احسان قرآن وسنت کی روشنی میں

احسان قرآن وسنت کی روشنی میں
مولانا رضوان اللہ پشاوری
امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے ، جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے بھی پرکشش ہو۔اسی سے باب افعال کا مصدر ’’احسان‘‘ ہے ۔ گویا احسان ایسا عمل ہے ، جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت عمدہ اور خوبصورت ترین حالت کا نام ’’احسان‘‘ ہے اور اس کا دوسرا قرآنی نام ’’تزکیہ‘‘ ہے اور اس کے حصول کا طریقہ اور علم تصوف و سلوک کہلاتا ہے ۔
قرآنِ مجید میں احسان کا مفہوم:
قرآن مجید میں اکثر مقامات پر لفظ ’’احسان‘‘کے ساتھ علم الاحسان کی اہمیت اور فضیلت کا بیان مذکور ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’پھر پ رہی ز کرتے رہے اور ایمان لائے پھر صاحبان تقویٰ ہوئے (بالآخر) صاحبان احسان (یعنی اللہ کے خاص محبوب و مقرب و نیکو کار بندے) بن گئے اور اللہ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے ۔ ‘‘(المائدہ)مزید ایک جگہ فرمایا:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی سنگت اختیار کرو۔‘‘(التوبہ)
ان آیات کریمہ میں پہلے تقویٰ کا بیان ہے تقویٰ کیا ہے ؟ یہ دراصل شریعت کے تمام احکام، حلال و حرام پر سختی سے عمل کرنے کا نام ہے ۔ اس سے پہلے ’امنوا‘ میں عقائد و ایمانیات کا ذکر بھی آ گیا یعنی ایمان و اسلام پر مبنی شریعت کے تمام احکام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ’’احسان‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو طریقت و تصوف کی طرف اشارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان نہ صرف شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کر کے اپنے باطنی احوال کو تقوی کے نور سے آراستہ کریں بلکہ اگر ان کو ایمان، اسلام اور احکام شریعت کی بجاآوری اور تقوی کے کمزور پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو انہیں چاہیے کہ سچے بندوں کی سنگت اختیار کر لیں جو صادقین اور محسنین ہیں اور یہی صاحبان احسان درحقیقت احسان و تصوف کی راہ پر چلنے والے صوفیائے کرام ہیں جو اللہ کے نہایت نیک اور مقرب بندے ہوتے ہیں۔ یہی وہ انعام یافتہ بندے ہیں جن کی راہ کو اللہ نے صراط مستقیم قرار دیا ہے ۔ سورۃ الفاتحہ میں سیدھے رستے کی نشان دہی کرتے ہوئے دعا کرنے کی تلقین فرمائی گئی۔ ارشاد ہوتا ہے ۔’’اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا۔ ‘‘(الفاتحہ)یہ انعام یافتہ بندے کون ہیں۔ اس کی وضاحت خود قرآن مجید نے یہ کہہ کر فرمائی ہے :’’تو یہی لوگ (روز قیامت)ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو انبیا، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔ ‘‘(النساء)
حدیث مبارکہ میں احسان کا مفہوم:
امام بخاری اور امام مسلم کی روایت کردہ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ ایک روز جبریل امین علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انسانی شکل میں حاضر ہوئے اور امت کی تعلیم کے لیے عرض کیا: یا رسول اﷲ صلی اللہ علیک وآلہ وسلم! مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کے نازل کردہ صحیفوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لائے اور ہر خیر و شر کو اللہ تعالی کی طرف سے مقدر مانے ۔ ‘‘انہوں نے پھر پوچھا اسلام کیا ہے ؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں،اور یہ کہ تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور تو ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو اس کے گھر کا حج کرے ۔ ‘‘اس کے بعد جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال احسان کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’احسان یہ ہے کہ تو اﷲ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کیفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔ ‘‘
احسان کی جامع تعریف:
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق احسان عبادت کی اس حالت کا نام ہے ، جس میں بندے کو دیدار الٰہی کی کیفیت نصیب ہو جا ئے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس ہی جاگزین ہو جائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے ۔
امام نووی کا قول:
