ہیروز کا ہیرو۔۔ حقیقی ہیرو۔۔استاد

ہیروز کا ہیرو۔۔ حقیقی ہیرو۔۔استاد
طاہر محمود آسی
ابتدائے آفزینش سے آج تک انسان نے علم و آگہی کی بے شمار منزلیں طے کی ہیں۔ پتھروں کے دور سے لیکر آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور تک زمانے نے کئی رنگ بدلے ہیں بہت کچھ سکھایا ہے اور سیکھا ہے۔ انسانی ایجادات اور دریافتوں نے عقلِ انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ہر ذی شعور علم کی اس ترقی اورحقیقت کو مسلمہ طور پر تسلیم کرنے سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر سکتاہے۔ علم نے ہی اس عالم رنگ و بُو کو گل و گلزار بنا یا ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کی بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو معاشرے سے کچھ لے نہ بلکہ خود سے تقسیم کرے اور یہ تقسیم کاری ایک استاد، ایک معلم اور ایک رہبر کے حصے میں آتی ہے۔ خود سیکھ کر اَوروں کو سکھانے والا اور ایک شمع سے سو شمعیں جلانے والا حقیقت میں استاد ہی ہوتا ہے۔ اسکے کئی روپ ہو سکتے ہیں کیونکہ منزلوں تک پہنچنے اور پہنچانے کیلئے ہزاروں نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی روپ بظاہر نظر آتے ہیں اور کئی روپ پس پردہ حقیقتوں کو روبروئے زمانہ لانے والی شخصیت در اصل ایک استاد ہے۔ جس کی خدمت کو سنہری حروف میں نہ لکھنا ایک بہت بڑی نا انصافی اور بے قدری ہے۔آج کرونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا میں تباہی پھیلائی ہوئی ہے۔ اس کی روک تھام اور سدِ باب کیلئے دن رات مختلف لیبارٹریوں اور ہسپتال میں کا م بامِ عروج پر ہے۔ ورلڈ لیول کی تنظیمیں اس کارِ خیر میں حصہ لے رہی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے سکالرز، یونیورسٹیوں کے اساتذہ، تحقیقی اداروں کے تحقیق کار مختلف طریقوں سے اس موذی وباء کی ویکسین بنانے کیلئے تجربات کر رہے ہیں۔سائنس دان اپنی جگہ پر متحرک نظر آتے ہیں۔ پوری دنیا پریشان بھی ہے اور کوشاں بھی ہے۔ان سب اداروں میں بیٹھی ہوئی اعلیٰ اور ارفع شخصیات کو زمانے میں ابتدائی بنیادوں سے لیکر حالیہ صورت تک پہنچانے اور متعارف کروانے میں کسی استاد کا ہاتھ اور جذبہ کار فرما ضرور ہے۔ ”استاد اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو آدمی کو جہالت اور اندھیرے سے نکال کر علم وتہذیب اور اخلاق و شائستگی کے نور اور اجالوں سے روشناس کروائے۔ انسانی زندگی کو بہار و نکھار عطا کرے۔ منزلوں کی طرف بڑھنے اور ان کے حصول کیلئے قوت و طاقت کا ہنر بخشے۔ علم و محبت کی دولت سے مالا مال کر دینے والی ہستی کے مقام کا یقین کرنا بلاشبہ ایک نہایت مشکل کام ہے۔ مقامِ معلم بہت بلند و ارفع ہے۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے کیونکہ علم کا نور اور تہذیب و اخلاق کی روشنی سے سرفراز کرتا ہے۔ قلب و نظر اور سیرت و کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کرنے میں ایک استاد کا کردار نہایت عظیم اور بلند و بالا ہے۔استاد کے مرتبے کو خود ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے یہ کہہ کر بلند فرمایا ہے کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ درس و تدریس کا ہنر اللہ تعالیٰ کو بھی بہت پسند ہے۔ اس عمل میں فرشتے راستوں میں نچھاور ہوتے ہیں اور مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔اس کا منصب بہت اعلیٰ اور اسکا کا م اسکے لئے جنت کی نوید ہے۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
