ضرب المثال سے کہانی کیسے اُخذ کی جائے

ضرب المثال سے کہانی کیسے اُخذ کی جائے
مجیداحمد جائی
ضرب المثال سے کہانی کیسے اُخذ کی جائے؟۔کوئی بھی قول یا ضرب المثال ہو اُس کے اندر کہانی پوشیدہ ہوتی ہے۔یہ قول،اقوال یا ضرب المثال جو زمانے کے تغیرات کے ساتھ مشہور ہو جاتے ہیں۔یہ دراصل بزرگوں کے تجربات،مشاہدات کا نچوڑ ہوتے ہیں جو مشہور ہو جاتے ہیں۔جیسے آپ نے اپنی نصابی کتابوں میں بہت سے اقوال یا ضرب المثال کا مطالعہ کیا ہوگا۔
کہانی ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں کسی اچھے یا بُرے واقعہ یا واقعات کا ذکر ہو۔ایک زندگی یا کئی زندگیوں کے ساتھ جڑے کئی واقعات کو بیانیہ انداز میں صفحہ قرطاس پر بکھیرنا ہوتا ہے۔جس میں دل چسپی،تاریخ،تہذیب و تمدن،ثقافت و کلچر ہو۔مثلا ایک شخصیت یا ایک زندگی کا رہن سہن کیا ہے،جہاں رہتا ہے اُس کے اردگرد کا ماحول کیسا ہے۔کس معاشرے کا حصہ ہے۔
کہانی میں جو کردار آپ شامل کرتے ہیں ان کا لب ولہجہ،ماحول اور کام کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اپنے کرداروں سے آپ نے جو مکالمے (ڈائیلاگ) کہلوانے ہیں وہ اُسی ماحول،معاشرے کے عکاس ہوں۔اس کے لیے آپ کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ کام آتا ہے۔مشاہد ہ کیا ہوتا ہے؟
مشاہدہ وہ ہوتا ہے جو روز مرہ زندگی میں آپ اپنے اردگردکے واقعات کو،تہذیب و تمدن،کلچر وثقافت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔اُس پہ غور و فکر کرتے ہیں یوں سمجھیں آپ کی آنکھیں سراغ رساں کا کام کرتی ہیں۔آپ کی آنکھیں جو دیکھتی ہیں اُنہیں دل و دماغ کی میموری میں جمع کرتی جاتیں ہیں پھر آپ کی صلاحتیں آپ کے جذبے کو اُبھارتی ہیں کہ آپ اپنے مشاہدات کو قلم کی نوک سے قرطاس کے سینے پر موتی پروئیں۔ان مشاہدات کو الفاظ کے ذخیرے کے ساتھ جملوں کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔یہاں آپ کا گہرا مطالعہ کام آتا ہے۔
مطالعہ کیسا ہونا چاہیے؟
آپ جس قسم کی کہانی لکھنا چاہتے ہیں،اُسی موضوع پر کتاب پڑھیں۔زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور کم لکھیں۔اپنے آپ کو پُرسکون رکھیں اور ایسے وقت کا انتخاب کریں جب آپ پُرسکون ہوں،تنہا ہوں اور آپ کا موڈ کچھ کرنے کے لیے بے تاب کرے۔
آپ کا مطالعہ جتنا گہرا ہوگا آپ کے پاس ذخیرہ الفاظ کا خزانے موجود ہوگا،اپنے مطالعہ کے پیش نظر،بہترین الفاظ کا انتخاب کرسکیں گے اور جملوں کو مشاہدات کی زبان میں کہانی بُنتے چلے جائیں گے۔
کہانی سیکھنے کی چیز نہیں ہے،کہانی سمجھنے اور لکھنے کی چیز ہے۔آپ خود کو لکھنا شروع کریں۔آپ کے ساتھ ہزاروں کہانیاں جڑی ہیں۔کہانی خود کو لکھواتی ہے پس آپ کے پاس ذخیرہ الفاظ کا ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ گہرا مشاہدہ بھی۔آپ پریشان ہیں تو اپنی پریشانیاں لکھیں۔آپ خوش ہیں تو اپنی خوشیاں لکھیں۔آپ محفل میں ہیں تو محفل کا حال لکھیں،تنہائی میں ہیں تو خود سے باتیں کریں اور قلم سے اظہار کرائیں۔دل کی آواز پر توجہ دیں اور دل کی باتیں لکھیں۔اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے ہیں تو روداد لکھیں۔
