وکیل،شاعرہ،کالم نگار اور افسانہ نگار ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ

ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور
آج بھی ہم آپ کو ایک ایسی ہی ہمہ جہت اور اپنے کام کی وجہ سے پہچانی جانے والی شخصیت سے ملوا رہے ہیں جن کی باتیں سن کر آپ ضرور محظوظ ہوں گے۔ایڈووکیٹ سعدیہ ہما کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں پھر بھی ہم نے ان سے پوچھا کہ اپنا مختصر تعارف کرائیں تو انھوں نے ایک شعر پڑھا
شکیب اپنے تعارف کے لئے بس اتنا کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
ان کا پورا نام ہما سعدیہ شیخ ہے آپ مصنفہ،شاعرہ،کالم نگار،سماجی راہنما ہیں اس کے علاوہ آپ ایڈووکیٹ بھی ہیں آپ ہائی کورٹ کی مستقل ممبر ہیں اس کے علاوہ ممبر آف ریفارمر جیل کمیٹی،ممبر آف انٹرنیشنل بار،ڈائیریکٹر سرگودھا شریف اکیڈمی جرمنی، بیورو چیف روابط انٹر نیشنل،جنرل سیکریٹری غازی ہیومن،وائس پریزیڈنٹ حوصلہ رائٹرز تنظیم،گروپ ایڈیٹر روح عصر،جنرل سیکرٹری ورلڈ یونین آف جرنلسٹ کے عہدوں پر فائز ہیں۔اپنی تعلیم سے متعلق ایک سوال پر آپ نے بتایا کہ آپ نے بی ایس سی کی ڈگری کالج برائے خواتین سرگودھا سے حاصل کی۔آپ نے ایم اے پولیٹیکل سائنس،ایم اے پاک سڈیز یونیورسٹی آف سرگودھا سے پاس کیا اس کے علاوہ آپ نے ڈپلومہ ان اسلامک ایجوکیشن النور انٹرنیشنل انسٹیوٹ سے لیا آپ نے ایل ایل بی کی ڈگری قائد اعظم لاء کالج سے حاصل کی ہوئی ہے۔اپنے بچپن سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرا بچپن بھر پور گذرا گھر والوں نے میرے بہت لاڈ اٹھائے بچپن میں شرارتی تھی اور مزید کہا کہ بچپن میں آؤٹ کلاس طالبہ تھی پوزیشن ہولڈر رہی ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پیدائشی ادیب ہیں ان کا ماننا ہے کہ شاعر اور ادیب آپ سیکھنے سے نہیں بنتے۔انہوں نے کہا کہ وکالت میرا جنون ہے ادب اور وکالت میرے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ایک بات کہ ہر اچھا وکیل لکھاری ضرور ہوتا ہے۔شاعروں کے بارے میں ایک سوال پر انہو ں نے کہا کہ اقبال سے بڑا شاعر کوئی نہیں ہے فیض اور احمد فراز میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں۔اپنے شعر سناتے ہوئے۔۔۔۔۔
جب بھی ملتا ہے نیا درد جگا دیتا ہے
مجھ کو اس شخص سے اب دور ہما رہنا ہے
زرد موسم کا تسلط ہے ہما گلشن پر
کوئی بتلائے بہاروں کی فضا کیسے ہو
بچے کو پستول، ہما دیتا ہے کون؟
گھر سے تو وہ لے کر بستہ جاتا ہے
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمر کا ہر حصہ الحمد اللہ اللہ کی نعمت سمجھ کربھر پور گذاراشادی کے بعد کچھ مشکلات آئیں مگر صبر سے سہہ لیا اور وہ وقت بھی گذر گیا۔زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ تو یاد نہیں ہاں وہ لحمہ یاد ہے جب میں ماں بنی تھی اور جب پہلی دفعہ لاء یونیفارم پہنا تو یہ بھر پور لمحات تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ الحمد اللہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے الحمد اللہ جو مانگا وہ ملا والدین نے ہر خواہش پوری کی اور میرے رب نے ہر دعا قبول کی اور اب تو یہی خواہش ہے کہ بچے اسلام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ان