حضرت شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ۰۰۱

حضرت شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ۰۰۱
تحریر: رانااعجاز حسین چوہان
پاکستان کے تاریخی شہر ملتان میں سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کے 706 ویں عرس کی تین روزہ تقریبات یکم جنوری 2020 ء سے شروع ہورہی ہیں، تقریبات کا آغاز سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی ( وزیر خارجہ پاکستان ) مزار کو غسل دے کر کریں گے۔ بر صغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ 9 رمضان المبارک 649ھ بمطابق1251 ء جمعتہ المبارک کے دن پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت کی خوشی میں آپ کے دادا شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ علیہ نے ملتان کے غرباء اور مساکین کے دامن زر و جواہر سے بھر دیے، عقیقہ کے موقع پر آپ کے سر کے بال تراشے گئے جو آج تک تبرکات میں محفوظ ہیں۔ آپ رحمتہ علیہ کا اسم گرامی رکن الدین رکھا گیا، آپ کے ادب و آداب سے متاثر ہو کر حضرت خواجہ شمس الدین سبزواری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو ’’رکن الدین والعالم‘‘ کا لقب دیا، بعد ازاں آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت شاہ رکن عالم کے نام سے مشہور ہوئے ۔ آپ حضرت شیخ صدرالدین عارف سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے فرزند، اور حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب صدر الدین عارف، بہاء الدین زکریا ملتانی، ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی، ضیاء الدین سہروردی، شیخ ابو عبد اللہ، شیخ اسود احمد نیوری، شیخ ممتاز علی دنیوری، خواجہ جنید بغدادی، خواجہ سری سقطی، خواجہ معروف کرخی، خواجہ داؤد طائی، خواجہ عجیب عجمی، خواجہ حسن بصری، حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی راستی جو کہ فرغانہ کے شاہ جمال الدین کی صاحبزادی اور فرغانہ کی شہزادی تھیں، زہد و تقویٰ کی وجہ سے رابعہ عصر کہلائیں۔ حافظ قرآن تھیں ، تلاوت قرآن مجید سے غیر معمولی شغف رکھتی تھیں روزانہ ایک قرآن مجید ختم کرتی تھیں۔ حضرت شاہ رکن عالم ابھی بطن مادر میں ہی تھے کہ حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی عید کا چاند دیکھ کر آپ کی والدہ کو سلام کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ آپ کی والدہ نے جب اس پر تعجب کا اظہار کیا تو انہوںنے فرمایا’’بیٹی! یہ تعظیم تیری نہیں بلکہ اس بچے کی ہے جو اس وقت تیرے بطن میں ہے اور جو جوان ہو کر میرے خاندان کا چراغ ہوگا‘‘۔ حضرت بی بی راستی جب حضرت شاہ رکن عالم کو دُودھ پلانے لگتیں تو پہلے وضو کر لیتی تھیں، اور چونکہ حافظ قرآن تھیں دودھ پلانے کے دوران قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دیتیں۔ دوران تلاوت اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت شاہ رکن عالم دودھ پینا چھوڑ دیتے ۔ بی بی راستی نے گھر کی خادماؤں کو حکم دے رکھا تھا کہ ننھے شاہ رکن الدین کو سوائے اسم باری تعالیٰ کے اور کسی لفظ کی تلقین نہ کی جائے ، اس احتیاط کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب آپ بولنے کے قابل ہوئے تو سب سے پہلے جو لفظ زبان مبارک سے نکلا وہ اللہ عزوجل کا اسم گرامی تھا۔
