مہنگائی کا عفریت اور حکومت

رائو غلام مصطفی
مہنگائی کا عفریت اور حکومت!
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات جمہور کے مفادات کے برعکس ہیں حالانکہ ایک منتخب جمہوری حکمرانوں کا ہاتھ عوام کے مسائل کی نبض پر ہونا چاہیے کیونکہ عوام کے ووٹ کے دوام سے ہی وہ مسند اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے تحریک انصاف کی حکومت پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت میں ہونے کے باوجود ابھی تک عوامی مسائل پر قابو پانے میں مکمل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔جمہوریت میں حکمران عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں جن کی نظر عوام کے مسائل پر ہونی چاہیے لیکن اس موجودہ حکومت کی ترجیحات مفاد عامہ کے بلکل بر عکس ہیں جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ نے عوام کی کمر میں خم ڈال دیا ہے۔ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت کی لکیر کے نیچے زندگی کے شب و روز بڑی اذیت میں گذارنے پر مجبور ہے بے روزگاری‘غربت اور بے لگام مہنگائی نے غریب آدمی کے منہ سے دو وقت کا نوالہ تک چھین لیا لیکن حکومت اور اس کے وذراء کا بیانیہ صرف یہی ہے کہ اچھا وقت دور نہیں بس گھبرانا نہیں۔۔۔ملک کی عوام کا تو یہ حال ہے کہ متوسط طبقہ کے لوگ اس مہلک مہنگائی کی وجہ سے نچلے درجہ پر آگئے ہیں اور جو پہلے ہی نچلے درجے کے افراد ہیں ان کا تو معلوم نہیں کہ وہ کیسے اس مہنگائی کے عفریت میں اپنی سانسیں دراز کئے ہوئے ہیںیہ صورتحال بہت تکلیف دہ ہے ۔پاکستان ایک جمہوری ملک ہے لیکن اس جمہوری ملک میں تما م فیصلے‘معاملے‘پارلیمان‘صدر‘اور وزیر اعظم طے نہیں کرتے بلکہ فیصلے ملک کی غیر منتخب اشرافیہ کرتی ہے لیکن منظر پر عوامی منتخب نمائندے ہوتے ہیں اور غیر جمہوری فیصلے جمہوری منتخب نمائندوں کے ذریعے مسلط کر کے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے کہ وہ اقتدار‘اختیار اور حکومت کے فیصلوں میں برابر کے شریک ہیں ۔ملک کا سیاسی نظام جوفرسودہ ترین ہو چکا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اس نظام کو بدل کر عوامی ترجیحات پر مبنی نظام لانے کو تیار نہیں کیونکہ اس نظام میں ان کی سیاسی وراثت کی بقاء ہے ملک میں سرمایہ دارانہ نظام نے پورے جمہوری سیاسی نظام کو ڈکٹیٹ کیا ہوا ہے گو جمہوریت کے اصولوں‘اقدار‘روایات‘اخلاقیات‘مقاصد‘ڈھانچہ سے کسی کوئی اختلاف نہیں لیکن صرف ایک فرد یا سیاسی جماعت کی حاکمیت کو انقلاب یا تبدیلی نہیں کہا جا سکتا جب تک پورے لوازمات کے ساتھ جمہوریت کو معاشرے پر لاگو نہ کیا جائے یہ طے ہے کہ خوشحال عوام ہی کسی حکومت کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہوتی ہے کوئی بھی حکومت جب تک عوام کا معیار زندگی بہتر بناتے ہوئے اسے قومی دھارے میں شامل نہیں کرتی تب تک جتنے مرضی ترقی و خوشحالی کے ڈونگرے بجاتے رہیں وہ کبھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی ۔المیہ یہ ہے کہ ملک میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان کے قائدین کی پروفائل دیکھ لیں ان کے سیاسی وارث وہی بنے جو ان کے خاندان کے چشم و چراغ ہیںاور انہوں نے کبھی بھی کسی سیاسی ورکر کو اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر عہدہ نہیں دیا بلکہ اپنی جماعت کے کارکنان کو اسی طلسم کا اسیر رکھا کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں اپنے اندر آمرانہ رویوں کو فروغ دیں وہ عوام کو بھلا کیسے جمہوری لوازمات سے فیض یاب ہونے دیں گی اور یہی اس عوام کی بد قسمتی ہے کہ یہ بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس کو جمہوریت کہتے ہیں ۔