حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب قرآن مجیدکی روشنی میں

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب قرآن مجیدکی روشنی میں
محمدصدیق پرہار
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کامرتبہ انبیاء کرام کے بعدتمام انسانیت میں سب سے بلندہے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوآزادمردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کااعزازحاصل ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ قرآن مجیدکی جن آیات مبارکہ میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جومناقب بیان ہوئے ہیں اس تحریرمیں لکھے جارہے ہیں۔
سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
”اگرمحبوب کی مددنہ کروتوبے شک اللہ نے ان کی مددفرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہرتشریف لے جاناہوا۔ صرف دوجان سے،جب وہ دونوں غارمیں تھے۔ جب اپنے یارسے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔تواللہ نے اس پراپناسکینہ اتارااوران فوجوں سے اس کی مددکی جوتم نے نہ دیکھیں۔اورکافروں کی بات نیچے ڈالی، اللہ ہی کابول بالاہے اوراللہ غالب حکمت والاہے۔“
کتاب تاریخ کربلا میں اس آیت مبارکہ کی تفسیرمیں لکھاہے کہ تمام مسلمانوں کااس پراتفاق ہے کہ اس آیت کریمہ میں صاحب سے مرادحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سکینہ(سکون وخاطروتسلی) توکبھی زائل نہ ہوا۔ بس جن پرسکینہ نازل ہواوہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ بہرحال یہ آیت مبارکہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی تعریف وتوصیف میں بالکل واضح بیان ہے۔ اورآپ رضی اللہ عنہ صحابی ء رسول ہیں اس پربھی نص قطعی ہے۔ اسی لیے حضرت حسن بن فضل رضی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جوشخص حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی صحابیت کاانکارکرے،وہ نص قرآنی کے انکارکے سبب کافرہے۔ اسی آیت مبارکہ کی تفسیرمیں کتاب خطبات محرم میں لکھاہے کہ اب اس آیت کریمہ کامطلب ملاحظہ فرمائیں۔خدائے عزوجل ارشادفرماتاہے یعنی اے مسلمانو!اگرتم لوگ میرے رسول کی مددنہ کروتوبے شک اللہ نے ان کی مددفرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہرتشریف لے جاناہوا صرف دوجان سے جب وہ دونوں یعنی حضورانورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ غارمیں تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے یارغارحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے غم نہ کربے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تواللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پراپناسکینہ اتارا۔ یعنی ان کے دل کواطمینان عطافرمایا اورایسی فوجوں سے اس کی مددفرمائی جن کوتم لوگوں نے نہیں دیکھا اوروہ ملائکہ تھے۔ جنہوں نے کفارکے رخ پھیردیے یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کودیکھ ہی نہ سکے۔اورکافروں کی بات کونیچے کردی۔ یعنی ان کی دعوت کفروشرک کوپست کردیا۔ اوراللہ کاہی بول بالاہے اوراللہ غالب حکمت والاہے۔ برادران ملت اس آیت کریمہ میں جوآقائے عالمیان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ قول نقل کیاگیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا غم مت کروکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تواس موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپناغم نہیں تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاغم تھا۔
سورۃ الزمرمیں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا
”اوروہ جویہ سچ لے کرتشریف لائے اوروہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈروالے ہیں۔“
