اچھا کھانا کیسے بنائیں؟؟؟

اچھا کھانا کیسے بنائیں؟؟؟
از سارہ عمر،الریاض سعودی عرب.
کھانا پینا ایک بنیادی ضرورت ہے-روزمرہ زندگی میں تین وقت کھانا عموماً ہر انسان کی خوراک کا حصہ ہے – کھانا اچھا بنا ہو تو بھوک سے بڑھ کر کھا لیا جاتا ہے-آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ اچھا کھانا کیسے بنایا جاتا ہے-یہ مشورے خصوصاً ان خواتین کے لیے ہیں جو کہ کھانا پکانے کے فن سے نابلد ہیں –
اچھا کھانا پکانے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ کھانا دل سے پکائیں اور اپنا دل اس میں ڈال دیں – ارے نہیں.. آپ کو اصل میں دل نکال کے نہیں ڈالنا مگر بہت محنت اور محبت سے دل لگا کر پکانا ہے کہتے ہیں جو بھی کام دل سے کیا جائے اس کا اثر ضرور نمایاں ہوتا ہے-کھانا بناتے ہوئے بھی اسے سر سے اتارنے والے کام کی طرح نہ کریں بلکہ توجہ اور محبت سے کریں -کھانا پکاتے ہوئے اپنی نیت خالص رکھیں یعنی اللہ سے دعا کریں کہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہی ہوں -ایک مرتبہ ایک خاتون نے کسی عالمہ سے دریافت کیا کہ میں سارا وقت گھر کے کام کرتی ہوں اور اپنی عبادات کو وقت نہیں دے پاتی، میں ایسا کیا کروں کہ زیادہ ثواب کی مستحق بن سکوں -عالمہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہر کام کرتے ہوئے اپنی نیت خالص اور صرف اللہ کے لیے کر لو یعنی ہر کام سے پہلے نیت کرو کہ یہ کام میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کر رہی ہوں تاکہ نہ صرف اس سے ثواب کمایا جا سکے بلکہ وہ خیر و عافیت کا باعث بھی ہو-مثلاً برتن دھونے سے پہلے نیت کرنا کہ یا اللہ یہ برتن میں اس لیے دھو رہی ہوں کہ تو صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے-جھاڑو لگانے سے پہلے نیت کرنا کہ یہ کام میں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کر رہی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ طہارت اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے اور صفائی نصف ایمان ہے-کھانا پکانے سے پہلے نیت کرنا کہ بے شک میں یہ کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کر رہی ہوں تاکہ میرے گھر والے رزق حلال کھا سکیں اور اللہ تعالیٰ رزق حلال کھانے والوں کو پسند فرماتا ہے-ہر کام سے پہلے نیت کی درستی یقیناً ہمیں دنیا و آخرت میں فیض یاب کر سکتی ہے-
اچھا کھانا بنانے کے لیے بہترین رہنمائی بھی اہم جز ہے یہ رہنمائی کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے مثلاً اپنی والدہ یا دادی نانی سے پوچھنا، یا پھر کسی کتاب کی تراکیب کو دیکھ کر اسے اختیار کرنا یا پھر یوٹیوب پہ موجود چینل سے ویڈیوز دیکھنا-پہلے زمانے میں یہ رہنمائی گھر تک ہی محدود تھی مگر اب ایک کلک پہ ایک کھانے کی کئی ہزار تراکیب موجود ہیں جس سے نہ صرف خواتین بلکہ پردیس میں رہنے والے مرد حضرات بھی خوب فیض یاب ہو رہے ہیں -دنیا جتنی بھی ترقی کر جائے دوسروں کے تجربات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں -ہر گھر میں کھانے پکانے کے کچھ الگ اور مختلف اصول ہوتے ہیں جن سے ہٹ کر پکائے