معذرت کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان جو تواتر کے ساتھ اس ملک کو اسلامی ٖفلاحی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں اسلامی فلاحی ریاست سے مراد اس کے کچھ فرائض اور حقوق بھی ہیں جن کی ادائیگی ریاست پر عائد ہوتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ منورہ میں اتنی آسودگی اور نان نفقہ کی خوشحالی تھی کہ صاحب نصاب کو ڈھونڈنے سے بھی مستحق زکوۃ نہیں ملتا تھا عوام کی تعلیم ‘نوجوانوں کی تربیت‘قرآنی تعلیم‘بیماروں کا علاج‘لباس اور خوراک‘جانی و مالی تحفظ‘ناموس خواتین کی حفاظت‘موجودہ امیرالمومنین اور عمال حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت کی کارکردگی خود انہیں آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔برصغیر میں بھی ایک بار اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ بلند ہوا تھا اور وہ نعرہ قائد اعظم محمد علی جناح نے لگایا تھا قائد اعظم اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے انہوں نے فرمایا تھا کہ میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے خدا میری اس آرزو کو پورا کرے۔لیکن یہ ملک سات دہائیوں سے زائد کی مسافت طے کرنے کے باوجود اپنے قیام کی اساس سے کوسوں دور کھڑا ہے اس ملک کے سیاستدانوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے اس ملک و ملت کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھایا ۔اس ملک کی ایسی دلخراش تاریخ ہے کہ ملک کے سیاسی وارثوں نے اس ملک کو اور اس کی عوام کی سانسیں تک اغیار کے پاس گروی رکھو ادی ہیں۔کسی مملکت کے اداروں ‘منصوبوں اور نظام کو چلانے کے لئے حکومت تشکیل دی جاتی ہے جس میں کسی امتیاز کے بغیر عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور ایسی طرز حکومت ہی صحیح معنوں میں جمہور کی حکومت کہلاتی ہے ۔پاکستان کے سیاسی نظام پر سرمایہ داروں کا غلبہ ہے جو اپنی دولت کے بل بوتے پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ عوام کی ترجیحات کیا ہیں انہیں صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ کیسے اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے اس ملک کے نظام کو اپنی رکھیل بنا کر رکھنا ہے۔تحریک انصاف کو عوام اس لئے حکومت میں لے کر آئی تھی کہ شائد ان کی طرز حکمرانی ان کے رستے زخموں کا مرہم بنے گی لیکن اسے یہ ادراک نہیں تھا کہ ان کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے نہ کوئی تجربہ کار ٹیم ہے نہ ہی کوئی متبادل رول ماڈل ہے موجودہ حکومت کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں اور مہنگائی کے باعث عوام کی دلدوز چیخوں سے فلک کا سینہ شق ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اور کوئی ادارہ عوام کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے تیار نہیں۔ایسی طرز حکمرانی سے کسی تبدیلی کی امید رکھنا عبث ہے عمران خان کو چاہیے کہ کم از کم تبدیلی اور اسلامی ٖفلاحی ریاست کے دعوے سے تو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دستبردار ضرور ہو جائیں اگر ڈیڑھ سالہ تبدیلی کا یہی عالم ہے تو پانچ سال میں تو عوام اپنے انجام سے بھی بے خبر ہو جائے گی۔کسی بھی ادارے کے اعداد و شمار کو اٹھا کر دیکھ لیں مہنگائی ماضی کے ریکارڈ کی حدیں عبور کرتی جا رہی ہے اور تبدیلی کے دعوے دار صرف اپنے بیانات اور ٹی وی ٹاک شوز تک تبدیلی کی اذانیں دیتے دکھائی دیتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کو ادراک ہو جانا چاہیے کہ اگر عوام کو اب بھی ریلیف فراہم نہ کیا اور عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا تو عوام کے غیض و غضب کا سونامی ایسی تبدیلی کو ہمیشہ کے لئے نوشتہء دیوار بنا دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com