حضرت شاہ رکن عالم نے علوم ظاہری کی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور روحانی فیوض اپنے دادا حضور بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کئے ۔ یہ دونوں بزرگ آپ سے بے حد محبت رکھتے تھے اور شیخ شاہ رکن عالم بھی ان دونوں بزرگوں کا اس قدر ادب کرتے تھے کہ کبھی ان سے آنکھ اٹھا کر بات نہ کرتے اور نہ ان کے سامنے بلند آواز سے بولتے۔ حضرت شیخ شاہ رکن عالم کی عمر مبارک جب چار سال ہوئی تو شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی نے بسم اللہ شروع کی اور شیخ صدر الدین عارف نے قرآن مجید حفظ کروانا شروع کیا۔ حضرت شیخ شاہ رکن عالم کا معمول تھا کہ تین مرتبہ میںپائو سپارہ پڑھتے تھے اور وہ حفظ ہو جاتا۔ قرآن مجید حفظ کر لیا تو مدرسہ میں نابغہ روز گار علماء و مشائخ سے کسب فیض حاصل کیا۔ جب حضرت شاہ رکن عالم کی عمر چار سال تھی شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا چار پائی پر بیٹھے تھے اور دستار مبارک سر سے اتار کر چار پائی پر رکھ دی تھی۔ حضرت صدر الدین عارف پاس ہی مودب بیٹھے تھے کہ ننھے شاہ رکن الدین کھیلتے کھیلتے دستار مبارک کے قریب آئے اور اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لی۔ والد ماجد نے ڈانٹا کہ یہ بے ادبی ہے مگر دادا حضور نے فرمایا کہ صدر الدین پگڑی پہننے سے اس کو نہ روکو وہ اس کا مستحق ہے اور یہ پگڑی میں اس کو عطا کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ دستار مبارک محفوظ کر دی گئی اور شاہ رکن الدین عالم اپنے والد بزرگوار کے بعد مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو وہ دستار مبارک آپ کے سر پر رکھی گئی۔ ایک روز آپ کے والد ماجد دریا کے کنارے تشریف لے گئے ، ان کے ساتھ حضرت شاہ رکن عالم بھی تھے، شیخ صدر الدین نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اتنے میں ایک ہرن کا غول ادھر سے گزرا، اس میں ہرنی کا ایک بچہ بھی تھا۔ حضرت شاہ رکن عالم اس بچے کو پکڑنا چاہتے تھے لیکن وہ بچہ ہاتھ نہ آیا۔ نماز سے فارغ ہو کر شیخ عارف نے اپنے بیٹے کو قرآن پاک کا سبق دیا، ان کو دس مرتبہ پڑھنے پر بھی سبق یاد نہیں ہوا حالانکہ وہ تین مرتبہ پڑھ کے یاد کر لیتے تھے ۔ آپ نے وجہ معلوم کی، جب آپ کو ہرن کے غول اور بچے کا اس طرف آنا معلوم ہوا تو آپ نے پوچھا کہ وہ غول کس سمت گیا؟ بیٹے نے سمت بتائی، آپ نے اس طرف کچھ پڑھ کر پھونکا تو غول واپس آگیا۔ننے شاہ رکن عالم نے دوڑ کر اس بچے کو پکڑ لیا اور بہت خوش ہوئے اور اسی خوشی میں ایک سیپارہ حفظ کر لیا، اور ہرنی کو مع بچے کے خانقاہ لے آئے ۔ آپ سات سال کی عمر میں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کرنے لگے ۔حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی اس دوران آپ کو اپنے ساتھ رکھتے ۔ تہجد و اشراق، چاشت و اوابین اور دیگر نوافل آپ کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ۔ حضرت شیخ غوث بہاء الدین زکریا ملتانی ، حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر، حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت جلال الدین سرخ بخاری نے کئی تبلیغی دورے اکٹھے کئے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کم سن شیخ شاہ رکن عالم بھی ان کے ہمراہ ہوتے ۔ایک دن غوث العالمین نماز سے فارغ ہو کر دروازے کے قریب آئے تو دیکھا کہ قطب الاقطاب شاہ رکن عالم نے دوزخی اور جنتی نمازیوں کے جوتوں کی الگ الگ قطاریں لگا رکھی ہیں۔ عوام تو اس نکتہ کو کیا جانتے تھے ، خواص نے البتہ اپنے ذہنوں پر زور دینے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ نتیجہ نکالتے، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ نے جوتے غلط ملط کرا دیے اور باہر نکل کر پیار سے سمجھایا کہ بابا ایسا نہ کرو اللہ جل شانہ کے راز فاش کرنا ہمارے نزدیک گناہ ہے ۔