جانے کو پسند نہیں کیا جاتا جیسے کہ کچھ گھروں میں بزرگوں کی وجہ سے کھانے میں شوربہ زیادہ رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں روٹی ڈبو کر کھانے میں سہولت رہے اسی وجہ سے گوشت وغیرہ کو زیادہ گھلایا جاتا ہے لیکن اگر آپ اس طرح کے ماحول میں بھنا ہوا کھڑا کھڑا گوشت بنا لیں تو بے شک وہ جتنا بھی لذیذ ہو آپ کو ان بزرگوں کا دشمن ہی تصور کیا جائے گا اور گھر والے لازمی اس میں مین میخ نکالیں گے-اس لیے بہترین حل یہی ہے کہ گھر کی خواتین سے گھر میں پکنے والے کھانے کے متعلق معلومات لے لی جائیں جیسا کہ شوربہ زیادہ رکھا جائے یا کم، گوشت کتنا گھلایا جائے، مرچیں اور نمک زیادہ رکھا جائے یا کم-وہ تمام خواتین جو نیا نیا کھانا سیکھ رہی ہوں ان کے لیے بہت ضروری ہے کہ تجربہ جہاں سے ملے وہ لے لیا جائے-جیسے ایک ہی طرح کے چاول اگر دس خواتین کو ابالنے کے لیے دئیے جائیں تو وہ دس کی دس اپنے مطابق پکائیں گی کسی کے چاول کھلے کھلے اور دانہ دانہ الگ ہو گا جبکہ کسی کے چاول جوڑ جائیں گے اور کوئی ان کی کچھڑی ہی بنا ڈالے گی جبکہ سب سے پھوہر کے چاول پیندے سے چپکے ہوئے ہوں گے-کھانا پکانے کے لیے اشیا کا تناسب اور وقت کا لازمی خیال رکھا جائے-تھوڑے کھانے کو پکنے میں کم وقت درکار ہے جبکہ زیادہ کھانے کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر طور پر پک سکے-کھانا پکاتے ہوئے کچن سے نکل جانا یا دیگر کاموں میں مصروف ہو جانا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اکثر اوقات جلنے کی بو ہی کچن میں واپس لے کر آتی ہے-تین چار کاموں کو ایک ساتھ کرنے والی خواتین کی ہانڈیاں آئے روز جلتی رہتی ہیں -اس لیے بہترین حل یہی ہے کہ کھانا پکنے کے دوران کچن میں ہی موجود رہا جائے یعنی کھانا پک رہا ہو تو برتن دھو لیے جائیں، کچن صاف کر لیا جائے، فریج اور اوون کی صفائی کر لی جائے اور سب کام مکمل ہو چکے ہیں تو کچن میں ہی کرسی ڈال کر کسی کتاب کا مطالعہ کر لیا جائے-اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھانے کو دیکھ سکتے ہیں اور کھانا کبھی جلے گا نہیں –
وہ تمام خواتین جو کچھ بھی نیا پکانے کی شوقین ہیں انہیں چاہیے کوئی بھی کھانا بنانے سے پہلے ترکیب کو پورا اور بغور پڑھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ تمام اشیا گھر میں موجود ہیں اور اس میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں -اس کے علاوہ کبھی بھی کسی دعوت کے لیے کوئی ترکیب پہلی بار مت بنائیں – دعوت میں ہمیشہ وہی تراکیب استعمال کریں جو کہ پہلے سے آزمائی ہوئی ہوں کیونکہ بعض اوقات تعریف کروانے کے چکر میں بہت ساری عزت افزائی بھی ہو سکتی ہے-سو پہلے کسی بھی دن اس نئی ترکیب کو آزمایا جائے کہ آیا وہ دس لوگوں کے آگے رکھے جانے کے قابل ہے بھی یا نہیں –
یہ چھوٹی چھوٹی سی باتیں اگر کھانا پکاتے ہوئے ذہن نشین کر لی جائیں تو امید ہے آپ بہت اچھا اور لذیذ کھانا بنانے کے قابل ہو جائیں گی-اب انتظار نہ کریں بلکہ کچن میں جا کر گھر والوں کو حیرت میں مبتلا کرنے کی تیاری کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com