کرونا سے جنگ مگر کیسے؟


تحریر : سندیلا طارق
زندگی میں بہت سی مشکلات آتی ہیں ہمیں ان مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے جیسا کہ اب ہمارا ملک مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے یہی وقت ہے کہ اس گھڑی میں ہم اپنی اور اپنے ملک کی مدد کریں اور ایک اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں.
ہمارے ملک کو ہماری ضرورت ہے ہمیں ثابت قدم ہو کر ساتھ کھڑےرہنا چاہیے. میں نے بچپن میں اپنے بڑوں سے یہ کہانیاں سنی ہیں کہ جو کام سب مل کر کریں وہ جلدی ہو جاتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح ہم ایک شخص کو ایک گھنٹے میں ایک درخت توڑنے کا وقت دے دیں وہ کبھی اکیلا نہیں توڑ پائے گا. اسی طرح ہم نے کم وقت میں اس وائرس کا مقابلہ کرنا ہے اور فتح پانی ہے. اس کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل تو نہیں ہے. ہمیں کوئی جنگی سامان تیار نہیں کرنا نہ ہی ایک دوسرے کا خون بہانا ہے بس اپنے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو اور دوسروں کومحفوظ کرناہے تو کیا ہم اپنے اور اپنے پیاروں کے لئے اتنا نہیں کر سکتے. آج ہم سب مل کر عہد کرتےہیں کہ ہم اس کا مقابلہ کریں گے اور انشاءاللہ اس کو شکست دے دیں گے. اور انشاءاللہ پہلے کی طرح ہمارے ملک میں خوشحالی ہوگی امن ہوگا اور کوئی ڈر نہیں ہوگا.کورونا وائرس کوئی عام بیماری نہیں ہیں جس کو ہم نظرانداز کر دیں اتنے لوگ اس بیماری سے مر رہے ہیں اور کچھ لوگ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ یہ کرونا وائرس ہمارے اپنوں کی جان کا دشمن ہے کچھ لوگوں کے لئے کام ضروری ہے جان نہیں ایسا کیوں معاشرہ کیوں نہیں سمجھتا یہ سب ہمارے لئے ہمارے پیاروں کے لئے ہماری زندگی کے لئے ہے کے ہم گھر میں رہیں. کل مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا تھا کہ ٹی وی چینل میں رکشے والے لوگوں کو سمجھایا جا رہا تھا کہ گھر بیٹھو کیوں اپنے اور اپنے گھر والوں کے دشمن بن رہے ہو لیکن ان میں سے کوئی ایک بندہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ یہ سب حکومت کی طرف سے جو اقدامات ہیں وہ ہمارے لیے ہیں. خدارا اپنے آپ کو بدلو ثابت قدم رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ چل کر تو دیکھو آپ آگے آپ کو کامیابی ہی ملے گی کیوں نہیں یہ لوگ سمجھتے میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ سب کو اس بات کو سمجھنے کی توفیق دے آمین. یہی وقت ہے ہم اپنے پیاروں کو گھر رہ کر وقت دیں ہمت اور طاقت دیں اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ہم جتنا گھر رہیں گے سوشل ڈسٹنس رکھیں گے ہم اس بابا سے دور رہیں گے برا وقت ہمیشہ نہیں رہتا اور یہ برا وقت بھی گزر جائے گا..
ہمیں بس اتنا کرنا ہے کہ گھر بیٹھ کر اچھا کھانا کھائیں اپنے ہاتھ دھوئیں گرم پانی کا استعمال کریں بجائے اس کے کہ ہم پریشان ہو بلکہ خوش رہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ خود بھی ہمت رکھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی ہمت دیں کیوں کہ اس مشکل گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کی طاقت ہیں ہیں ایک دوسرے کے ساتھ سے ہم ہر مشکل کو مات دے سکتے ہیں. ہمیں چاہئے ہم ہمت رکھیں اور اپنے ملک اور اس دنیا کی حفاظت کے لیے دعا کریں. اور ہم ثابت کر دیں کہ ہم سب اپنے ملک کے ساتھ ثابت قدم کھڑے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com