کاش اُمت مسلمہ دوسروں کے دست نگر نہ رہے

کاش اُمت مسلمہ دوسروں کے دست نگر نہ رہے !
۰شاہد ندیم احمد
دنیا میں مسلمان ممالک کی بڑی تعداد ہو نے کے باوجود مسلم مخالف قوتوں کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہیں ،اس کی وجہ باہمی انتشار ہے ،حالا نکہ اسلامی ممالک کی اپنی اسلامی تعاون تنظیم 57 مسلم ممالک پر مشتمل ہے ،مگر غیر فعالیت کے باعث حوصلہ افزا مثبت نتائج دینے سے قاصر رہی ہے ۔او آئی سی کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک یا دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے متحرک کردار ادا کرنا ہے۔ عرب اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو متحرک کیا اور او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا بھرپورکردار ادا کیا،مگر اہل پاکستان کے لئے سعود ی عرب اور متحدہ عرب امارات کا طرز عمل اس لحاظ سے قابل تعجب رہا ہے کہ انہوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بدلنے اور اب بھارت میں مسلمانوں کو کچلنے کے لئے متنازع شہریت بل کے حوالے سے نہ صرف خا موشی اختیا کر رکھی ہے، بلکہ ترکی ، ملائشیا نے جب کھل کر اہل کشمیر کے لئے آواز بلند کی تو رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میںشرکت کرنا تھی ،مگر سعودی عرب کے تحفظات کے باعث اس سمٹ میں شریک نہیں ہوا تھا۔اب سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے کوالالمپور سمٹ کے مقابلے کے لیے او آئی سی کی اہمیت کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر (او آئی سی) کا اسلام آباد میں خصوصی اجلاس منعقد کرایا جائے گا۔اسلامی تعاون تنظیم کامقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی اجلاس بلانے کو پاکستان کی سفارتی سطح پر کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ا و آئی سی دنیا کے ستاون مسلم ممالک کی تنظیم ہے،مگر اس تنظیم کے زیادہ تر اراکین کے مفادات ایک دوسرے سے وابسطہ ہیں۔ بھارت کے لاکھوں شہری عرب ممالک میں کام کرتے اور زرمبادلہ بھارت بھیجتے ہیں، بھارت کی کاروبار کمپنیاں عرب ممالک سے اربوں ڈالر سالانہ کماتی ہیں۔سعودب عرب میںکام کرنے والی معروف کمپنی آرامکو کے 10ارب ڈالر کے حصص حال ہی میں بھارت نے خریدے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بحال رکھنا بھارت کی مجبوری ہے،جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کی ایسی کوئی خاص مجبور نہیں،اس کے باوجود عرب ممالک کا مقبوضہ کشمیر اور بھا رت کے مسلمانوں کے خلاف مظالم پر خاموشی ناقابل فہم ہے ۔کوالالمپور کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان کی شرکت پر بھی سعودی عرب کے تحفظات کا ہونا پا کستانی مفادات کے منافی ہے۔ سعوی عرب اور یو اے ای نے معاشی مشکلات میں ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خارجہ پا لیسی پر اثر انداز ہوں۔ مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کی بے حسی دیکھتے ہوئے ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے رفقاء سرعام کہتے پھرتے ہیں کہ عربوں سمیت کشمیریوں کی مدد کرنے کوئی نہیںآئے گا۔
یہ امرخوش آئند ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کشمیر کے معاملے پر او آئی سی اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان کو ترکی اور ملائشیا کی خصوصی طور پر شرکت کو یقینی بنانے کے لئے سعودی عرب کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اگرکشمیریوں کے حق میں بروقت بلند آواز اٹھانے والے ان دوملکوں کو ایسی کانفرنس میں نظر انداز کیا گیا تو پاکستان کے لئے یہ بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ او آئی سی اجلاس کی قرار دادیںاور فیصلے اس سلیقے سے ترتیب دیے جائیں کہ بھارت اس اجلاس کے بعد خود پر ایک ایسا دبائو محسوس کرے جس سے نکلنا اس وقت ممکن ہو جب وہ کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی قانون سازی واپس لے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ اور جنوبی و مغربی ایشیا مسلمانوں کے لئے اذیت دہ بنا دیا گیا ہے۔ اس صورت حال میں ہمیشہ کی طرح مسلم امہ کے اتحاد کی علامت او آئی سی نے کشمیر پر رسمی انداز میں اجلاس بلایا اور پھر رسمی کارروائی کر کے خود کو بری الذمہ قرار دیا تو معاملہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
بلا شبہ اسرائیل اور بھارت مسلمان ملکوں کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں ،اس کا ادراک وزیراعظم عمران خان اُمت مسلمہ کو کروانے میں کو شاں ہیںکہ ابھی وقت ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل اور بقاء کیلئے متحد ہو جائیں۔مسلم ممالک تمام مخالف قوتوں کا مقابلہ ایک متحدہ پلیٹ فارم پرہی کرسکتے ہیں ،اس کے لیے او آئی سی کے پلیٹ فارم کوفعال متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔او آئی سی کا سربراہ اجلاس کئی عشروں سے بے قاعدگی کا شکار ہے۔موجودہ صورت حال کے پیش نظر اسلامی تعاون تنظیم کے مقاصد کو جدید چلینجز کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہو گا،ارکان تنظیم کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کہ مسلمان ممالک کو پسماندگی سے کس طرح نکالا جائے، غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کو کس طرح تعلیمی،مالی اور سماجی مدد دے کر طاقتور بنایا جائے کہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں، یہ سب امور او آئی سی تنظیم کی توجہ چاہتے ہیں۔ سردست مقبوضہ کشمیر کی حالت پریشان کن ہے ،مسلسل کرفیو اور چوبیس گھنٹے بھارتی فوج کی کارروائیوں نے کشمیریوں کے دکھ بڑھا دیے ہیں۔ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم رکھنے کی کوشش کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ یہ امر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ پاکستان سے جس طرح مشرق وسطیٰ میں کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، اسی طرح کی توقع پاکستان کشمیر کے حوالے سے مسلم ممالک کی حمایت کی صورت میں کرتا ہے۔ اسلام آباد میں متوقع او آئی سی اجلاس میں کشمیر کی صورت حال پر صرف غور نہیں کیا جانا چاہئے،بلکہ کچھ ایسے ٹھوس اور موثر فیصلے بھی منعقدہ اجلاس میں کئے جائیں کہ جن سے پوری اُمت مسلمہ جسد واحد میں ڈھل جائے اور اپنے مسائل حل کرنے کے لئے دوسروں کی دست نگر نہ رہے،یہ مشکل ضرور ہے ،ناممکن نہیں ،خلوص نیت سے با ہمی اتحادو اتفاق شرط ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com