جمہوریت ہوتی تو

جمہوریت ہوتی تو
امتیازعلی شاکر
جمہوریت ایسے طرز حکومت کوکہاجاتاہے جسے دوسرے الفاظ میں عوام کی حکومت کہتے ہیں،عوام کی حکومت سے مرادعوام کے ووٹ سے منتخب حکومت جوالیکشن مہم کے دوران پیش کردہ منشورپرووٹ حاصل کرے اورپھرعوامی امنگوں کے مطابق امورریاست چلائے،آمریت اس طرزحکمرانی کوکہتے ہیں جس میں کوئی ایک فردیاطبقہ اکثریت کے حقوق پرزبرستی قبضہ کرلے اوراکثریت یرغمال ہوکررہ جائے،مختلف دانشورآمریت وجمہوریت کی کئی اقسام بیان کرتے ہیں جودنیاکے مختلف ممالک کے تجربات سے اخذکی گئی ہیں،پاکستان کی 72سالہ تاریخ میں جمہوریت کاکہیں وجودمحسوس تک نہیں ہوتا،خالص آمریت کے ساتھ بھی پاکستانی قوم کاکبھی واستہ نہیں پڑا،سیاستدان فوجی ادوارکوآمریت کہتے ہیں جبکہ ہردورمیں سیاستدانوں نے فوجی حکمرانوں سے فائدے حاصل کئے ہیں،جمہوریت یاآمریت کی باتیں سن کریقین کرناانتہائی مشکل ہے البتہ وطن عزیزمیں سیاسی+فوجی یافوجی پلس سیاسی طرزحکمرانی رائج رہی ہے،جمہوریت یقینابہترین طرزحکمرانی ہے پرسیاست کوجمہوریت نہیں کہاجاسکتا،اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہوتی تویقیناہم جمہوریت دانوں کے شانہ بشانہ ہوتے،قوم نے دیکھاجب ڈاکٹرزنے وکیل پرتشددکیاتوپوری وکلاء برادی نے غم وغصے کانہ صرف اظہارکیابلکہ اسپتال پرچڑھائی کرکے بدلہ لینے کی انتہائی کوشش کی جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوئے،پولیس کی گاڑی جلی،اسپتال کی عمارت کونقصان پہنچا، وکلابرادری کودہشتگردی کے مقدمات،میڈیا،حکومتی وزرا،اورسخت عوامی ردعمل کاسامنا کرناپڑا پھربھی وکلاء برادری ایک خاندان کی طرح متحدہوکرایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہے،ڈاکٹرزیونین بھی ایک منظم خاندان کی مانند انتہائی نامناسب اوراشتعال انگیزرویہ رکھنے والے ٹوٹل فسادکی جڑ ڈاکٹرعرفان کے شانہ بشانہ نظرآتی ہے،خواجہ آصف قومی اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ سیاستدان حکومت میں ہوں یااپوزیشن میں سب ایک برادری ہیں لہٰذاانہیں ایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھناچاہیے،سیاستدان اندرون خانہ ایک دوسرے کے دوست ہیں جبکہ بیرون خانہ شدیددشمنی ظاہرکرتے ہیں،ماضی میں سابق فوجی صدرپرویزمشرف نے ججزکومعزول کیاتوججزمتحدہوگئے،وکلاء کی عدلیہ آزادی تحریک میں پرویزمشرف مخالف سیاستدانوں،صحافیوں اورعام عوام نے وکلاء کابھرپورساتھ دیاجس کے نتیجہ میں ججزبحال ہوگئے،یاد رہے کہ ججزبحال ہوئے عدلیہ نہیں،افسوس کہ عدلیہ کی آزادی اورمکمل غیرجانبداری ابھی باقی ہے،اب پرویزمشرف کوسزاموت سنادی گئی اورپاک فوج کی جانب سے فوراًشدیدغم،غصے اوراضطراب کاردعمل بھی آچکاہے،پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے کہاہے کہ افواج پاکستان صرف ایک منظم ادارہ ہی نہیں بلکہ ہم ایک خاندان ہیں،بہت اچھی بات ہے کہ افواج پاکستان ایک خاندان ہیں،سیاستدان ایک خاندان ہیں،ڈاکٹرزایک خاندان ہیں،ججزایک خاندان ہیں،وکلاء ایک خاندان ہے،بیوروکریٹس ایک خاندان ہیں،کاروباری ایک خاندان ہیں اوراسی طرح دیگربااثرطبقات ایک ایک خاندان ہیں توپھرہمیں یعنی عام عوام کوبھی بتایاجائے کہ ہم کس خاندان کاحصہ ہیں؟کس خاندان کے قریبی ہیں؟کونساخاندان ہمارے متعلق سوچ سکتاہے؟