کا کہناتھا کہ مکامیاب زندگی گذارنے کے لئے والدین کی دعائیں،اساتذہ کا احترام اور آپ کا وژن کلیر ہونا چاہیئے حرص اور طمع آپ کی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سعدیہ صاحبہ کا کہنا تھا کہ مجھے غصہ صرف اور صرف جھوٹ پر آتا ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں میرے ارد گرد پھر اس کا رد عمل بہت خطرناک ہوتا ہے نوجوانوں کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نوجوان طبقے کے تہذیب سے اور اقدار سے دور ہونے میں بنیادی وجہ دین سے دوری ہے دوسری وجہ والدین کا بچوں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں تیسری وجہ بے لگام میڈیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میری اولین ترجیح میرا گھر ہے جس کی کیئر ٹیکر،باررچن اور ڈرائیور بھی میں خود ہوں۔گھر بچوں کے بعد میرا پروفیشن اور قلم میری زندگی ہیں۔
سعدیہ کا کہنا تھا کہ کھانے میں مجھے ماں کے ہاتھ کے کوفتے،پائے اور کریلے گوشت اور جو اچھا کھاتا ہے وہ اچھا بنانا بھی جانتا ہے میرے سسرال اور میکے میں میرے ہاتھ کے کھانے مشہور ہیں اور الحمد اللہ پاکستانیہ،چائینز،بار بی کیو اور اٹالین بنا لیتی ہوں۔سیاست کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے سیاستدانوں کو میں سیاسی طوائفیں کہتی ہوں اس حوالے سے میری شاعری بھی ہے کہ سیاسی طوائفیں میرے ملک کی بوٹیاں نوچ رہی ہیں۔سپورٹس کے بایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سپورٹس سے دلچسپی ہی نہیں میں خود بھی کھلاڑی ہوں اپنے کالج میں کرکٹ ٹیم کی کپتان رہی ہوں باسکٹ بال،لان نٹینس ریسسز میں بے شمار کپ اور ٹرافیز جیتی ہیں۔اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے میں اپنے شہر کی پہلے خاتون کراٹے انسٹریکٹر ہوں مجھے کئی کھلاڑی پسند ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی کتابیں پڑھیں مگر پسند معاشرتی اور دینی کتابیں آتی ہیں میری پسندیدہ کتاب بانو آپا کی راجہ گدھ ہے محیی الدین نوان کی بند مٹھی بھی میری پسندیدہ کتاب ہے۔اپنی کتابوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ میری دو کتابیں آ چکی ہیں اور تین آنے والی ہیں وصل میں تشنگی میرا شعری مجموعہ ہے بال ہما میرے افسانوں پر مشتمل کتاب ہے اب کالمز اور اقوال پر مشتمل کتابیں آ رہی ہیں۔ ماشا اللہ بہت سے اعزازات سے اللہ تعالی نے مجھے نوازا ہیاسکول اور کالج میں مباحثوں میں آل پاکستان اعزاز لیا،سپورٹس میں کپ اور ٹرافیاں حاصل کیں،کالج کی طرف سے مجھے دو دفعہ شو جوان پروگرام اور طارق عزیز شو میں بلایا گیا ادبی،سماجی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں بنیشنل ایوارڈ ا،ایکسیلنٹ ایوارڈ،نوبل ایوارڈ،بیسٹ رائٹر ایوارڈ،بیسٹ شاعرہ ایوارڈ لئے اب تک میں بیس ایوارڈٖز اور بتیس کپ حاصل کر چکی ہوں۔
آخر میں نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کے لئے میرا یہی پیغام ہے کہ ہمارا دین بہت سادہ اورآسان ہے اسے پیچیدہ ملا اورذاکر نے بنایا ہے آج ہمارا زوال دین سے دوری کی وجہ سے ہے اسلام ہی وہ واحد چھتری ہے جو ہمیں بے حیائی کے طوفان سے بچا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com