کہانی لکھتے وقت چند ضروری باتوں کا خاص خیال رکھیں۔کہانی کا آغاز حیرت زدہ ہویا چونکادینے والا ہو۔شروع کے جملے تجسس بھرے ہوں جس میں جستجو ہو،کھوج ہو تلاش ہو۔قاری پہلے جملے سے ہی اس کشمکش میں مبتلا ہو جائے کے آگے کیا ہوگا۔وہ پہلے جملے سے لے کر آخر تک یکسوئی کے ساتھ پڑھتا چلا جائے۔ آپ کی گرفت مضبوط ہوئی تو قاری پر سحر انگیز اثر ہو گا۔کہانی کے درمیان میں دھیرے دھیرے قاری کو اپنے مقصد کی طرف لے آئیں اور انجام یا اختتام ایسا کریں کے قاری محو حیرت رہ جائے۔اچھا یو ں بھی ہو سکتا ہے۔اچھا اس طرح بھی ہوتا ہے۔آخر میں اسے کسی مقصد میں شامل کریں یا کسی کھوج میں لگا دیں۔جیسے خود کو تلاشنا،نیکیوں کی طرف راغب کرنا،بھلائی کے کام کرانا وغیرہ۔
کہانی کو نشیب و فراز سے جیسے مرضی طول دیتے رہیں۔کہانی لکھنے کے عمل سے گزرتے وقت آپ کی کہانی نئے نئے راستوں پر گامزن بھی ہو سکتی ہے۔یہاں آپ کا تخیل کام آتا ہے۔آپ تخیلاتی طور پر کتنی وسعت رکھتے ہیں۔قلم کو پابندیوں میں مت جکڑیں،آزاد چھوڑ دیں۔اب جو تحریر وجود میں آئے گی،شاہکار ہوگی۔
کہانی میں لکھاری کا اسلوب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔۔اسلوب انداز نگارش یا طرز تحریر کو کہتے ہیں۔دیہاتی کلچر اورشہری مسائل کو پیش کرسکتے ہیں۔منظر نگاری سے کہانی کا حسن بڑھایا جا تا ہے۔اشعاروکنایات سے کام لیا جاتا ہے۔تشہبیات سے کہانی میں لطافت دی جا سکتی ہے۔سوچیں مت،بس لکھنے بیٹھ جائیں۔
غرور کا سر نیچا،انگور کھٹے ہیں،دال میں کچھ کالا ہے،یہ منہ اور مسور کی دال،کوّا چلا ہنس کی چال،اپنی چال بھی بھول گیا۔جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔اس جیسی بے شمارضرب المثال آپ کے پاس ہوں گی۔اب آپ ان کا مطالعہ کریں۔ان پہ غور کریں اور ان میں چھپی کہانیاں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔تھوڑی سی کوشش کے بعد کہانی آپ کے تخیل پر جمع ہوجائے گی۔اب اسے الفاظ کا روپ دے دیں۔
ضرب المثال کی فہرست بنانے کے بعد،ان پہ غور وفکر کرکے، ان کے معانی پر غور کریں گے اور اس دوران لغت کا استعمال کر سکتے ہیں۔آپ کے پاس اُردو کی ایک لغت کا ہونا ضروری ہے۔جب آپ ان کے معانی سمجھ جائیں گے تو کہانی آپ کے دل و دماغ پہ گردش کرنے لگے گی۔
جی ہاں!ہم ضرب المثال سے کہانی اُخذ کرنا نہیں سیکھ سکتے تھے اگر اسلامک رائٹرز مومنٹ کا پلیٹ فارم نہ ملتا۔میں شکرگزار ہوں،چوہدری محمد حفیظ،محمد عنصر عثمانی،محمد اُسامہ قاسم اور اُن کی پوری ٹیم کا، جنہوں نے وباء کے دِنوں میں، ہمیں نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا،بلکہ کہانی لکھنے کے لئے مختلف لوازمات سے آگاہی دلائی۔کہانی نویسی کورس میں گزرے بارہ دِن گھر میں محصور ہو کر بھی خوش گوار لمحات سے مستفید ہوتے رہے۔اسلامک رائٹرز مومنٹ کا جنتا بھی شکر ادا کیا جائے،کم ہے۔اللہ تعالیٰ وباء کے دِنوں میں مکمل احتیاط کے ساتھ اس طرح کی سرگرمیاں کرنے کی توفیق عطا کرے۔اسلامک رائٹرز مومنٹ کی طرح ہم سب کواپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے اس طرح کی اصلاحی،اخلاق اور تدریسی سرگرمیاں کو فروغ دینا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com