ہمارے ابوجان

تحریر:مجیداحمد جائی
میں ادب کا طالب علم ہوں اور تاریخ اردو ادب کی ورق گردانی کرتا رہتا ہوں۔میں متفکر ہوں کے دُنیائے ادب میں ماں کی عظمت پر دیوان لکھ دئیے گئے لیکن باپ کو یکسر فراموش کر دیا گیا۔خواتین تو خواتین ،مردوں نے بھی ماں کے قصیدے لکھے لیکن باپ کو بھول گئے ۔کتنی تعجب وحیرت کی بات ہے ،باپ نے بھی باپ کے لیے لکھنا گوارہ نہ کیا۔قرآن مجید میں فرمایا گیا :والدین کے ساتھ حسن وسلوک سے پیش آﺅ،احسان کرولیکن خرافات کی دُنیا نے نجانے کیوں ایک کو یاد رکھا اور دوسرے کو بھولا دیا۔
قدرت اللہ شہاب ”ماں جی “ضیا شاید نے ”امی جان “لکھی اور ”عجمی کے مطالعے قرآن “لکھنے والے پروفیسر نے بھی ”میرے اماں جان “لکھی ۔اسی طرح تحقیق کریں تو بات بہت دور تک جاتی ہے ۔ایسی بہت سی کتب نظروں سے گزرتی ہیں ،جو ماں جی کے بارے لکھی گئیں لیکن کسی نے ”ابوجی “باباجانی “ابوجان “نہ لکھی ۔نجانے کیوں ؟
باپ ،پیارو محبت کا ایک روپ ہے ۔شفقت کا پیکر ،درسِ محبت واخلاق ہے ۔باپ کا سایہ شجر کی مانند ہے ۔باپ تو گھر کی چھت ہے ۔باپ کی خدمت غم ورنج سے راہ نجات ہے ۔باپ دوست ہے ،باپ دُکھ ،درد کا ساتھی ہے ۔باپ کی قربت خوش بختی کی علامت ہے ۔باپ درنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی کی وجہ ہے ۔باپ ،بارگاہ الہیٰ میں سر تسلیم خم ہونے کا ذریعہ ہے ۔باپ کی خوشنودی حصول ِجنت کا راستہ ہے ۔ماں ،کے قدموں تلے جنت ہے تو باپ جنت کے دروازوں میں ایک دروازہ ہے ۔
”میرے ابو جان “کتاب کا نام ہے ۔پہلی بار اس کتاب کا نام سماعتوں سے ٹکرایا تو میری روح تک سر شار ہو گئی ۔دل خوش ہوا ، کوئی تو ہے جس نے باپ کے حوالے سے کتاب لکھی ۔کاش !یہ کتاب ،اُس باپ کی زندگی میں لکھی جاتی ۔لیکن یہ کیا کم ہے کے اُس باپ کی اولاد نے ،باپ کو خراج تحسین اور صدقہ جاریہ بنتے ہوئے ،قرآن و حدیث کی روشنی میں ،باپ کی قدرواہمیت کو واضح کرکے ،کتاب لکھ دی ۔یہ اولاد ،باپ کی زندگی میں ،اُس کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا رہی اور اُمید ہے باپ کے چلے جانے کے بعد بھی اُس کے صدقہ جاری بنی رہے گی ۔
”ہمارے ابو جان “کو مرتب کرنے والے کا تصور آتے ہی ،میں یادوں کی وادی میں غوطہ زن ہو جاتا ہوں۔ ۔اب سمجھ آیا ہے حسیب اعجاز عاشر کے پیچھے ایک ولی صفت باپ کا ہاتھ ہے ۔یہ سنا اور پڑھا کے ایک کامیاب مر دکے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن یہاں تدبیریں الٹ ہو جاتی ہیں ۔یہاں ایک کامیاب بیٹے کے پیچھے ایک باپ کا ہاتھ ہے ۔
”ہمارے ابو جان “کے سرورق پر کسی مصنف کا نام نہیں ہے کیونکہ ایک باپ کی اولاد نے اسے لکھا ہے ۔ایک ولی صفت کی زندگی کوقرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھا گیا ہے ۔اس باپ کی اولاد میں سے ،میں اس کے بڑے بیٹے کو جانتا ہوں ۔یہ کتاب ،ایک کمال کتاب
ہے۔یہ کسی ایک باپ کی زندگی کا احاطہ نہیں کرتی،بلکہ ہر اس باپ کی زندگی کا نمونہ ہے جس نے قرآن و حدیث کے مطابق حیات بسر کی ۔
”ہمارے ابو جان “کے بارے میں ڈاکٹر سعید احمد سعیدی لکھتے ہیں :”ہمارے ابو جان “کتنی کشش،کتنی اپنائیت ،کتنی محبت ،کتنا خلوص ہے ان الفاظ میں ۔اگر میں یہ کہوں کہ میری اور آپ کی کل کائنات ہیں یہ الفاظ ،تو غلط نہ ہو گا۔میرے اور آپ کے فخر اور خطاب ہیں یہ الفاظ ۔ان الفاظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا نام تک محتاج ہے ان کا ۔یہ تعارف ہیں اس عظیم ہستی کا جو اپنا سب کچھ قربا ن کر دیتا ہے ۔ہماری چھوٹی سی مسکراہٹ کے لیے ۔یہ ہے وہ عظیم ہستی جو ہم کو اپنے سے زیادہ کامیاب دیکھنا چاہتی ہے ۔
