ادبی دنیا کا معروف نام ’اِبنِ انشاء‘


اختر جمال عثمانی
ابنِ انشاء ایک ایسے شاعر و ادیب تھے جن کے اشعار اور جملے عام لوگوں کی زبان پر رہتے ہیں۔ ان کو نثر اور شاعری دونوں میں یکساں قدرت حاصل تھی۔شاعر، صحافی، مترجم اور مزاح نگار ابنِ انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کے شہر لدھیانہ کے پھلور قصبے میں 15 جون 1927 کو پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم قصبے کے ہی ایک اسکول سے حاصل کی 1939 میں گورمنٹ ہائی اسکول لدھیانہ میں داخلہ لیا جہاں انگریزی کے ساتھ فارسی اور ہندی کو ا ختیاری مضامین کے طور پر لیا۔ شاعری کی شروعات اسکول کے زمانے سے ہی ہو گئی تھی سب سے پہلا تخلص اصغر تھا، پھر تبدیل کر کے مایوس عدم آبادی رکھا انکے اردو اور فاسی کے استاد مولوی برکت علی لائق نے جو کہ خود بھی شاعر تھے ان کا تخلص پسند نہ کیا اور شرعی حوالہ دے کر نصیحت کر ڈالی کہ مایوس ہونا گناہ ہے تو وہ قیصر سہرائی بن گئے۔ اسکے بعد چھپنے کا وقت آتے آتے ابنِ انشاء بن چکے تھے۔ انکی پہلی تخلیق 1943 میں شیر محمد اختر کے رسالے’شاہکار‘ میں شائع ہوئی جنگِ عظیم کے پس منظر میں کہی گئی ایک مختصر نظم تھی ”ساحل پر“
اب تو نظروں سے چھپ چکا ہے جہاز
اڑ رہا ہے افق کے پار دھواں
اب وہ آئیں نہ آئیں کیا معلوم
جانے والوں کا اعتبار کہاں
اسکے بعد ان کی پہلی کتاب جو کی چیخوف کے روسی زبان کے ناول کا اردو ترجمہ تھا’سحر ہونے تک‘ سنگم پبلشر لاہور سے شائع ہوا۔ انکا کلام ادبی دنیا،ہمائیوں وغیرہ میں شائع ہوتا رہا 1949 میں انکی طویل نظم ”بغداد کی ایک رات“ سویرا میں شائع ہوئی اور کچھ ہی روز میں مزاحیہ تخلیق ’معاہدہ چھانگا مانگا“بھی۔ ان دو تخلیقات نے ابنِ انشاء کو ادبی دنیا کا ایک معروف نام بنا دیا۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کی رکنیت انھیں اٹھارہ سال کی عمر میں ہی حاصل ہو گئی۔ملک کی تقسیم سے قبل ہی انھوں نے آل انڈیا ریڈیو میں مترجم کی ملازمت اختیار کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور کو مسکن بنایا اور پنجاب یونیورسٹی سے 1946 میں بی اے کیا۔ اس کے بعد دہلی کے امپیریل کالج آف ایگریکلچرل رسرچ میں ملازمت اختیار کی۔ 1947 میں آذادی اور تقسیم ِ ملک کے بعد انہوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور ایک بار پھر ریڈیو اسٹیشن میں ملازمت کر لی۔ لاہور میں اس زمانے کے نامور ادیبوں اور شاعروں جیسے کہ احمد ندیم قاسمی، چراغ حسن حسرت،قتیل شفائی۔ ظہیر کاشمیری، ناصر کاظمی، اے حمید، ابراہیم جلیس اور خدیجہ مستور وغیرہ سے انکا نہ صرف رابطہ ہوا بلکہ قر یبی تعلقات استوار ہوئے۔ محفلیں سجتیں، جہاں نہ صرف افسانے غزلیں نظمیں اور مضامین پڑھے جاتے بلکہ تکلف کو بر طرف کر کے گالی گلوج کا بھی تبادلہ ہوتا۔ اب ان کا ریڈیو کے بعد زیادہ تر وقت امروز، سویرا اور ادبِ لطیف کے دفتر میں گذرنے لگا۔ لاہور قیام کے بعد انھیں ملازمت کے سلسلے میں کراچی جانا پڑا ۔ کراچی یونیورسٹی سے 1953 میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے نیاز مندوں میں بھی شامل تھے۔ کراچی پہونچنے کے بعد شروع کے دن کافی جدوجہد کے رہے لیکن وقت کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے ہوتی گئیں۔ کئی برسوں تک دستور ساز اسمبلی میں مترجم رہے۔ وہ ’پاک سر زمین‘ کے ایڈیٹر بنے۔ ابولاثر حفیظ جالندھری اس رسالے کے مدیرِ اعلیٰ تھے۔ انھوں نے یونیسکو کے سفیر کی حیثیت سے دنیا کے زیادہ تر ملکوں کا سفر کیا اور انکے سفر ناموں پر مشتمل کئی کتابیں منظر عام پر آئیں جیسے کہ آوارہ گرد کی ڈائیری، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں، دنیا گول ہے، نگری نگری پھرا مسافر، اور چلنا ہو تو چین کو چلئے۔ ان کے سفر ناموں کو پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ساتھ ساتھ خود بھی سفر میں ہے۔ انھوں نے انگریزی، روسی اور چینی زبان کے ناول اور نظموں کے تراجم بھی کئے۔ انکی کتابیں، مجبور،لاکھوں کا شہر، شہر پناہ، سانس کی پھانس، عطر فروش اور چینی نظمیں وغیرہ تراجم پر مشتمل ہیں۔1962 میں وہ نیشنل بک کونسل کے ڈائیریکٹر مقرر ہوئے۔ انھوں نے اخبارِ جہاں، انجام، امروز اور جنگ جیسے اخباروں میں کالم نگاری کی، جنگ سے تو وہ آخیر تک وابستہ رہے۔ ان مزاحیہ اور فکاہیہ کالم نے انکو مقبولیت کے آسمان تک پہونچا دیا۔ان کالم کو بعد میں کتابی شکلوں میں بھی شائع کیا گیا۔جیسے خمارِ گندم، آپ سے کیا پردہ وغیرہ۔’استاد مرحوم‘ خاکہ نویسی کی بہترین مثال ہے۔
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کو پھیلانا کیا
1962 میں نیشنل بک کونسل کے ڈائیریکٹر مقرر ہونے کے بعد ٹوکیو بک ڈیولپمینٹ پروگرام کے وائیس چیئرمین اور ایشین کو پبلکیشن پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلسِ ادارت کے رکن بھی تھے۔ وہ ٹوکیو چیک اپ کروانے گئے تھے اور وہیں ڈاکٹروں نے ان کے مہلک مرض کی نشان دہی کر دی مگر انشاء نے اپنے اہلِ خاندان اور بے تکلف دوستوں تک سے یہ بات پوشیدہ رکھی۔حکومت نے ان کو لندن میں سفارت خانے میں عارضی طور پر تعینات کر دیا تا کہ وہاں وہ اپنے کینسر کا علاج کرا سکیں۔26 فروری 1977 کو علاج کے لئے وہ لندن روانہ ہو گئے۔ دوران علالت بھی ان کا کالم نویسی کا سلسلہ جاری رہا اور دوستوں سے خط و کتا بت بھی۔ دسمبر آتے آتے انکے مرض میں کافی اضافہ ہو گیا اور 11 جنوری 1978 کو انھوں نے وطن سے دور لندن میں 51 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ ان کی خواہش کے مطابق ان کے جسد خاکی کو وطن واپس لاکر کراچی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 1978 میں ہی انھیں صدر کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمینس اوارڈ دیا گیا۔ ابنِ انشاء اپنے لاکھوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر جانے بعد بھی اپنی لازوال تخلیقات کے ذریعہ ہمیشہ مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com