مجھے اعتراض ہے

مجھے اعتراض ہے
انجینئر مظہر خان پہوڑ
آپ پاکستان کی ستر سالا تاریخ اُٹھا کے دیکھ لیں بھٹو سے لیکر اب تک کے جمہوری ادوار کا بغور جا?زہ لے لیں اور پھر جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل مشرف تک کے آمریت کے دور کا مطالعہ کر لیں۔ فیکٹس اینڈ فیگرز کمپی?ر کرنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھل جا?یں گی کہ پاکستان کے تمام جمہوری اَدوار مل کر بھی جنرل ایوب خان کے ایک دور کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ وہ دور تھا جب پی آ?ی اے کا دنیا کی ٹاپ آ?یر لا?یز میں شمار ہوتا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب پاکستان قرضے دیتا تھا اور جرمنی کو اُس وقت 120 ملین کا قرضہ دیا تھا۔ ایوب خان کے دور میں پاکستان کی سب سے بڑی اور پہلی آ?ل ریفا?نری کراچی میں لگا?ی گ?ی اور سو?ی نادرن گیس شروع کی گ?۔ پاکستان کے تمام ڈیمز جنرل ایوب خان کے دور میں بنے جن میں وارسک، منگلا، سملی، حب اور تربیلا ڈیم شامل ہیں۔ تربیلا ڈیم دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بجلی بنانے والا ڈیم ہے۔ گوادر بندرہ گاہ بھی ایوب خان نے ہی اُومان سے خریدی تھی جس کے لیے آج دنیا مری جا رہی ہے اور پاکستان کے لیے گیم چینجر کہا جا رہا ہے۔ اُسی دور کا واقع ایک سندھی بزرگ سنا رہے تھے کہ ایک دفعہ میرے گھر میں دانے ختم ہو گ?ے مَیں ایک رشتہ دار کے گھر دانے لینے گیا تو میرے رشتہ دار نے مجھے گندم دینے سے انکار کر دیا۔ حکومت کو جب علم ہوا کہ ذخیرہ اندوزی ہو?ی ہے تو ایوب خان نے حکم نامہ جاری کر دیا کہ آج شام تک اگر کسی کے گھر ذخیرہ کی گ?ی گندم ہو?ی تو اُس کے خلاف سخت ایکشن ہو گا حکومت کا یہ حکم نامہ جاری ہونے کی دیر تھی کہ وہی شخص میرے گھر آیا اور گندم کی بوریاں میرے گھر پھینک کر چلا گیا اور پیسے بھی وصول نہ کیے یہ تھی اُس دور میں قانون کی حکمرانی۔ اُسی دور میں پاکستان پہلی دفعہ گندم کی پیدوار میں خودکفیل ہوا۔ یہ وہی دور تھا جب ملکہ ِ برطانیہ اور امریکی صدر بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کے استقبال کے لیے ا?یر پورٹ آتے تھے اور اب ہمارے جمہوریے اپنی پینٹ اُتروا کر آ جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان کی انڈسٹری دنیا کی تیزی سے گرو کرنے والی انڈسٹری شمار ہوتی تھی اُسی دور میں ٹیکسٹا?ل اور کھاد فیکٹریوں نے بے پناہ ترقی کی اور پھر ماشاللہ سے جمہوریت آ گ?ی جس کا آغاز ملک کو دو لخت کرنے سے ہوا اور بھٹو صاحب نے نیشنلا?زیشن کے ذریعے انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا انڈسٹری کی بربادی کے بعد اکانومی کا بیڑہ غرق ہو گیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے بعد جنرل ضیا? الحق نے مارشل لا? لگایا اُن کے دور میں سادگی کو آولین ترجیع دی گ?ی گو کہ معاشی ترقی جنگ کی وجہ سے خاطر خواہ نہ ہو پا?ی لیکن پاکسان آرمی نے اپنے آپ کو کافی مضبوط کیا۔ انہوں نے سویت یونین روس سے پاکستان کی سب سے بڑی سرد جنگ افغانسان میں لڑی اور روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گ?ے۔ جنرل ضیا? الحق نے ہی باقاعدہ طور پر پاکستان کے آیٹمی پروگرام کو شروع کروایا اور پھر 1982 میں اُن کے ہی دور میں پاکستان آیٹمی طاقت بنا کیونکہ ڈاکٹر قدیر صاحب نے بھٹو کو خط لکھا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں اور وہ بھٹو کو ملنے کے بعد واپس چلے گ?ے تھے واپس جانے کی وجہ معاشی تھی یا سیاسی اللہ بہتر جانتا ہے اور پھر جب جنرل ضیا? الحق نے مارشل لا? لگایا تو انہوں نے ڈاکٹر قدیر کو دوبارہ واپس بلوایا اور پھر باقاعدہ طور پر ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا اور پھر پاکستانی مارخوروں کی انتھک محنت سے دنیا کے کونے کونے سے اٹامک پلانٹ کے انسٹرومنٹس لے کر آ?ے اِس بارے ڈاکٹر قدیر کا انٹرویو اُن ریکارڈ ہے۔ جنرل ضیا? کے بعد پھر جمہوریت نے ڈورے ڈالے اور قرضوں کے انبار لگ گ?ے پی آ?ی اے سمیت ادارے مزید خساروں میں ڈوبتے گ?ے اور ملک پھر قرضوں کے دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ مشرف کے جبری ریٹائرمنٹ اور طیارہ لینڈنگ ایشو پر ایک پھر مشرف نے مارشل لا? لگایا دیا اور عوام نے مٹھا?یاں بانٹیں۔ایوب خان کے بعد مشرف کا دُور سب سے بہترین مانا جاتا ہے۔ معیشت پہلے سے کہیں زیادہ مظبوط ہو?ی، امن و آشتی، مہنگا?ی نہ ہونے کے برابر، ادارے اپنے کنٹرول میں اور بے روزگاری کی شرح بہت ہی کم تھی۔ مشرف نے ہی گوادر بندرگاہ کی بنیاد رکھی۔ اُسی دور میں علیحدیگی تحریکوں کے سر کچلے گ?ے۔ یہ مشرف کا ہی دور تھا جس میں صرف 7.1 ارب ڈالر (صرف ایک اشاریہ سات ارب ڈالر) قرضہ لیا گیا ورنہ تو نواز شریف صاحب پچھلے پانچ سالوں میں 37 ارب ڈالر سے زیادہ کا قرضہ لے چکے ہیں جس کی قسطیں موجودہ حکومت کو ٹیکس لگا کر واپس کرنی پڑ رہی ہیں۔ فوجی اور جمہوریے اور اُن کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ فوجیوں سے ہر کام ہمیں چاہیے وہ پولیو کے قطرے بھی پلا?یں، وہ مردم شماری بھی کروا?یں، وہ الیکشن پر ڈیوٹی بھی دیں۔ وہ ڈی زاسٹر مینجمنٹ جیسے ادارے ہونے کے باوجود سیلاب زدگان کی امداد بھی کریں، وہ ہماری حفاظت کے لیے میزا?ل اور ٹینک، 17-JF تھنڈر جیسے طیارے بھی بنا?یں، وہ کلبھوشنوں اور ابھی نندن جیسے دشمنوں سے بھی لڑیں، وہ کرونا جیسی وبا?ی امراض سے بھی لڑیں یہ سب کریں تو مجھے کو?ی اعتراض نہیں لیکن اگر وہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہونے کے بعد وزیراعظم کے مشیر بنیں تو مجھے اعتراض ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com