”میرے ابو جان “ایک ولی صفت انسان محمد اعجاز احمد قریشی کی زندگی کا مکمل احاطہ کرتی ہے ۔اس کے پانچوں بچوں نے اپنے اپنے خیالات و احساسات کا اظہار کیا ہے ۔کتنا عظیم باپ تھا جس نے اپنے بچوں کوبرابر پیار ومحبت دیا ،ان کی زندگیاں سنوار دی اور اب یہ بچے اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں اور معاشرے کو سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ایک بیٹا حافظ قرآن ہے ،دو بیٹیاں قرآن و حدیث کا درس دیتی ہیں ۔
”میرے ابو جان“کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی بار آنکھوں سے آنسوﺅں نے بغاوت کی ۔دل تڑپ اٹھا ۔ضمیرنے جھنجھوڑا اور روح نے بے قرار کیا۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ،رخساربھیگے ،اوراق بھیگے ،تکیہ بھیگا اور ساتھ ساتھ میں خود بھی اس سیلاب میں ڈوب گیا۔اپنا محاسبہ کرتا رہا ،ارادہ کیا کے باقی کی زندگی اس کتاب کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق گزاروں گا۔میں جو باپ کی محبت کے لیے تڑپ رہا ہوں ،میری قسمت میں باپ کا پیار نہیں تھا ۔ بہت جلدی آپ اس جہان سے حقیقی جہان چلے گئے ۔اللہ تعالیٰ حقیقی جہان جانے والوں کی مغفرت فرمائے آمین ۔!
”ہمارے ابو جان “ایک باپ کی سیر ت پر مشتمل ہے جس نے صرف اپنی اولاد کی زندگیاں ہی نہ سنواریںبلکہ معاشرے میں ہر بسنے والے بیٹے ،بیٹی اور باپ کی زندگیاں سنواری۔آپ اور میں بھی اس کا مکمل مطالعہ کرکے خودکو سنوار سکتے ہیں ۔ایک اچھے باپ ،ایک اچھا بیٹا ،ایک اچھی بہن ،بیٹی ،ماں اور ایک اچھابھائی بن سکتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کے ایک باپ ،اپنی اولاد کے لیے کتنی قربانیاں دیتا ہے ۔اپنے بچوں کے لیے جیتا ہے ۔اپنے بچوں کے دین و دُنیا کی فکر میں کوشاں رہتا ہے ۔اپنے آپ کو قرآن و حدیث کی مکمل تفسیر بنا کر پیش کرتا ہے ۔اے باپ !اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرما کر جنت کے اعلی محلوں میں محل عطا فرمائے آمین۔!
”ہمارے ابو جان “میںزندگی بسر کرنے کے اچھے اچھے طریقے ،بیماریوں کا علاج ،ہمسائیوں کے حسن وسلوک ،دوستوں سے رویہ ،بیوی وبچوں کے ساتھ حسن و سلوک ،اخلاق وعادات سنوارنے کے اچھے اچھے طریقے موجود ہیں ۔آپ ایک اچھے باپ بننا چاہتے ہیں تو اس کا مطالعہ ضرور کیجئے۔
”ہمارے ابو جان “اکتوبر 2020ءمیں پاکستان ادب پبلشرز نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے ۔224صفحات پر مشتمل کتاب کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔فی سبیل اللہ ہے جہاں تک پہنچے ۔یوں تو پوری کتاب اعلی اور بہترین ہے لیکن آخری باب میں ایک باپ کی زندگی کے جو پہلوں بیان ہوئے ہیں کمال ہیں ۔آخر میں چالیس احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دی گئی ہیں ۔پورے دل سے دعا ہے کے اللہ تعالیٰ محمد اعجاز احمد قریشی کو جنت الفردوس میں کروٹ کروٹ راحت و سکون عطا فرمائے ۔اس کی اولاد کو ہر مقام پر سرخروکرتے ہوئے کامیاب و کامران کرے ۔اس کتاب کو پڑھنے والے کی زندگی سنوار دے اور صراط والے راستے پر گامزن کرے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے اور اس کتاب کو ہمارے لیے باعث نجات بنائے ۔آمین ثم آمین ۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com