سٹیج عروج سے زوال تک۔۔

سٹیج عروج سے زوال تک۔۔
دنیا میں سٹیج فنکاروں کو دیگرشعبوں پر بہت اہمیت دی جاتی ہے۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جس نے سٹیج کر لیا اسے پتا ہوتا ہے کہ اداکاری کس طرح کرتے ہیں۔
بد سے بد حالات میں بھی سٹیج ڈرامہ عوامی توجہ کامرکز رہتا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ آج ہمارا کمرشل تھیٹر بہت ہی بُرے دور سے گزر رہا ہے۔حلانکہ لاہور اور پنجاب کےدیگر شہروں میں سٹیج ڈرامے معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔جن میں سینکروں فنکار روزانہ اپنی پرفانس ادا کرتے ہیں۔حلانکہ کمرشل تھیٹر اپنا میعار کھو چکا ہےـ پھر بھی اسے دیکھنے والوں کی تعداد کافی ہے۔لاہور میں تھیٹر کی تعداد 8سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
ہمارا سٹیج کسی بھی طرح کم نہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنا معیار قائم نہ رکھ سکے اور کچھ غیر پیشہ ور افراد نے آکر ہمارے مقامی تھیٹر کو زوال کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
آج بھی کچھ پُرانے لوگ اس کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔لیکن دوسرے ہی پل یہ نظر آنے لگتا ہے کہ یہ تباہ ہو چکا ہے۔کیونکہ جو غیر سنجیدہ لوگ اس سے پیسے کما نے آۓ ہیں وہ اس کی ترقی اور بقا کے لیے سنجیدہ نہیں۔
معاضی میں ہمارا سٹیج ڈرامہ بہت معیاری ہوا کرتا تھا جس کے جھنڈے پاک و ہند دونوں میں لگ چکے تھے۔لیکن ایک وقت ایسا آیا کے سٹیج کے نام پر میوزیکل نایٹس شروع ہو گیں تھیں۔جس کے نتیجے میں بہت سی نئی لڑکیاں معتارف ہویں۔جنکا اصل کام فحش رقص کرنا تھا اور اداکاری کیا ہوتی ہے وہ اُن کو پتا ہی نیہں۔پروڈیوسر سے دوستیاں کرکے بہت ساری لڑکیاں سٹیج پر انٹری لیتی ہیں جن کو اپنے سینیرز کی عزت و احترام کا بھی پتا نہیں۔ان لڑکیوں کی لڑائیاں کام کو بہتر کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ گانوں کی سلیکشن اور نمبروں پر ہوتی ہے۔کیونکہ ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ آخری گانا کر کے زیادہ داد ملتی ہے اور زیادہ گانے کر کے ان کو سٹار کی کیٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے۔
ماضی میں ہمارے پاس بہت بڑے بڑے سپر سٹار موجود تھے جنہوں نے اپنی شاندار پرفامنس سے اس تھیٹر کو ایک نئی شکل دی۔لیکن افسوس ان کے بعد ہمارے پاس ایسے با صلاحیت اداکار موجود نہیں۔
ماضی میں اداکارہ نرگسس، دیدار ،میگھا،سدرہ نور،ثمرہ نور،آشا چوہدری چوہدری اور دیگر بہت ساری فنکاروں نے کئی سال تھیٹر کی دنیا میں راج کیا۔ان میں سے زیادہ تر اداکارئیں اب تھیٹر کی دنیا سے دور ہو چکی ہیں۔ان کے پاس رقص کے ساتھ میعاری اداکاری بھی تھی۔لیکن بعد میں آنے والی لٹرکیوں نے بس ڈانس کا سہارا لےکر ان جیسی شہرت کو اپنا میشن بنایا جبکہ ان کے کام کو نظر انداز کیا۔
انہیں وجوہات کی وجہ سے ہمارے نامور فنکار تھیٹر کی دنیا سے کنارہ کشی کر گۓ۔جن میں معروف اداکار سہیل احمد،خالد عباس ڈار،جمیل بسمل ،وسیم عباس اور عرفان کھوسٹ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ جو کہ اس بے ہودہ سسٹم کا حصہ بننے کی بجاۓ عزت سے اس کام کو چھوڑ کر چلے گیے۔جبکہ ببوبرال،مستانہ،طارق جاوید، محمود خان اور اور حسن جاوید جیسے فنکار اس دنیا سے ہی چلے گیے۔جس کی کمی ہمیشہ رہے گی۔
ماضی میں فیملیز کی بٹری تعداد بھی سٹیج دیکھنے آیا کرتی تھی۔لیکن اب یہاں تماش بینوں کا راج ہو چکا ہے۔غیر میعاری کہانی اور بولڈ رقص نے اصل ڈرامے کو تباہ کر دیا۔جس کی وجہ سے فیملیز نے سٹیج کا رُخ کرنا چھوڑ دیا۔
اس وقت سٹیج پر اچھے فنکاروں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے فنکار بھی موجود ہیں جن کا اداکاری سے کوئی تعلق نہیں بس وہ گندی جگتوں کا سہارہ لے کر تماشائیوں سے داد حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
دیکھا جاۓ تو پرڈیوسر بھی قصوروار ہیں جو صرف پیسہ کمانے میں لگے ہیں۔عزت اور میعار کی اُن کو کوئی پرواہ نہیں۔
اسی کے ساتھ مانیٹرنگ ٹیمیں بھی اس سسٹم کو بہتر بنانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔زیادہ ڈیپارٹمنٹ کا مانیٹرنگ ٹیم میں آجانے سے حالات یہ بن گیے ہیں کہ یہ سسٹم اب کسی کے کنٹرول میں نہیں۔
بہت سی لٹرکیاں سٹیج کی دنیا میں آئیں مگر بے حودہ کام کی وجہ سےبہت جلد گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئیں۔جن کا نام بھی شاید آج کسی کو یاد نہیں۔
جبکہ آج بھی کچھ ایسی لٹرکیاں موجود ہیں جو کہ فحاشی کو پروموٹ کرکے سٹیج پر اپنا نام بنانا چاہتی ہیں۔جب کے کچھ آچھی پرفارمنس والی لڑکیاں بھی اس شعبے میں آئیں جنہوں نے اپنی محنت سے سٹیج پر ایک الگ مقام بنالیا۔ان میں مہک نور، آفرین پری،نگار چودھری اور ہیر جٹ شامل ہیں۔
فیملیز نے اچھا ڈرامہ اور میعاری کام نہ ہونے کی وجہ سے سٹیج کا رُخ کرنا چھوڑ دیا۔کیونکہ ایک زمانہ تھا جب بچے بڑے سب مل کر میعاری ڈرامہ دیکھنے آتے تھے۔آج یہ سب فیملیز Tv پر آنے والے کامیڈی شو بہت پسند کرتے اور دیکھتے ہیں۔جن میں حسبِ حال اور خبرزار سفِ اول ہیں۔
جس دن ہمارا سٹیج فحش ڈانس اور گندی جملہ بازی سے آزاد ہو گیا اُس دن ماضی کی طرح سٹیج کی رونقیں بحال ہو جایئں گیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com