اب آئے روز اخباروں، رسائل اور میگزین میں یہ پڑھ رہا ہوں کہ ڈاکٹرز ہیروز ہیں۔ نرسز ہیروز ہیں۔ پیرا میڈکس سٹاف ہیرو ہے۔ پاک فوج ہماری ہیرو ہے۔ صحافی ہمارے ہیرو ہیں۔ عدلیہ میں بیٹھے ججز اور وکلاء ہمارے ہیروز ہیں۔ کھلاڑی ہمارے ہیروز ہیں۔ مزدور ہمارے ہیروز ہیں۔پولیس ہماری ہیرو ہے۔ ریسکیو والے ہمارے ہیرو ہیں۔ رینجرز ہمارے ہیر وز ہیں۔ سیاستدان ہمارے ہیروز ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو بھی شعبہ ملک و ملت اور عوام کیلئے اچھی خدمات پیش کرتا ہے وہ عوام کے دلوں میں ایک مقام بنا لیتا ہے اور جو لوگ اپنے کردار و مقام سے لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں وہ ان لوگوں کیلئے ہیرو بن کر سامنے آتے ہیں۔اکثر گمنا م ہیروز کا نام ہی نہیں لیا جاتا کیونکہ وہ گمنام ہوتے ہیں۔ ہماری قوم آج ہیرو بنا کر اگلے ہی دن اس کی ٹانگیں کھینچ لیتی ہے۔کارنامے اور میڈلز کی توہین شروع کر دیتی ہے۔ قطع نظر اسکے کہ کون ہیرو ہے اور کون نہیں۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ہیروز کی بنیادوں میں لہو ہے ایک معلم کا ایک استاد کا جسے اللہ تبارک تعالیٰ نے منتخب کر کے اس کے ذمے یہ کام لگا دیا کہ تم زندگی بھر ہیروز کے تخلیق کار رہو گے۔کورے کاغذ کو تحریروں سے بھر دینے کا فن سکھانے والا اور گُنگ زبانوں کو زبانیں دینے والا فنکار ایک استاد ہی ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس بات سے انکاری ہے کہ ہم جو کچھ ہیں کسی نہ کسی استاد کی وجہ سے ہیں۔ کیا ڈاکٹرز بغیر استاد کے منزل تک پہنچا ہے۔ کیا فوج میں بیٹھے اعلیٰ افسران اور سپاہی کوئی استاد نہیں رکھتے ہیں۔کیا ججز اور وکلاء بغیر استاد کے اس اعلیٰ منصب تک پہنچے ہیں۔ کیا نرسز اور پیرا میڈکس کی منزلیں بغیر استاد کے طے ہوئی ہیں۔ کیا رینجرزاور پولیس کے اعلیٰ افسران بغیر کسی استاد کے کامیابیوں کے زینے پہ چڑھے ہیں۔ کیا ریسکیو والوں میں فنِ محبت و خدمت کا درس کسی استاد کا مرہونِ منت نہیں ہے۔ کیا ہر فنکار کے پیچھے ایک استاد فنکار نہیں ہوتا ہے۔ کیا ارسطو کا کوئی استاد نہیں تھا۔ کیا افلاطون نے بغیر کسی استاد کے اس منزل تک پہنچا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی ایسی ہستی ہے جو بغیر استاد کے کامیاب و کامران ہوئی ہو۔ زمانہ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ استاد معاشرے میں وہ ہستی ہے جسے حقیقی معنوں میں کردار ساز شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ایک مالی کی طرح پانی دیکر گل و گلزار ہوتا ہوا دیکھ کر خوش و خرم ہوتا ہے۔ استاد ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر آج زمانہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے تو اس میں استاد کی شخصیت کا ہاتھ ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ عظمت کا معیار کبھی دولت نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کی قدر عمل کے حسن ہے اور اس عظمت کے معیار کو چھونے کیلئے اساتذہ نے خونِ جگر دیا ہے۔ راتوں کی نیندوں کو قربان کیا ہے۔ استاد نے ہیرو بنائے ہیں۔ معیارِ زندگی کو بدلا ہے۔ روشنی پھیلائی ہے۔ اندھیروں میں چراغ جلائے ہیں۔ ہیرے تراشے ہیں۔ استاد اگرچہ بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ گر ضرور ہے۔ نظامِ زندگی کو سمجھانے میں اعلیٰ قدروں اور روایات کا امین ہے۔ کمال کو با کمال بنانے میں استاد کی محنت ضرور شامل ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے اساتذہ کی عزت کرتی ہیں وہ ہمیشہ ترقی اور کامرانی کی اعلیٰ ترین منازل کو چھو لیتی ہیں اور جن معاشروں میں استاد کی عزت اور تکریم نہیں ہوتی وہ آخرکار تباہی اور بربادی کا شکار ہو کر رہتی ہیں۔
آخر میں پھر یہی کہتا ہو ں کہ ہیروز کا ہیرو استاد ہے۔ جس کی فنِ کاریگری سے سب ہیرے تراشے گئے ہیں اور آج ملک و ملت انہیں اپنا ہیرو تسلیم کر رہی ہے۔ مان لو اور جان لو یقین کر لو اصل ہیرو ایک استاد ہے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے۔۔۔
تمہاری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com