بعید نہیں کہ بھوک حدِ کفر چھو لے

بعید نہیں کہ بھوک حدِ کفر چھو لے
شاہد ندیم احمد
کائنات کی تلخ ترین اور سفاک حقیقت بھوک ہے،جس کاکسی بھی نظریے، فرقے حتیٰ کہ مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا، ورنہ یہ بات باور نہ کرائی جاتی کہ بعید نہیں بھوک حدِ کفر کو چھو لے،انسان کے اندر جب بھوک کا الائو بھڑکتا ہے تو تہذیب و تمدن کی سبھی دلیلوں کو خاکستر کرکے رکھ دیتا ہے،اس وقت فلسفہ خودی اور شرافت ڈھکوسلا دکھائی دینے لگتی ہے، ملک بھر میں کمتر وسائل میں زندگی گزار نے والوں کی بڑی تعداد لاک ڈائون کے بعد ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ملک کے تمام بڑے چھوٹے شہروں سے منسلک ہزاروں بستیوں میں غذائی قلت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول اب تک چار لاکھ رضاکار ٹائیگر فورس میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جنہیں گھر گھر سامان خوردونوش پہنچانے کی ذمہ داری تفویض کی جارہی ہے، لیکن حکومت کی طرف سے امدادی پیکیج کے اعلانات کے باوجود عوام الناس کو ریلیف پہنچانے کا کوئی منظم و مربوط نظام دکھائی نہیں دے رہاہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت کو زبانی جمع خرچ کے طعنے دینے پر اپوزیشن مستعد دکھائی دے رہی ہے،جبکہ دوسری جانب غربا و مساکین ہر دن قریب سے قریب تر آنے والی بھوک کو کورونا سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں ،غریب عوام کو ماسک اور سینی ٹائزر سے کچھ غرض نہیں، انہیںغرض ہے تو فقط دووقت کی روٹی سے ہے۔ حکومت اپنے مختصر وسائل کے باوجود ہر پاکستانی کی مدد کر سکتی ہے ،مگراس کے لئے صرف ٹائیگر فورس بنانا کا فی نہیں ،ایک منظم و مربوط نظام بھی وضع کرنا ہو گا ،تاکہ حالات لوٹ کھسوٹ اور چھینا جھپٹی کی طرف نہ جائیں۔حکومت فوری طور پرمستحقین کے گھروں تک سامان خوردونوش اور ریلیف پیکیج کے تحت مستحقین کو نقد رقوم پہنچانے میں کو شاں ہے،لیکن اس نیک کام میں ملک کے متمول طبقات اور مخیر حضرات کو بھی آگے بڑھ کر حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہیے اور وزیراعظم کے کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات جمع کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے،اگراس موقع پر تاخیر کی گئی تو حالات کو یہ ثابت کرنے میں تاخیر نہ ہو گی کہ عوام کی بھوک، کورونا تو کیا ہر شے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کرونا وائرس کی جنگ میں سب سے بڑا چیلنج عوام کے روٹی روزگار کے مسائل سے عہدہ براء ہونے کا ہے۔ ہمارے پا س ً ترقی یافتہ ممالک جتنے وسائل نہیں کہ مکمل لاک ڈائون کے دوران عوام میں ادویات و خوراک اور دوسری اشیائے ضرورت کی کمی نہ ہونے دی جائے اور انکے کاروبار اور روزگار کو بھی مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے پڑوسی بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک بھی لاک ڈائون کے دوران تمام شہریوں تک اشیائے ضروریہ پہنچانے اور انکے روزگار کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں جس کا وہ برملا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ ہمیں تو محدود وسائل کے باعث گھمبیر عوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو جزوی لاک ڈائون کے باعث بھی پیدا ہوئے ہیں، اس لئے ہمیں غریب عوام کو بھوک اور بے روزگاری سے بچانے کیلئے حکمت و تدبر سے کام لیتے ہوئے کرونا جنگ جیتنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اسی بنیاد پر مکمل لاک ڈائون سے گریز کرتے رہے ہیں ،جبکہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر ہونیوالے جانی نقصان کے تناظر میں ہمیں مکمل لاک ڈائون کی جانب بھی جانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اب تک ہمارے ملک میں بھی کرونا وائرس سے چالیس انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور کرونا متاثرین کی تعداد تین ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں سب سے زیادہ گیارہ سو کے قریب کرونا کے مریض پنجاب میں ہیں۔ اس وقت سندھ میں تو مکمل لاک ڈائون والی کیفیت ہے، جبکہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بتدریج مکمل لاک ڈائون کی جانب بڑھا جارہا ہے جس کے دوران عوام کے روٹی روزگار کے مسائل میں بھی لازماً اضافہ ہورہا ہے۔کورونا لاک ڈائون کے باعث بڑھتی بھوک وافلاس نے غریب عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے ،جہاں وہ روٹی دو، راشن دوکے نعرے لگا رنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔بیروزگار ہونے والے اور فاقہ کش لوگوں کے احتجاجی مظاہروں سے حکومتی لاک ڈاؤن کے اقدامات غیر موثر ہونے لگے ہیں، کورونا وائرس کے پھیلاؤسے جو خوف پیدا ہوا تھا،وہ غریب کی بھوک اور فاقوں نے ختم کر دیا ہے۔
کورونا جزوی لاک ڈائون سے بگڑتی صورت حال کے باعثوفاقی اور صوبائی حکومتوں نے غریبوں اور محنت کشوں کو راشن اور مالی امداد کے پیکیجز کا اعلان تو کردیاہے، لیکن ان پر عمل درآمد میں بہت تاخیر ہورہی ہے۔ بارہ تیرہ روز سے گھروں میں بند لوگوں کو ابھی تک امداد یا ریلیف میسر نہیں ہو سکی،اس کے علاوہ کومت نے جو راشن کی تقسیم یا مالی امداد کی فراہمی کا جو طریقہ کار وضع کیا ہے، اس میں نہ صرف شدید خامیاں ہیں، بلکہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی نہیں ہیں، کیو نکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے راشن اور مالی امداد دینے کے لیے جس ڈیٹا پر انحصار کیا ہے، اس سے حقیقی متاثرین تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ڈیٹا احساس پروگرام یا زکوٰۃ کونسلز کا ہے جو سیاسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو رجسٹریشن کے لیے فراہم کردہ نمبروں پر بہت کم ضرورت مندوں کو رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس رجسٹریشن کی شرائط پر ایک تو سفید پوش اور زیادہ تر غریب لوگ پورے نہیں اترتے ہ،دوسرا کسی ڈیٹا میں دہاڑی دار مزدوروں کا اندراج ہی نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے راشن اور امداد کی تقسیم کے نظام اور طریقہ کار میں خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی اشدضرورت ہے۔
یہ امرخوش آئند ہے کہ وزیراعظم دن بدن بگڑتی صورت حال کے پیش نظر تعمیراتی شعبہ کیلئے خصوصی مراعات اور آہستہ آہستہ دیگر چیزوں کو بھی کھولنے کا اعلان کیا ہے اور اسی طرح پنجاب حکومت نے لاک ڈائون میں نرمی کرتے ہوئے ٹیکسٹائل‘ سپورٹس‘ فارما‘ لیدر اور سرجیکل انڈسٹری کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے، اس سے جہاںبے روزگاری کے آگے بند باندھنے اور فاقہ کشی کی نوبت نہ آنے دینے میں مدد ملے گی، وہاں غریب عوام بھی بھوک وافلاس کے باعث حد کفر چھونے سے بچ جائیں گے۔ حکومت اکیلے اتنے بڑے چیلنج میں سرخرو نہیں ہو سکتی،‘ ہمیں من حیث القوم اس چیلنج کو قبول تے ہوئے سرخرو ہونا ہوگا۔ اس مشکل گھڑی میں افواج پاکستان بھی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، ملک کا جب ہر ادارہ اور ہر طبقہ یکسو ہو کر امدادی کاموں میں آگے بڑھے گا تو کرونا کی جنگ جیتنا ہمارے لئے چنداں مشکل نہیں رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com