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کیفیت کو ’’احسان‘‘کہتے ہیں۔
احسان کی قسمیں:
مالی احسان:
مالی بھلائی یہ کہ مال خرچ کرے ، صدقہ زکوۃ دے ۔ سب سے عمدہ’’مالی احسان‘‘ زکوۃ ہے ۔ کیوں کہ زکوۃ اسلام اور اس کی عظیم عمارت کا ایک رکن ہے ۔ اس کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نفقہ ہے ۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے ان واجب نفقات کا جو انسان اپنی بیوی، والدین، بچے،برادران ،بھتیجے ، بھانجیوں ،چچاؤں ،پھوپھیوں اور خالاؤں وغیرہ پر صرف کرتا ہے ۔ پھر وہ صدقہ جو مستحقین صدقہ مساکین پر صرف کرتا ہے جیسے طالب علم وغیرہ۔
مرتبے کی بھلائی اوراحسان:
’’مرتبے کی بھلائی اور احسان‘‘ یہ ہے کہ لوگ مختلف رتبے کے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی پہنچ سرکاری آدمیوں تک ہوتی ہے ۔ چنانچہ انسان اپنی بھلائی رتبہ اور مرتبہ کی شکل میں خرچ کرتا ہے ۔ اس کے پاس لوگ آتے ہیں اور اس اس کے کسی سرکاری عہدے دار کے یہاں کسی پریشانی کو ختم کرانے یا کسی فائدے کے سلسلے میں سفارش کے طالب ہوتے ہیں۔
علمی احسان:
’’علمی احسان‘‘ یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کے لئے علم صرف کیا جائے ۔ اس طرح کہ عمومی اور خصوصی محفلوں اور نشستوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے ، یہاں تک کہ محفلِ قہوہ نوشی کو بھی نہ چھوڑا جائے ۔ کیوں کہ لوگوں کو تعلیم دینا اور سکھانا تمہارا احسان ہے چاہے تم عام مجلس ہی میں کیوں نہ رہو۔ لیکن اس سلسلے میں حکمت سے کام لو، ان کے اوپر بوجھ نہ بن جاؤ کہ جہاں بھی بیٹھو لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگو۔ اللہ کے رسول ﷺ موقع دے دے کر وعظ فرماتے اور زیادتی سے کام نہیں لیتے تھے ، کیوں کہ طبیعتیں تھک جاتی اور بے زار ہو جاتی ہیں۔ اگر بے زار ہو گئیں تو بوجھل اور کمزور ہو جائیں گے ۔ ہو سکتا ہے وعظ و نصیحت کرنے والے کی طولانی سے خیر ہی کو نا پسند کرنے لگیں۔
جسمانی احسان:
لوگوں کے ساتھ’’جسمانی احسان‘‘ کیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمہارا سوار ی کے سلسلے میں آدمی کی اعانت کرنا، اسے سواری پر سوار کرادینا، یا اس کے لئے سواری پر اس کا سامان چڑھا دینا صدقہ ہے (رواہ البخاری)ایک آدمی جس کی تم اعانت کرتے ہو، اس کے ساتھ اس کا سامان لاودیتے ہو یا اسے راستہ بتا دیتے ہو یا اسی جیسے کام سب کے سب ’’احسان‘‘ ہیں۔یہ ساری باتیں اس احسان سے متعلق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔
ؓاحسان کا بدلہ:
بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو لے کر جنگل میں سے گزر رہی تھی کہ اچانک بھیڑیا آیا اور اس نے عورت پہ حملہ کیا جب بھیڑیئے نے حملہ کیا تو وہ کمزور دل عورت گھبرا گئی جس کی وجہ سے اسکا بیٹا اسکے ہاتھ سے نیچے گر گیا بھڑیئے نے بچے کو اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گیا ۔ جب ماں نے دیکھا کہ بھیڑیا میرے بیٹے کو منہ میں ڈال کر جارہا ہے تو ماں کی ممتا نے جوش مارا تو اسکے دل سے ایک آہ نکلی جیسے ہی اسکی آہ نکلی تو اس نے دیکھا کہ جوان مرد درخت کے پیچھے سے بھیڑیے کے سامنے آیا، جب بھڑیئے نے سامنے اچانک ایک مرد کو دیکھا تو وہ گھبرا گیا اور بچے کو وہی چھوڑ کر بھاگ گیا نوجوان نے بچے کواٹھایا اور ماں کے حوالے کردیا اس ماں نے اس سے پوچھاتم کون ہو ؟جس نے میرے بچے کی جان بچائی آدمی نے کہامیں اللہ پاک کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں مجھے اللہ پاک نے آپکی مدد کرنے بھیجا ہے، جب ایک بار آپ کھانا کھا رہی تھی عین اسی وقت ایک سائل نے آپکے دروازے پہ روٹی کا ٹکرا مانگا آپکے گھر میں اس وقت وہی روٹی موجود تھی جو آپ خود کھانے والی تھی آپ نے کہا اللہ کے نام پہ سوال کرنے والے کو خالی ہاتھ کیسے جانے دوں تم نے خود کو بھوکا رکھ کر اپنے لقمے اسکو دیئے اب اللہ پاک نے بھیڑیے کے منہ کے لقمے نکال کر آپ کو دیئے کہ احسان کا بدلہ بس احسان ہے ۔
آج جب ہمارے معاشرے میں طرح طرح کے ڈرنکس بن رہے ہیں طرح طرح کے کھانے تو یہ ممکن ہے کہ کسی غریب کے گھر فاقے ہوں، ہمارا ہمسایہ
بھوکا ہوگا آئیں اپنے منہ کے نوالے اگر پورے نہیں تو آدھے ان کے نام کردے کیا پتہ حالات کا بھیڑیا کل ہم کو اس عورت گھیر لے اور بچانے بھی کوئی نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com