کرپشن چھوڑ دی میں نے

کرپشن چھوڑ دی میں نے
تحریر: حنید لاکھانی
یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ماضی میں اس ملک پرباریوں کے ساتھ حکمرانی کا تاج سجانے والوں نے کرپشن کو اپنی بقا کے لیے بہتر جانااگرگزشتہ ادوار میں ہی ایسے کرپٹ سیاستدانوں کو ملک میں لوٹ مار کرنے کی سزامل جاتی تو ممکن ہے کہ پاکستان میں کرپٹ عناصر کی اس قدر بھرمار نہ ہوتی اور نہ ہی کرپشن کو اس قدرفروغ ملتا،تاریخ گواہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے قبل کسی بھی حکمران نے کرپٹ عناصر کے خاتمے کی آوازنہیں اٹھائی ،ماضی میں ملک کوقرضوں میں جکڑنے کے ساتھ قومی خزانے کو چونا لگانے والے ان کرپٹ عناصر کی کرپشن کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے اس پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حکومت میں آنے سے قبل جو لفظ سب سے زیادہ کہاگیاوہ یہ تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد میں کسی کرپٹ آدمی کو نہیں چھوڑوں گااور ایسے لوگوں کا احتساب ضرور کرونگا میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان کی سنجیدگی اور حب الوطنی سے شاید ہی کوئی شخص انکار کرسکتا ہے، مگر اب اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتاہے کہ اس کا پوری قوم کو ہی شدت سے انتظارہے ہم نے یہ تو دیکھا کہ ملکی خزانے کو نقصان پہچانے والے جیلوں میں بھی گئے مگر ان کے جیلوں میں جانے سے پہلے اور بعد میں کیا کیا ڈرامے بازیاں ان لوگوں کی جانب سے دیکھی گئی ہم زرا اس پر بھی بات کرلیتے ہیں ، اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ کرپٹ سیاستدان پاکستان میں راج کرتے ہیں اور خوب پیسہ کماتے ہیں مگر یہ تمام پیسہ وہ ملک سے باہر ہی رکھتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے اپنے لیے ایک عالیشان گھر کا بندوبست بھی ملک سے باہر کیا ہوتاہے ،عام طورپر ان کرپٹ سیاستدانوں کے بچے امریکا اوربرطانیہ جیسے ممالک میں رہائش پزیر ہوتے ہیں اور وہی پرزیر تعلیم ہوتے ہیں ، اسی لیے یہ مقامات ان کے لیے متبادل گھر بھی بن جاتاہے جس کے لیے تمام تر پیسہ پاکستان کے قومی خزانے اور عوام کی جیبوں کو صاف کرنے کے بعد حاصل کیا جاتاہے لہذا جب کبھی ملک کے سیاسی حالات ان کرپٹ سیاستدانوں کے لیے مواقف نہیں رہتے تووہ ملک سے باہر ان ممالک میں چلے جاتے ہیں او بیرون ممالک میں جاکر ان لوگوں کو پاکستان میں جمہوریت خطرات میں گھری دکھائی دیتی ہے لہذایہ کرپٹ سیاستدان ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان میں جمہوریت کی کمی اور سیاست میں خرابیوں کا رونا روتے ہیں اور اس بات کا انتظارکرتے ہیں کہ کب پاکستان کے حالات ان کے موافق ہواور کب یہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے پاکستان میں واپس حکمرانی کاتاج سجانے آجائیں جس کے بعد یہ پھر سے دل کھول کر لوٹ مارکرسکیں اس قسم کے خود غرض عناصرپاکستان کو نہ صرف ملک میں رہ کر بلکہ ملک سے باہر جاکر بھی دونوں ہاتھوں سے نقصان پہنچاتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ ان لوگوں کی لوٹ مار کو عدالت میں ثابت کرنااس لیے مشکل ہوتاہے کہ ان کرپٹ سیاستدانوں کے تمام تر جرائم کے براہ راست ثبوت نہیں ہوتے یہ لوگ زیادہ تر اپنے سے علاوہ دوسرے لوگوں کے زریعے دولت سمیٹتے ہیں یعنی نام تیرا اور کام میرا، ان میں سے زیادہ تر کرپٹ سیاستدان اپنے لیے بزنس کا کوراستعمال کرتے ہیں اور ملکی پیسے کو بزنس کے طور طریقوں اور مختلف لوگوں کے ناموں سے ٹرانسفر کرتے ہیں ،چونکہ ان کے تعلقات بینکنگ سسٹم میں بھی ہوتے ہیں اس لیے یہ کرپٹ سیاستدان اس قسم کے مشکوک کام بینکوں کے زریعے بھی کروالیتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام چوروں اور لٹیروں کے سیاہ کارناموں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے جو وزیراعظم پاکستان عمران خان کئی عشروں سے کررہے ہیں علاوہ ازیں جو مقدمے ان کرپٹ سیاستدانوں پر بنتے ہیں ان کے فیصلوں میں دیری نہیں ہونی چاہیے ان کرپٹ عناصر کے مقدمات میں طوالت کی بجائے ان مقدمات کو جلد ازجلدعدالتوں میں طے کروانا چاہیے تاکہ یہ لوگ اپنے سیاسی تعلقات یا گروہ کی پشت پناہی کے زریعے اپنی کرپشن کو سیاسی الزام میں نہ تبدیل کرلیں ایک طریقہ واردات اور اپنا بچائو یہ کرپٹ سیاستدان اس طرح کرتے ہیں کہ اگر کسی کرپٹ شخص کوکسی مظبوط تنظیم یا گروہ کی حمایت حاصل ہوتو وہ کسی بھی انداز میں یا کتنی بھی ہیرا پھیریاں کرلے ا س کی پشت پر موجود وہ گروہ اس کا تحفظ ضرور کرتاہے جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اقتدار سے باہر کچھ سیاسی جماعتیں ایک طویل عرصے سے عوام کی خدمت کرنے کی بجائے کرپشن میں الجھے ہوئے اپنے لیڈروں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے ان سیاسی جماعتوں کے لوگ آئے روز میڈیا میں آکر حکومت اور احتساب کرنے والے اداروں پر کیچڑ اچھال رہے ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی قسمت یوں بھی اچھی ہوتی ہے کہ ہمارا میڈیا ایسے زہر اگلنے والی تنظیموں کے لوگوں کو خوب ہوا دیتاہے یہ وہ معاملات ہیں جو کرپشن کرنے والے افراد کے لیے ایک تحفظ اور حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہیں جس سے نہ صرف کرپشن کو فروغ ملتاہے بلکہ اس سے جرائم پیشہ افراد کی طاقت میں مزید اضافہ ہوتاہے یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست جو کبھی عوام کی خدمت کے لیے کی جاتی تھی جس کا نام ایک عبادت کا درجہ ہواکرتا تھاآج کے دور میں ناجائزدولت کمانے اور اپنا کالا دھن سفید کرنے کازریعہ بن چکی ہے موجودہ وقتوں میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کرپشن زدہ لوگوں کو بے نقاب کیا اور اس طرح پوری قوم نے ہی دیکھاکہ کس کس طرح سے اس ملک کو نقصان پہنچایا گیا پوری قوم نے یہ بھی دیکھا کہ یہ لوگ قانون نافذکرنے والے اداروں کے ہاتھوں پکڑ میں بھی آئے اور جیلوں میں بھی گئے مگر اس کے ساتھ ان فراڈیئے اور نوسر باز سیاستدانوں کا ایک اور چہرہ بھی قوم نے دیکھا وہ یہ کہ یہ لوٹ مار کرنے والے سیاستدان جب جیلوں میں جاتے فوری طورپر کسی انہونی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں یہ وہ بیماریاں ہوتی ہیں جن کے بعض اوقات نام بھی اس سے قبل کسی نے نہیں سنے ہوتے جو بظاہر یہ عمل ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا علاج پاکستان میں بھی ممکن نہیں ہے اور یہ ظاہر کیا جاتاہے کہ ہر ایک گزرنے والا دن اس کرپٹ آدمی کی زندگی اور بیماری کے علاج کے لیے اہم ہے۔ ایسے کرپٹ سیاستدان کوسزائوں سے بچانے کے لیے ملی بھگت کے ساتھ ان کی سرپرستی یا پیچھے کھڑی سیاسی تنظیمیں خوب پروپگنڈہ کرتی ہے جس کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے ہمارے کچھ میڈیا ہاوسسز بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اس عمل سے عدالتوں اورحکومت کو یہ تاثر دیا جاتاہے کہ جیل میں پڑے اس شخص کی زندگی کو سخت خطرہ لاحق ہے ،آج کل تو کچھ ڈاکٹرز حضرات بھی اس نوسر بازی کی فلموں میں اپنا مرکزی کرداراداکررہے ہیں، اس قسم کے حمایتی لوگ اپنے پروپیگنڈے کو بھرپور ہوا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے زریعے یہ بھی بتاتے رہتے ہیں کہ ان کے لیڈر کا علاج بھی ملک سے باہر ہی ممکن ہے،اس پروپیگنڈے کے بعد اگر عدالت اور حکومت ان کرپشن زدہ لوگوں کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دیتی ہے توہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ملک سے نکلنے کے بعد یہ ہی لوگ ہٹے کٹے نظر آتے ہیںالبتہ دنیا کو دکھانے اور بے وقوف بنانے کے لیے ڈاکٹروں سے مشوروں کا سلسلہ بھی جاری رہتاہے ، اور یہ سلسلہ ا سوقت تک جاری رہتاہے جب تک ملک کے حالات ان کے مطابق وطن واپسی کے لیے سازگار نہ ہوجائیںاور ان کا وطن واپسی کا استقبال بھی ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ ہو، دوسری جانب ان تمام موزی امراض میں مبتلاکرپٹ سیاستدانوں کو اگر آج وزارت عظمیٰ دیدی جائے تووہ ان تمام خطرناک بیماریوں کے باوجود سیدھے بھاگے ہوئے پاکستان واپس آسکتے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ لوگ کسی ایک عام شہری کی طرح پاکستان میں زندگی نہیں گزار سکتے یہ سرکاری خرچ اور سرکاری گھر سے ہی اپنی زندگی میں اطمینان محسوس کرتے ہیں،اب ان کرپٹ زدہ سیاستدانوں کے لیے بقول انورمسعود صاحب کے ا س سے بڑھ کر اور کیا کہا جاسکتاہے ـ”کرونگاکیا ! جو کرپشن چھوڑ دی میں نے ۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظاررہے گا۔ختم شدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com