمتِ مسلمہ کے ساتھ امریکا کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم اُمہ یک مٹھ ہو کر اِس پر متحد نہیں ہوسکی ہے کہ امریکا اِن کا دوست ہے یا دُشمن؟یقین جانئے جس بھی روز عالمِ اسلام فرداََ فرداََ امریکی مفادات اور سازشوںسے واقف ہوگئے۔ تو ممکن ہے کہ امریکا کی مسلم اُمہ کے خلاف سالوں سے جاری سازش اور چالیں ناکام ہوجائیں ۔
مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ دوسری جانب امریکا بھی اِتنا بے وقوف نہیں ہے کہ جو کبھی عالم اسلام کو متحد ہونے دے گا ؛ آج مسلم ممالک میں جتنے بھی فروعی ، مسلکی اور فقہی مسائل ہیں ۔ اِن کے درپردہ امریکی اور اغیار کی سازشیں ہی کارفرماہیں۔ تووہیں مسلم ممالک کو معاشی اور اقتصادی مسائل میں جکڑارکھنا بھی امریکا کاہی کارنامہ ہے۔ جن کی وجہ سے مسلم اُمہ کا چاہتے ہوئے بھی متحدہونامحض خواب ہے۔مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا ء عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو زن ، زمین ا و رزرکے چکر میںپھنساکر اِن کی صلاحیتوں کو چند انچ کے بنکرمیں ٹھونس دیاہے۔مسلم اُمہ کے حکمران اِس سے نکلیں گے : تو یہ اپنے خلاف کی جانے والی امریکی سازشوں کو سمجھیں گے۔ اور امریکا کے خلاف متحد ومنظم ہوکر کبھی صف آرا ہوں گے۔ مگر افسوس ہے کہ یہ سارے تو امریکی ڈالرز کی چمک چند انچ کے بنکر سے نکلیں گے تو تب یہ امریکا کے خلاف کچھ کرنے کے قابل ہوں گے۔ ورنہ تو ایسا محض خواب ہی لگتاہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com