حنا ثروت | پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت

ایک زمانہ تھا کہ عالم اسلام ایک ہار میں جڑے ہوئے ہیروں کی طرح جگمگاتا تھا اور اس کے کسی بھی حصے کو درد ہوتا تھا تو سارا عالم اسلام اسے محسوس کرتا تھا۔لیکن آج حالات بلکل اس کے برعکس نظر آتے ہیں آج سب اسلامی ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے وہ اس بات سے بلکل بے خبر ہیں۔فرض کریں اگر ہم بات کرتے ہیں مقبوضہ کسشمیر کی جس کو لاک ڈاؤن ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکالیکن ابھی تک پاکستان کے علاوہ کسی اسلامی ملک نے آواز نہیں اٹھائی۔کیونکہ جن ممالک سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ کم از کم پاکستان کے ساتھ مل کر کشمیر پر لگے کرفیو پر شدید رد عمل ظاہر کریں گے انہی ممالک نے آج چپ سادھ رکھی ہے کیونکہ ان ممالک کے بھارت کے ساتھ درینہ تعلقات ہیں اگر وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کشمیر کیلیئے آواز اٹھائیں گیتوان کی اربوں کی تجارت ڈوب جائے گی۔
پاکستان نے ہر اس اسلامی ملک کیلے آواز اٹھائی جہاں پر اس نے عوام پر ظلم ہوتے دیکھا۔چاہے کشمیر ہو،لبنان،فلسطینن،شام یا افغانستان ان سب ممالک کیلیے اس نے سفارتی،سیاسی اور اخلاقی سطح پر کردار ادا کیا۔لیکن پاکستان کو جن ممالک سے وفا کی امید تھی انہی ممالک نے عین موقع پر دھوکہ دیا۔ان میں ایران اور سعودی ارب جیسے ممالک شامل ہیں۔ایک وہ دور تھا جہاں اسلام پر یا کسی اسلامی ملک پر ذرا سی آنچ آتی تو سب اسلامی ممالک اکٹھے ہو جاتے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے۔اور ایک موجودہ دور جس میں ہر ملک صرف پیسے کو اہمیت دے رہا ہے صرف اور صرف اپنی تجارت کو بچانا چاہتا ہے۔آج کا مسلمان صرف نام کا مسلمان ہے جو ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے سے قاصر ہے وہ جہاں بھی جس کونے میں کسی بھی اسلامی ملک پر ظلم ہوتے دیکھتا ہے تو اس کی زبان کو تالے لگ جاتے ہیں۔ہم سے بہتر تو انگریز اقوم ہے اگر کسی بھی یورپی ملک میں چھوٹا سا دہشتگردی کا واقع ہوتا ہے تو یہ سب ممالک اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس اگر کسی اسلامی ملک میں کوئی ایسا واقع ہوتا ہے تو پاکستان کے علاوہ کوئی ملک بھی اس کیلیے آواز اٹھانا مناسب نہیں سمجھتا۔
پاکستان کے خلاف ناپاک عزائم کے باوجود پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت نے بھارت،امریکہ،افغانستان اور ایران سے تحمل سے بات کی ہے،مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ کوئی جذباتی قدم اٹھائے۔جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے خطاب میں بھارت اور ہمسایہ ممالک کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا، بھارت کے حوالے سے خاص طور پر انہوں نے کہا کہ بھارت نے اگر جان بوجھ کر پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا تو پاک فوج اس کا بھرپور جواب دے گی۔یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان کے بننے سے لے کر آج تک پاکستان طاغوتی،لسانی، انڈین،اور امریکن لابی کو برداشت نہیں ہو رہا اس لیے پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں اور ان کا مقابلہ پاک فوج اور ہمارے سکیورٹی ادارے ہر دور میں کرتے آئے ہیں۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں وہ فوج ملی جس کا مقابلہ دنیا کی کوء فوج بھی نہیں کر سکتی۔اگر ہمارے سکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں کمزور ہوتیں تو آج ہمارا حشر بھی عراق،لبنان،شام،کشمیر اور فلسطین کی طرح ہوتا۔ہمیں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن ممالک خاص طور پر بھارت پاکستان کے بیشتر پراجیکٹس کو کمزور بننانے کیلیے سالانہ 10 سے 12 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں واپڈا کے سابق چئیر مین شمس الملک کا یہ بیان پیش نظر ہے کہ بھارت کالا باغ ڈیم کے مخالفین پر 7 ارب روپے خرچ کر رہا ہے۔ ایک بات جو انتہاء افسوس ناک ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی حکومت سے بہتر تعلقات رکھے ہیں نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر حکومت نے ہر مشکل وقت میں افغانستان کی مدد کی اورا س سلسلے میں ان کو اربوں کی مراعات دیں۔لیکن افغانستان نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دھوکہ کیا اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ناپاک سازشوں میں پیش پیش رہا۔پاکستان میں اب تک جو دہشتگردی کے واقعات ہوئے وہ زیادہ تر افغان بارڈر سے کیے گئے اور جب پاکستان نے اس مسئلے پر افغانستان کی حکومت سے بات کی تو انہوں پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے بھارتی حکومت کی ہاں میں ہاں ملاء لہذا یہ امر خوش آئند ہے کہ افواج پاکستان مودی اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کی کسی ناپاک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے رہی۔ہر وہ دشمن جو اس وقت پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے وہ یہ سن لے کہ صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ ہر مجاہد سر پر کفن باندھ کے کھڑا ہے۔ہم الحمدوللہ وہ قوم ہیں جو مشکل وقت میں گھبرایا نہیں کرتے بلکہ مصیبت کی ہر گھڑی میں ہم یکجان ہو جاتے ہیں۔آخر میں اللہ پاک سے یہ دعا ہے کہ وہ میری دھرتی کی حفاظت فرمائے اور ہر اس دشمن کو ناکام کر دے جو ہماری دھرتی ماں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com