عمران خان کے فیصلے

عمران خان کے فیصلے
تحریر انور علی
اگر عمران خان کے نظریات کو دیکھا جائے جن کا وہ اقتدار میں آنے سے پہلے تک پرچار کر رہے تھے تو کوئی بھی ذی شعور آدمی اس کی حمایت کئے بغیر نہیں رہ سکتا میں جب بھی ان کی پرانی ویڈیوز دیکھتا ہوں تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پرانے نظریات کی طرف لوٹ آئیں کاش وہ اسی کی دہائی کی انتقامی سیاست کے خول سے باہر نکل آئیں جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں کاش وہ ”میں ” کی بجائے ”ہم” کے فلسفے کی طرف لوٹ آئیں اور پوری قوم کو متحد کرکے بحرانوں سے نکالنے کا اہتمام کریں کاش معاشرے کو مزید تقسیم کرنے کی بجائے ہم آہنگی کا ماحول پیدا کریں جس میں منتخب نمائندے کی بات کو نہ صرف سنا جائے بلکہ اسے سراہا بھی جائے
کل تک جس میڈیا کی آزادی کی بات کی جارہی تھی اور میڈیا کی سینسرشپ کے نقصانات سے قوم کو آگاہ کیا جا رہا تھا آج وہی میڈیا مختلف پابندیوں کا شکار ہے حالانکہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا سب سے زیادہ فائدہ بھی عمران خان نے ہی اٹھایا جن کے جلسوں کی گھنٹوں لائیو کوریجز ہوتی تھیں اور آنے والے جلسوں کی بھی خوب پبلسٹی ہوتی تھی- گھر سے احتساب شروع کرنے کا نعرہ بھی ان کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا کہ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کرپشن زدہ لوگوں کو قطار در قطار اپنی پارٹی میں نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ انہیں کلیدی وزارتوں سے بھی نوازا گیا اور ابھی حکومت میں آنے کے بعد ان وزیروں کی کرپشن پکڑے جانے کے باوجود کہیں کوئی ایکشن نظر نہیں آتا سوائے وزارتوں کی تبدیلی کے- پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا نہ صرف وعدہ کیا گیا بلکہ خیبر پختونخواہ میں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا دعوی بھی کیا گیا جبکہ حکومت میں آنے کے بعد 5 آئی جیز کی تبدیلی سے حکومتی عزائم واضح نظر آرہے ہیں جس کا عملی ثبوت پاکپتن واقعے اور اعظم سواتی کے کیس کی شکل میں عدالتوں تک بھی پہنچ چکا ہے- پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کیے گئے جبکہ حقیقت میں تجاوزات کے نام پر لوگوں کے گھر گرائے گئے- روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تاجروں کے لئے سہولیات اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کاروباری ماحول پیدا کرنے کے وعدے کیے گئے جبکہ حقیقت میں نہ صرف بہت سے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں بلکہ بنگلہ دیش شفٹ بھی ہوچکے ہیں – عمران خان کا ٹیکس ڈبل کرنے کا دعوی بھی اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب ملک میں کاروبار بڑھے گا لیکن ٹیکس پہلے سے بھی کم ہوگیا ہے- دعووں اور وعدوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جو ایک کالم میں سما نہیں سکتی اور عوام دو سال گزرنے کے بعد بھی حکومت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں لیکن حکومت تاحال ان کے لئے سکون کا ساماں پیدا نہیں کر سکی
کسی بھی سیاستدان کو اس کے فیصلے لیڈر بناتے ہیں جس کی تاریخ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان کے کئے گئے فیصلے ان کے مقدمے کو کمزور کرتے نظر آتے ہیں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تو ابھی تک پاکستانی قید میں ہے جبکہ ابھینندن کو 24 گھنٹے کے اندر ہی رہا کردیا گیا جس کی رہائی کو مودی نے بھارت کا خوف اور امریکہ نے اپنے اثر رسوخ اور دباؤ کی وجہ قرار دیا-  کوالالمپور کانفرنس کے لیے ترکی کے صدر طیب اردگان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے مسلم امہ کے لیے ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کو راستے سے ہی سعودی عرب کے دباؤ پر اپنا جہاز واپس موڑنا پڑا اس طرح کے فیصلوں سے نہ صرف پاکستان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عمران خان کے دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت کا بھی پردہ چاک ہو گیا-
اپنی کابینہ کی سلیکشن اہلیت اور تعداد نے بھی ان کے بہت سے اپنے لوگوں کو حیران کر دیا ہے کابینہ میں بار بار کی گئی تبدیلیوں سے بھی حکومت کی پرفارمنس بہتر نہیں ہو سکی بحران سے نمٹنے اور فیصلہ سازی میں حکومت پہلے ہی مسائل کا شکار تھی کہ کرونا وبا نے آ لیا حکومت نے اس کے لئے بھی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کرنے کی بجائے لاک ڈاون کے نقصانات گنوانا شروع کر دیے پھر لاک ڈاؤن کر دیا گیا لیکن اس کے نقصانات کی رام کہانی سے قوم محظوظ ہوتی رہی پھر سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا لیکن مکمل لاک ڈاؤن کہیں بھی نظر نہیں آیا اب نرم لاک ڈاؤن کے نام پر چار دن مارکیٹیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے کسی کو بھی اس فلسفے کی سمجھ نہیں آرہی کہ اگر چار دن نرم لاک ڈاؤن ہے تو پھر سات دن کیوں نہیں – جبکہ دوسری طرف کرونا کیسز میں یکدم تیزی آنا شروع ہوگئی ہے اب اس نرم لاک ڈاؤن کے فوائد یا نقصانات کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا کہ اس سے کرونا کیسز میں کمی ہوئی ہے یا زیادتی جس کی طرف حکومت یہ کہہ کے اشارہ کرتی نظر آتی ہے کہ کرونا کی شدت بڑھنے کی صورت میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com