بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے بے نقاب

جعلی ویب سائٹس کے ذریعے پاکستان مخالف زہریلا پروپیگنڈہ

ساجد ہاشمی
بھارت نے تقسیم ہند کے ساتھ ہی پاکستان کو غیرمستحکم کرنے پر عمل پیراہونے کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے پہلے اس نے تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق جموں وکشمیر، حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور مناوادرکے عوام کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے بزور قوت ان علاقوں پر قبضہ کرلیا اور ۳۷ سال ہونے کو آگئے ہیں ا س کے انتقام کی آگ ٹھنڈی ہونے میں نہیں آرہی۔ اس کے لیے پاکستان کے ساتھ چار جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور ہر بار ہزیمت اٹھانے کے باوجود وہ نئے طریقے سے حملہ آور ہونے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی آزاد کشمیرمیں کبھی بلوچستان میں اور کبھی سندھ میں پنجاب میں۔ پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج نے اس کے ان عزائم کو ناکام بنانے کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں اس کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔بھارت کی ان شرانگیز کاروائیوں کی ایک مفصل دستاویز پاکستان نے اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیے اور ان کے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے۔پاکستان کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بھارت نے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم بھی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کے لیے اس نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جارحانہ اور جعلی خبروں کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے شرانگیز کارویائیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جعلی ویب سائٹس اور ایک کرائے کے ادارے سری واستو گروپ کے ذریعے وہ عرصہ دراز سے عالمی رائے عامہ کومتأثر کر نے میں ملوث رہاہے اور ای یو کرانیکل پر بھارتی پراپیگنڈہ سازوں نے پاکستان کے خلاف شائع ہونے والے کالم اور مضامین یورپی قانون سازوں اور صحافیوں سے منسوب کرکے صحافتی بددیانتی کا بھی مرتکب ہواہے۔ ایسے ایسے صحافیوں کے نام استعمال کیے گئے جن کا وجود ہی نہیں، پھر انہی کالموں اور مواد کو بھارت کے اندر ٹی وی چینلز اور اخبارات و جرائد کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جاری مہم کو ہوا دی جاتی ہے جس کی بھارت کے ہر سطح کے عوام تک بآسانی رسائی ممکن بنانے کے لیے سمارٹ فون کو ہر جگہ پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے جس کے لیے اطلاعات ونشریات پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور وہ ہر قسم کا مواد بغیر کسی روک ٹوک اور کانٹ چھانٹ کے نشر کرنے میں آ زاد ہیں اس پر کوئی سنسر شپ کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کو مؤثر ومنظم بنانے لیے نوجوانوں کو خاص طور پر تربیت دی گئی ہے جو انگریزی،اردو، ہندی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں ماہر ہیں اور انہیں پرکشش مشاہروں پر ملازمتیں دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا او ر انٹرنیٹ پر مقامی اورپاکستان کے مخصوص علاقوں کے مسائل کو بنیاد بناکر پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے لیے ویب سائٹس اور گروپ بناکر ان میں ان کی تشہیر کرنے کے لیے خاس تربیت دی گئی ہے۔ اب یورپ کی ایک غیر سرکاری تنظیم، ڈس انفولیب،بھارت کی اس پروپیگنڈہ مہم کو دنیا کے سامنے لائی اور اس نے اپنی رپورٹ میں 65 ممالک میں غلط معلومات پھیلانے والے ایسے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو2005؁ء سے ایسے ممالک جن کے بھارت کے ساتھ تعلقات خراب تھے اور خاص طور پاکستان کے خلاف پوری تندہی سے کام کر رہا تھا ۔ اس رپورٹ میں 65ممالک میں بھارتی مفادات کے لیے کام کرنے والے265 مربوط جعلی نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا جس میں جعلی این جی اوز اور مشکوک تھنک ٹینکس بھی شامل تھے۔ بھارتی کرونیکلز کے نام سے ایک اور بھارتی نیٹ ورک کا پتہ چلا جو بھارت کے اندر پاکستان اور چین مخالف جذبات کو انگیخت کرنا اور پھر ان جذبات کو بھارت کے حق میں موڑنے کے مشن پر گامزن تھالیکن بھارت نے کمال ڈھٹائی سے ڈس انفولیب کی رپورٹ کو مسترد کردیا اور جواباً پاکستان پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگا دیالیکن وہ ایک آزاد اور غیر جانبدار یورپی تحقیقاتی گروپ کی رپورٹ، جس میں 116 ملکوں میں پھیلے 750سے زائد جعلی میڈیا اداروں اور550 سے زیادہ جعلی ویب سائٹس کے نیٹ ورک کو مردہ لوگوں کے نام استعمال کو منظرعام پر لایا گیا اور یورپی یونین کے اداروں کے نام کے جعلی استعمال کو بے نقاب کیا گیا اور جس میں یہ بھی بتایا کہ کس طرح بھارتی جاسوسی نیٹ ورک نے یواین او سے وابستہ 110ین کؤجی اوز کو 2005 ؁ء سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا، سے کیسے پیچھا چھڑا سکتاہے۔ بھارت کبھی بھی قابل اعتماد نہیں رہااور نہ ہی اس نے کبھی ایک ذمہ دار ملک ہونے کاکوئی ثبوت دیا ہے۔ ڈس ان فو لیب کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جس کے لیے پاکستان عرصہ دارز سے دہائی دیتاآیا ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے جنون میں مبتلا ہونے اورشرانگیز مہم چلانے پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کا فوراً نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح اقوام متحدہ جیسے مقتدر ادارے کی تنظیمات ایک رکن ملک کے دوسرے رکن ملک کے خلاف غلط طور پراستعمال ہوئیں۔ بھارت ایک طرف تو کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد کررہاہے اور دوسری طرف بے بنیا د پراپیگنڈے سے اقوام متحدہ اور اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہاہے اور تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے لیے مذموم کاروائیاں کررہاے۔اس مقصد کے لیے اس نے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد کے اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر کا دورہ کروایا اور مخصوص لوگوں سے ملواکر کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو مشکوک بنانے کی بہیمانہ کوششیں کیں۔بھارت کا رویہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف معاندانہ رہاہے اور چور مچائے شورکے مصداق ہمیشہ اپنے اندرونی معاملات کا الزام ہمیشہ پاکستان کے لگاتارہاہے اور دنیا کے بعض ممالک اس کی پشت پناہی بھی کرتے رہے ہیں۔ بھارتی راہنماوئں کے ماضی کے بیانات اور ان کی ہرزہ سرائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کے مفادات کے خلاف نبردآزما رہا ہے اور نریندر مودی کے بنگلہ دیش کے قومی دن کے موقع پر گذشتہ دورے میں، جس میں انہیں بنگلہ دیش کے اعلیٰ اعزاز سے بھی نوازا گیا اس موقع پر اپنی تقریر اس بات کا برملا اعتراف کیا تھا کہ نہ صرف بھارت بلکہ وہ خو د بنفس نفیس مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کی سازش میں شریک رہے ہیں اور انہوں نے اس جنگ میں حصہ بھی لیاہے۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیانات سے اخبارات بھرے پڑے ہیں جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی تحریک کا بدلہ بلوچستان اور آزادکشمیر میں چکانے کا اعتراف کیاہے۔ بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کے پاکستان میں عمل دخل کے بارے گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ بھارتی بحریہ کے حاضرملازمت کارندے ہیں جنہیں پاکستان میں کاروائیاں کرنے کے کیے بلوچستان میں خاص طور پر بھیجا گیا جہاں ا سے گرفتار کرلیا گیا۔ بھارت نے شروع دن سے ہی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے وجود کو مٹانے کی کوششیں شروع کردیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف اب تک چار جنگیں ہوچکی ہیں اور انہی کے نتیجے میں پاکستان کو دولخت بھی کرچکاہے اور ابھی اس کی مزید کاروائیاں جاری ہیں۔ بھارت اب راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان تمام الزامات سے بری الذمہ ہوسکتاہے۔ اب جبکہ یورپی یونین نے بھی اعتراف کرلیا ہے کہ ان کا وفد بھارتی سازش کا حصہ بنا اور سری واستو گروپ بھی برملا ا س بات کا اظہار کررہاہے کہ اس کا کام اور کاروبار دنیاکو بیوقوف بنا کر صرف پیسے بٹورناہے۔ اب یہ یورپی یونین، اقوام متحدہ اور دنیا کے تمام مقتدر اداروں کے ضمیر کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس معاملے کی تحقیقات کرکے معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہیں اگر وہ اب بھی اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں تو اس کا یہ صاف مطلب لیا جائے گا کہ دنیا کی طاقتور اور مظلوم اقوام کے لیے ان کے الگ الگ معیارات ہیں اور اقوام مٹحدہ کے چارٹر میں کمزور اور پسی ہوئی اقوام کے حقوق کے تحفظ کی جوضمانت دی گئی تھی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com