کتاب تاریخ کربلامیں اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں لکھاہے کہ یہ آیت کریمہ بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کااعلان کررہی ہے۔ جیساکہ بزاراورابن عساکرنے بیان کیاہے کہ حق لانے والے حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اورحق کی تصدیق کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیّدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ ہیں۔ صاحب تفسیرکبیرامام رازی علیہ الرحمہ اس آیت کریمہ کی تفسیربیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”یعنی اس سے ایک ہی شخص مرادہے کہ جوسچ لے کرتشریف لائے سے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک ہے اورجنہوں نے اس کی تصدیق کی سے مرادحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اوریہ قول حضرت سیّدناعلی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اوردیگرمفسرین کاہے۔ لہذا مفسرین کرام کی تفاسیرسے یہ ثابت ہوگیاکہ اللہ تعالیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کوبھی متقی فرمایاہے۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہ قیامت تک پیداہونے والے تمام متقیوں کے سردارہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاعلیہ الرحمہ اسی لییب توفرماتے ہیں۔
اصدق الصادقین سیدالمتقین
چشم وگوش وزارت پہ لاکھوں سلام
اسی آیت کریمہ کی تفسیرمیں کتاب خطبات محرم میں لکھاہے کہ اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی مروی ہے کہ جوسچ کے ساتھ تشریف لائے سے مرادرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورجنہوں نے تصدیق کی سے مرادحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ ایساہی تفسیرمدارک میں بھی ہے اوراسی کوامام رازی علیہ الرحمہ نے ترجیح دی ہے اورتفسیرروح البیان نے بھی۔
سورۃ الحدیدمیں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ
”تم میں برابرنہیں،وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیااورجہادکیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعدخرچ کیااورجہادکیااوران سب سے اللہ جنت کاوعدہ فرماچکاہے اوراللہ کوتمہارے کاموں کی خبرہے۔“
کتاب تاریخ کربلامیں لکھا ہے کہ کلبی نے کہا کہ یہ آیت مبارکہ بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں بازل ہوئی۔کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ پہلے وہ شخص ہیں جواسلام لائے اورپہلے وہ شخصیت ہیں جس نے راہ خدامیں مال خرچ کیا اوررسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کی۔ صاحب تفسیرحسینی وقادری اپنی تفسیرمیں لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔اس واسطے کہ آپ رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جوایمان لائے اورخرچ کیااورکافروں سے جنگ کی۔
سورۃ والیل میں اللہ تعالیٰ کاارشاد مبارک ہے کہ
”اورجہنم سے بہت دوررکھاجائے گاوہ شخص کہ جوکہ سب سے بڑاپرہیزگارہے جوکہ اپنامال دیتاہے خدائے تعالیٰ کے نزدیک ستھراہونے کے لیے،نہ کہ ریا،سمعہ یاان کے علاوہ کسی دوسرے مقصدکے لیے خرچ کرتاہے۔“
کتاب خطبات محرم میں لکھا ہے کہ یہ آیت مبارکہ بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت نازل ہوئی ہے۔ حضرت سیّدمحمدنعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃتحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوبہت گراں قیمت پرخریدکرآزادکردیا توکفارکوحیرت ہوئی اورانہوں نے کہاکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایساکیوں کیا۔ شایدبلال کاان پرکوئی احسان ہوگا جوانہوں نے اتنی گراں قیمت دے کرخریدااورآزادکیا۔اس پریہ آیت کریمہ نازل ہوئی اورظاہرفرمادیاگیا کہ حضرت صدیق اکبرکایہ فعل محض اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے ہے کسی کے احسان کابدلہ نہیں اورنہ ان پرحضرت بلال رضی اللہ عنہ وغیرہ کاکوئی احسان ہے۔
اس تحریر میں آپ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب میں قرآن پاک کی آیات مبارکہ کامفہوم اوران آیات مبارکہ کی تفاسیربھی پڑھ چکے ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شان، عظمت اورفضیلت کااس سے بڑااورثبوت کیاہوکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شان بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کیے ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرنااللہ تعالیٰ کے فرمان پرعمل کرناہے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرنے اورآپ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب بیان کرنے اورسننے کے لیے اوردرجات کی بلندی کی دعاکرنے کے لیے اپنی نزدیکی مساجداورگھروں میں محافل شان وعظمت صدیق اکبررضی اللہ عنہ منعقدکریں۔ اپنے شاگردوں اوربچوں کوآپ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب سے آگاہ کریں۔ ان کے دلوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت کی شمع روشن کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com