لاہور میں کورونا کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو چکی، جو بے حد تشویشناک ہے، مزید سخت اقدامات اٹھا سکتے ہیں:عثمان بزدار

لاہور5  دسمبر:وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے کہ کوروناکی دوسری لہر میں اب تک پنجاب میں 19 ہزار 941پازٹیو کیس آچکے ہیں اوریہ تمام نئے کیسز گزشتہ 2 ماہ میں سامنے آئے ہیں -گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے540 پازٹیو کیس سامنے آئے اور کورونا کی وجہ سے 22 اموات ہو ئیں – پنجاب میں 20 لاکھ 60ہزار کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز کورونا کے 13 ہزار سے زائدٹیسٹ کئے گئے-لاہور میں کورونا مثبت آنے کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو چکی ہے جو بے حد تشویشناک ہے – پنجاب میں 2 ہزار سے زائد سمارٹ لاک ڈاؤن کئے گئے ہیں جبکہ لاہور میں 625 سے زائد سمارٹ لاک ڈاؤن کئے گئے-اگر یہ تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو کوئی چارہ نہیں کہ دوبارہ سخت اقدامات کرنا پڑیں -لاہور میں کورونا کے مریضو ں کی تعداد تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے – لاہور کورونا مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے -اگر صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے تو احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر کورونا کو پھیلنے سے کون روک سکتا ہے- خدا نخواستہ یہ معاملہ بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے -وہ آج وزیر اعلی آفس میں پریس کانفرنس کررہے تھے- وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ حکومت عوام کو کورونا سے بچانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے – کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے صوبہ بھر میں مختص ہسپتالوں کو از سر نو فعال کر دیا گیا ہے-ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور دوسری سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں -محکمہ صحت کو فوری طور پر ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز مہیا کر دیئے ہیں – تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کو جون کی پوزیشن پر بحال کر دیا گیا ہے – ہسپتالوں میں ایچ ڈی یوز کو بحال کر دیا گیا ہے -کورونا سے بچاؤ کا انجکشن مزیدخریدنے کا آرڈر دے دیا گیا ہے – ایکسپوسنٹر میں 300 آکسیجن بیڈ پر مشتمل فیلڈ ہسپتال کو پھر فعال کر دیا گیا ہے-پنجاب میں 14 سو وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن میں 6 سو کے قریب کورونا کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں -میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا کی صورتحال خطرناک ہے، اجتماعات کے حوالے سے این سی او سی اور عدلیہ کے فیصلے بھی موجود ہیں – جلسے کے بارے میں قانون کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا-حکومت ہر اقدام قانون کے مطابق اٹھائے گی-ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این سی او سی اور عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق اجتماعات غیر قانونی ہیں – غیر قانونی اجتماعات کی کس طرح اجازت دی جا سکتی ہے -تحریک انصاف سے بڑے جلسے کسی نے نہیں کئے اور نہ ہی کوئی نہیں کر سکتا – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد لے کر آنی ہے تو اسمبلی میں جمع کرائیں -اسمبلی میں عدم اعتماد آئے گی تو اس کا مقابلہ کریں گے -کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی-تحریک انصاف نے بھی اپنے جلسے ختم کر دیئے ہیں – مارکیٹوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاتی ہے – ہم چاہتے ہیں کہ مزید سختی نہ کرنا پڑے اور کاروبار چلتا رہے- اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے -ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے -لاہور کے حوالے سے بہت اچھی خبریں جلد ملیں گی -لاہور کی ترقی کے لئے بڑے اقدامات کئے جا ئیں گے- صوبائی وزراء راجہ بشارت، ڈاکٹر یاسمین راشد اور معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی اس موقع پر موجود تھیں –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com