کاش کہ عوام بھی ایک خاندان ہوتے،کاش کہ کسی سیاستدان،کسی فوجی،کسی ڈاکٹر،کسی وکیل،کسی جج کوعوام پرہونے والے ظلم وستم پربھی دکھ ہواہوتا،غصہ آجاتایاکوئی اضطرابی کیفیت کاردعمل ہی دے دیتا،سیاستدان،فوجی،جج،وکیل اوردیگرحکمران طبقات سب ایک ایک خاندان ہیں اور سب ہی عوامی حمایت کے دعویدارہیں،سب چاہتے ہیں عوام ان کی حمایت میں ردعمل دیں،سب سمجھتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں،حقیقت بھی یہی ہے کہ عوام ہرحکمران یاطاقتورطبقے کے ساتھ ہیں اوردوسری حقیقت یہ ہے کہ عوام کے ساتھ کوئی بھی نہیں یہاں تک کہ عوام کے ساتھ خودعوام بھی نہیں ہیں،جب پرویزمشرف نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کووزارت عظمیٰ سے معزول کرکے گرفتارکیا،سیاسی حکومت ختم کرکے مارشالاء نافذکیاعوام نے مٹھایاں تقسیم کی،پھرالیکشن میں پرویزمشرف کی حمایت یافتہ پاکستان مسلم لیگ ق سلیکٹ ہوئی اورچوہدری پرویزالٰہی نے پرویزمشرف کوباوردی صدرمنتخب کرنے پرفخرمحسوس کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہربارپرویزمشرف کوباوردی صدرمنتخب کریں گے،وقت گزراحالات بدلے توپرویزمشرف کوصدرپاکستان کے منصب سے مستعفی ہوناپڑا،اس موقع پربھی عوام نے مٹھائیاں تقسیم کی،ڈھول کی تھام پررقص کیااورخوب خوشی منائی،پھروہ وقت بھی آیاجب پرویزمشرف پرسنگین غداری کامقدمہ بنااورگرفتاربھی کیاگیا،میاں نوازشریف کی طرح پرویزمشرف بھی بیماری کاعلاج معالجہ کروانے بیرون ملک چلے گئے اورواپس نہ آئے،جس نوازشریف کووزارت عظمیٰ سے نکال کرپرویزمشرف نے حکومتی انتظامات سنبھالے اس میاں نوازشریف کوایک مرتبہ پھروزارت عظمیٰ کیلئے سلیکٹ کرلیاگیااورپھرعدلیہ نے میاں نوازشریف کوصادق وامین ثابت نہ ہونے پرتاحیات نااہل اورکرپشن کے الزامات میں قیدکی سزائیں سنائیں،عوام نے اس موقع پربھی مٹھائی تقسیم کی اوربھنگڑے ڈالے،افواج پاکستان کے ساتھ عوام کارشتہ توسمجھ آتاہے پرجمہوریت کی آڑمیں سیاسی چالیں چلنے والوں کی چالیں ملک دشمن قوتوں جیسی معلوم ہوتی ہیں،یہ سچ ہے کہ سلیکٹرزنے ہمیشہ نااہل اوربدعنوان مافیاکوسلیکٹ کرکے ہم پرمسلط کیا،یہ بھی سچ ہے کہ سلیکٹرزنے ہماری تعلیم وتربیت یاعلاج معالجہ پرتوجہ نہیں دی،یہ بھی سچ ہے کہ اندرونی،بیرونی مسلح دہشتگروں سے بچاکرسیاسی لٹیروں،قاتلوں کے حوالے کئے رکھا،یہ بھی سچ ہے کہ ہمیشہ سیاست کوسپورٹ کیاکبھی جمہوریت کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش نہیں کی پھربھی ہم اس حقیقت کوسمجھتے ہوئے کہ جن ممالک کے عوام اورافواج کے درمیان اعتمادکارشتہ ختم ہوجائے وہ ملک تباہ وبربادہوجاتے ہیں اپنے محب وطن،جان نثاران،بہادرافواج کے شانہ بشانہ ہیں،یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہوتی تویقیناہم جمہوریت دانوں کے ساتھ ہوتے اوریہ بھی سچ ہے کہ ہم جمہوریت کے نام پرمزید سیاسی دھوکے کھانے کی سکت نہیں رکھتے،بلاخوف وخطرکہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہوتی توہم آمریت کیخلاف اورجمہوریت دانوں کے شانہ بشانہ ہوتے پراب ہم سابق صدرجنرل ریٹائرڈپرویزمشرف کوریاست یاآئین کاغدارماننے کیلئے ہرگزتیارنہیں ہیں،پرویزمشرف سے این آراولینے والے،پرویزمشرف کی کابینہ میں وزیربن کرمزے کرنے والے کئی آج بھی حکومت کاحصہ ہیں،کیاپرویزمشرف کوسزاسنانے والی عدلیہ بتاسکتی ہے کہ پرویزمشرف دورمیں وزیراورمشیررہنے والے محب وطن اورآئین کے وفادارہیں توپھرایک اکیلاشخص غدارکیسے ہوگیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com