حضرت شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کا کم عمری سے ہی معمول تھا کہ وہ رات کے پچھلے پہر بیدار ہو کر تہجد کی نماز ادا کرتے ۔ تہجد کی نماز سے فراغت کے بعد ذکر و اذکار میں مشغول ہو جاتے اور فجر کی نماز تک ذکر و اذکار میں مصروف رہتے ۔ فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد ظہر کی نماز تک عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے اور آپ کا یہ معمول ساری زندگی قائم رہا۔ 695 ھ میں قطب الاقطاب حضرت شیخ شاہ رکن عالم کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی راستی وصال فرما گئیں۔709 ھ میں عارف باللہ حضرت شیخ صدر الدین عارف بھی اس جہان فانی سے کوچ فرما گئے ۔ عارف باللہ حضرت شیخ صدر الدین عارف کے وصال کے بعد قطب الاقطاب حضرت شیخ شاہ رکن عالم مسند نشین ہوئے اورحضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کی عطا کردہ دستار مبارک سر پر رکھی، اور امیر المومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا وہ خرقہ زیب تن کیا جوشیخ شہاب الدین سہروردی کے توسل سے ان کے آبائو اجداد اور پھر ان تک پہنچا تھا۔ حضرت شیخ شاہ رکن عالم جب مسندنشین ہوئے تو اس وقت پاکپتن میں شیخ علائو الدین چشتی نے پاکپتن کی سرزمین کو رشک فردوس بنا رکھا تھا اور دہلی میں محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء مسند نشین تھے جو کہ روحانی طور پر دہلی کے تاجدار تھے ۔ بلاشبہ یہ ان تینوں حضرات کی محنتوں اور کاوشوں کا صلہ تھا جس کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند میں کفر کے اندھیرے ایمان کی روشنیوں میں تبدیل ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو راہ راست پر لانے میں دل و جان سے خدمت کی۔ 36 سال کی عمر میں جب حضرت شاہ رکن عالم اپنے والد بزرگوار کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے تو ہر گوشہ سے لوگ خدمت میں حاضر ہو کر فیض یاب ہوئے ، جو بھی سائل آتا حاجت روائی ضرور فرماتے ۔ مجلس میں جس کے دل میں کوئی بات آتی تو آپ کو اس کا کشف حاصل ہو جاتا اور اس کی دلجوئی فرماتے ۔ شیخ شاہ رکن عالم کے عوام کے علاوہ بادشاہوں سے بھی اچھے تعلقات تھے اور امرا بھی آپ کے معتقد اور غلام تھے ۔ حضرت شیخ رکن عالم نے اسلاف کے طریقت کو کمال تک پہنچا یا، آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے ، آپ کی بے شمار کرامات آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ شیخ الاسلام حضرت شیخ غوث بہاء الدین زکریا ملتانی کشف و کرامات کے سلسلے میں حد درجہ محتاط تھے اور فرمایا کرتے تھے انبیاء کرام کو معجزات کا اظہار واجب اور اولیاء کرام کا کرامات کو چھپانا واجب ہے ۔
حضرت شیخ شاہ رکن عالم کی غذا بہت ہی قلیل تھی، ایک پیالہ دودھ میں کچھ میوے ڈال کر اسی سے چند لقمے تناول فرماتے، گھر والوں نے ایک طبیب سے قلت غذا کی شکایت کی طبیب نے غذا مانگوا کر دیکھی اور اس میں سے چند لقمے خود کھائے ، کھانے کے بعد اس نے گرانی محسوس کی اور کہا اب سات دن کھانے کی حاجت نہ ہو گی کونکہ بزرگوں کے کھانے میں کمیت سے زیادہ کیفیت ہوتی ہے ۔ قطب الاقطاب حضرت شاہ رکن عالم کا شمار بھی ان نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تمام زندگی دین اسلام کی نشر و اشاعت اور مخلوق خدا کی خدمت کے لئے وقف کردی۔ برصغیر میں حضرت شاہ رکن عالم نے ایسے روحانی اور علمی کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیںجو رہتی دنیا تک اسلام کی حقانیت کو عام کرتے رہیں گے۔ آپ فرماتے کہ جب تک کوئی شخص اوصاف ذھیمہ سے پاک نہیں ہوتا اس کا شمار جانوروں اور درندوں میں سے ہے ، اور جسم تو پانی سے پاک ہو جاتا ہے مگر دل کی آلودگی آنکھوں کے پانی سے دور ہوتی ہے ۔ حضرت شیخ شاہ رکن عالم 16 رجب المرجب بمطابق 735 ھ بروز جمعرات نمازمغرب سے فارغ ہونے کے بعد صلوٰۃ اوابین ادا فرما رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو سر سجدے میں رکھ دیا، اسی وقت محبوب کا بلاوا آیا اور روح پرواز کر گئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو آپ کے دادا حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں دفن کیا گیا۔ آپ کی تدفین کے چند دن بعد حضرت بہاء الدین زکریاؒ شیخ صدر الدین محمد کے خواب میں آئے اور فرمایا ’’ آپ نے قطب الاقطاب کو میری پائینتی میں دفن کر دیا، مجھے سخت تکلیف ہو رہی ہے ۔ آپ انہیں سامنے دوسرے مقبرے میں دفن کریں تا کہ میں آرام سے رہ سکوں‘‘۔ حکم واضح تھا، اور سامنے غیاث الدین تغلق کا مقبرہ تھا، یہ مقبرہ تعمیر اور عقیدت کی عظیم داستان تھا۔ غیاث الدین تغلق نے یہ مقبرہ حضرت غوث العالمین کے قرب میں دفن ہونے کی خاطر اپنے ذاتی خرچ سے تعمیر کروایا تھا مگر اتفاق سے سلطان کی موت دہلی میں واقع ہوئی، اور سلطان کو دہلی میں ہی دفن کردیا گیا۔ سلطان کے جانشین محمد شاہ تغلق نے جو کہ شاہ رکن عالم کا معتقد تھا مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم کو دے دیا۔ حضرت شاہ رکن عالم اسے عبادت گاہ کے طور پر استعمال فرماتے رہے مگر محض اس خیال سے کہ ممکن ہے اس کی تعمیر بیت المال کے روپے سے کی گئی ہو دفن ہونا پسند نہ فرمایا۔حسن اتفاق سے غیاث الدین تغلق کا صاحبزادہ اور ہندوستان کا بادشاہ فیروز شاہ تغلق عین اس دن سندھ سے واپس دہلی جا رہا تھا جب وہ ملتان میں رکا، ملتان کے عمائدین نے اسے حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کا خواب سنایا، تو اس نے اس بات کا یقین دلایا کہ اس مقبرہ کی تعمیر بیت المال سے نہیں ہوئی بلکہ سلطان غیاث الدین تغلق نے اپنی ذاتی آمدنی سے جب کہ وہ دیپال پور کے گورنر تھے تعمیر کرایا تھا لہٰذا اس نے عمائدین کے ساتھ قبرکشائی کی، حضرت شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کے جسد مبارک کو کندھا دے کر والد کے خالی مقبرے تک لایا اور اپنے ہاتھوں سے ان کی تدفین کی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، یہ مقبرہ مقبرہ نہیں رہا، بلکہ قطب الاقطاب حضرت شیخ شاہ رکن عالم کا مزار بن گیا۔ حضرت شیخ شاہ رکن عالم نے جہاں علم وعمل اور سیرت و کردار کے مجسم پیکر بن کر لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرکے برصغیر میں اسلام کی حقانیت کا بول بالا کیا، اور پورے خطہ سرزمین کے لیے رحمت کا باعث بنے، وہاں ان کا یہ مزار بھی دنیا بھر میں ملتان کی پہچان بنا،جس کی تاریخی اور تعمیری خصوصیات کے باعث ملتان کو قدیم عظمت کا نشان کہا جاتا ہے ۔ اسلامی فن تعمیر کا حسین شاہکار مزار کا یہ گنبد ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا گنبدہے جو کہ اپنی خوبصورتی کے باعث زائرین کی نگا ہوں کو خیرہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com